’ہائی کورٹ پاناما کیس کو دوبارہ ٹرائل کے لیے بھیج سکتی ہے‘

ویڈیو سکینڈل
Image caption چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ احتساب عدالت کے سابق جج نے ایسی حرکت کی تب ہی وڈیو بنائی گئی

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کے فیصلے دینے والے جج ارشد ملک کے ویڈیو سکینڈل مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیے گئے ان فیصلوں کو از سر نو ٹرائل کے لیے بھیج سکتی ہے۔

23 جولائی کو تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایک کیس (العزیزیہ ریفرنس) میں سزا دی دوسرے (فلیگ شپ ریفرنس) میں بری کیا۔ چیف جسٹس کھوسہ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ابھی تک اس ویڈیو سے متعلق کوئی بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نہیں گیا۔

یہ بھی پڑھیے

جج کو کام سے روکنے کا حکم مگر ن لیگ کا مسئلہ عدالتی فیصلہ

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو بنانے والا شخص گرفتار

مریم نواز نے جج ارشد ملک کی دو مبینہ ویڈیوز جاری کر دیں

ویڈیو سکینڈل: ’یہ چیئرمین نیب کے خلاف پراپیگنڈا ہے‘

یاد رہے کہ چیف جسٹس آصف کھوسہ سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی پانامہ بینچ کے سربراہ تھے جس نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو ’قابل وصولی تنخواہ‘ (اقامہ) ظاہر نہ کرنے کی پاداش میں نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے اور اس کے بعد ٹرائل کورٹ نے بھی انھیں دو بار جیل کی سزا سنائی۔

ٹرائل کورٹ کے جج ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ایک لیگی کارکن ناصر بٹ کو سابق وزیر اعظم کے خلاف فیصلوں میں ’دباو‘ سے متعلق تفصیلات بتا رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو احتساب عدالت سے ہٹا کر واپس وزارت قانون کو بھیج دیا۔

منگل کو ویڈیو سکینڈل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اس بارے میں ریلیف فراہم کرسکتی ہے کیونکہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی طرف سے جو اُنھیں العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی اس کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rehan Dashti
Image caption چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ احتساب عدالت کے سابق جج نے ایسی حرکت کی تب ہی وڈیو بنائی گئی

چیف جسٹس نے یہ سوال اُٹھایا کہ کیا سپریم کورٹ کو معاملے میں مداخلت کرنی چاہئیے اور کیا مداخلت کا فائدہ ہوگا یا صرف خبریں بنیں گی؟ بینچ میں شامل جج عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ فریقین کے الزامات کی حقیقت کو جاننا چاہتی ہے۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق دائر درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا ہے کہ عدالت عظمیٰ اس معاملے کو مفاد عامہ کے قانون کے تحت نہیں سن سکتی۔

حکومت نے موقف اختیار کیا کہ اگر اس بارے میں عدالتی کمیشن بھی بنایا گیا تو یہ کمیشن اپنی رائے ہی دے سکتا ہے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔

منگل کے روز احتساب عدلت کے جج کی مبینہ ویڈیو سے متلعق درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ اس مبینہ ویڈیو سے متعلق کارروائی کے لیے متعدد متعلقہ فورمز موجود ہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے احتساب عدالت کے جج سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اس سارے معاملے میں احتساب عدالت کے جج کے رویے سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔

بینچ کے سربراہ نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ ارشد ملک کی طرف سے درج کروائے گئے مقدمے سے متعلق رپورٹ تین ہفتوں میں پیش کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ آنے کے بعد ائندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے میں اندھیرے میں تیر نہیں چلائے گی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال اُٹھایا کہ کیا جج کا سزا دینے کے بعد مجرم کے گھر جانا درست عمل تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سارے معاملے میں دیکھنا ہوگا کہ جج کی تضحیک ہوئی یا ان پر لگایا گیا الزام سچ تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اٹارنی جنرل نے اس ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا کہ ارشد ملک کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ الگ الگ کی گئی

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اس معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جو آپشنز دیے ہیں ان میں پہلا آپشن ایف آئی اے کا، دوسرا نیب قانون کا، تیسرا آپشن تعزیرات پاکستان اور چوتھا پیمرا قانون کا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پانچواں آپشن حکومتی کمیشن اور چھٹا آپشن جوڈیشل کمیشن کا ہے۔

اٹارنی جنرل نے اس ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا کہ ارشد ملک کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ الگ الگ کی گئی۔ جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پریس کانفرنس میں پیش کی جانے والی وڈیو جعلی تھی؟ اُنھوں نے کہا کہ آڈیو وڈیو کو مکس کرنے کا مطلب ہے اصل مواد نہیں دکھایا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر جج صاحب کہتے ہیں وڈیو اصل نہیں تو اصل وڈیو ’ریکور‘ ہونی چاہئیے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اصل وڈیو ریکور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سال 2000 سے 2003 کے دوران وڈیو بنائی گئی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ احتساب عدالت کے سابق جج نے ایسی حرکت کی تب ہی وڈیو بنائی گئی۔ اُنھوں نے کہا کہ بطور جج ارشد ملک کو ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئیے تھی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جج نے مریم نواز کی جانب سے جاری وڈیو کے کچھ حصوں کی تردید کی ہے۔

آج سماعت کے موقع پر نہ تو کوئی خصوصی پاسز جاری کیے گئے اور نہ ہی سیکیورٹی کے کوئی غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے۔ اب اس مقدمے کی سماعت ایف آئی اے رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔

اسی بارے میں