خیبر پختونخوا: قبائلی علاقوں کے انتخابات میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح پر سوالات

پاکستانی خواتین

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں انتخابات کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی شرح کے مطابق کم سے کم دو حلقے ایسے ہیں جہاں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح 10 فیصد سے کم ہے لیکن الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق وہاں ووٹ ڈالنے کی شرح کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔

قبائلی علاقوں میں مردوں کے ووٹ ڈالنے کی شرح نکالنے کے لیے فارمولا کچھ اور ہے جبکہ خواتین کے ووٹ ڈالنے کا تناسب مختلف طریقے سے نکالا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے حلقہ پی کے 112 میں مردوں کے کل ووٹوں کی تعداد 1,17811 ہے اور یہاں کل ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 31,910 ہے۔

شرح کے تعین کے لیے عام طور پر جو فارمولا استعمال ہوتا ہے اس کے تحت ڈالے گئے ووٹ کو کل ووٹوں سے تقسیم کر کے 100 سے ضرب دی جاتی ہے اور اس حساب سے یہ شرح 27 فیصد سے کچھ زیادہ بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’بیشتر خواتین کو معلوم نہیں تھا کہ ووٹ کیسے ڈالا جاتا ہے‘

قبائلی علاقوں مں انتخابات: تحریک انصاف کو سبقت

صوبائی انتخابات: قبائلی عوام کا مستقبل کیا ہوگا؟

’قبائلیوں کو بھی سہولت گھر کی دہلیز پر ملنی چاہیے‘

اب اسی حلقے میں خواتین کے کل ووٹوں کی تعداد 61,313 ہے اور یہاں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 4,470 ہے اس کے لیے اگر مردوں والا فارمولا استعمال کیا جائے تو جواب 3.7 آئے گا لیکن الیکن کمیشن کی ویب سائٹ پر یہ 03.12 لکھا گیا ہے۔

اب یہ حساب کتاب میں کچھ غلطی ہوئی ہے یا دانستہ طور پر ایسا کیا گیا ہے اس بارے میں الیکشن کمیشن سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔

بی بی سی نے الیکشن کمیشن پشاور اور اسلام آباد کے ترجمانوں کو پیغامات بھی بھیجے لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اسی طرح ضلع خیبر کے حلقہ پی کے 107 میں خواتین کے کل ووٹوں کی تعداد 92,450 ہے جبکہ یہاں کل 6,498 ووٹ ڈالے گئے۔

اس اعتبار سے ووٹ ڈالے جانے کی شرح سات فیصد بنتی ہے لیکن الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جو فارمولا استعمال کیا گیا اس میں یہ شرح 17 فیصد سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے قانون کے تحت جس حلقے میں خواتین کے ووٹ ڈالے جانے کی شرح دس فیصد سے کم ہو گی وہاں پولنگ دوبارہ ہو گی۔

اس کے برعکس الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے قبائلی علاقوں میں انتخابات میں تمام حلقوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ووٹ ڈالنے کا مجموعی تناسب 4۔26 رہا جس میں مردوں کے ووٹ ڈالنے کی شرح 4۔31 جبکہ خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح 6۔18 رہی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پی کے 109 کرم کے رجسٹرڈ ووٹوں میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح 5۔44 رہی جو کہ سنہ 2018 میں کے عام انتخابات میں چترال میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔

اب اگر ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد دیکھی جائے تو اس کے تحت یہ تناسب 6۔40 ہی رہ جاتا ہے جو قبائلی علاقوں میں خواتین کی شرح کے حوالے سے کافی حد تک بہتر ہے۔

اسی بارے میں