اداکار محسن عباس حیدر کے خلاف مقدمہ درج

Instagram تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM

پاکستانی اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر کے خلاف ان کی اہلیہ کی شکایت پر انھیں 'پستول کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکی' دینے اور 'امانت میں خیانت' کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تاہم لاہور کے تھانہ ڈیفینس سی میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں تشدد یا گھریلو تشدد کے حوالے سے دفعات شامل نہیں ہیں۔

حال ہی میں محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے ان پر تشدد کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس کے بعد مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز نے خود کو محسن عباس حیدر سے علیحدہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'جب تک وہ اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرتے دنیا نیوز ان کے ساتھ کام نہیں کرے گا۔'

یہ بھی پڑھیے

محسن حیدر پر اہلیہ کے گھریلو تشدد کے الزامات، گلوکار کا انکار

پاکستان میں گھریلو تشدد کی پردہ پوشی کیوں؟

یاد رہے کہ محسن عباس حیدر دنیا نیوز کے پروگرام ’مذاق رات‘ کے میزبانوں میں شامل تھے۔ وہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اہلیہ کی جانب سے عائد تشدد کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM

تشدد کے الزامات

ایف آئی آر کے مطابق ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے پولیس کو بتایا کہ محسن عباس حیدر سے ان کی شادی چار سال قبل ہوئی اور 'ان کے ساتھ ان کے شوہر کا سلوک کبھی بھی اچھا نہیں تھا' اور یہ کہ ان کے شوہر نے 'مختلف اوقات میں انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا' جس میں تازہ ترین رواں ماہ کے اوائل میں ہوا۔

ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ محسن عباس حیدر نے گذشتہ برس نومبر میں فاطمہ سہیل کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی میڈیکل رپورٹ 26 نومبر کو بنوائی گئی اور اسے پولیس کو حال ہی میں دی جانے والی درخواست کے ساتھ لف کیا گیا ہے۔

فاطمہ سہیل نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کے بعد 'روزانہ کی بنیاد پر تشدد کرنا اور غلیظ گالیاں دینا معمول بن گیا۔' انھوں نے 'مختلف اوقات میں کیے جانے والے جسمانی تشدد' کی تصاویر بھی درخواست کے ساتھ لگائی تھیں۔

تاہم پولیس نے جو مقدمہ درج کیا ہے اس میں جسمانی تشدد وغیرہ کی دفعات شامل نہیں ہیں۔ یہ مقدمہ زیرِ دفعہ 406 اور 506 بی درج کیا گیا ہے جو بالترتیب 'امانت میں خیانت' اور 'دھمکی دینے' پر لاگو ہوتے ہیں۔

مقدمہ میں جسمانی تشدد کی دفعہ کیوں شامل نہیں؟

اسسٹنٹ سپرنٹنڈینٹ انویسٹیگیشن کینٹ ایریا لاہور محمد عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ 'سائلہ فاطمہ سہیل کی جانب سے جسمانی تشدد کے حوالے سے کوئی تازہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'گھریلو تشدد تب ثابت ہوتا ہے جب اس کا میڈیکل ہو۔ اس کی بنیاد پر ہی معائنہ کرنے والا ڈاکٹر پولیس کو تجویز کرتا ہے کہ کون سی دفعات لاگو ہوتی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایف آئی آر کے مطابق فاطمہ سہیل نے درخواست میں پولیس کو کہا ہے کہ وہ محسن عباس حیدر کے خلاف 'تعزیراتِ پاکستان کے تحت 406 اور 506 بی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرے۔'

پولیس کے مطابق 'سائل کے کہنے پر ہی یہ دفعات مقدمہ میں شامل کی گئی ہیں۔ 'پولیس سائل کو تازہ میڈیکل کروانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔'

محسن عباس پر مقدمہ کن الزامات پر درج کیا گیا؟

تھانہ ڈیفنس سی لاہور میں درج ایف آئی آر میں محسن عباس حیدر کے خلاف جن الزامات کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی گئی ہے ان میں امانتً دی گئی رقم میں خیانت، قتل کی دھمکی، غیر عورت سے تعلقات اور ذہنی اور جسمانی تشدد شامل ہیں۔

ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے الزام عائد کیا ہے کہ محسن عباس حیدر کی طرف سے 'سخت ذہنی اور جسمانی دباؤ میں آ کر انھوں نے اپنے والد سے ایک کروڑ روپے کی ڈیمانڈ کی جس پر ان کے والد نے 50 لاکھ دے دیے۔'

فاطمہ سہیل نے پولیس کو دی جانے والی درخواست میں لکھا کہ محسن عباس حیدر نے یہ پیسے کاروبار میں لگانے کے لیے مانگے تھے تاہم ان کے بار بار اصرار کے باوجود انھوں نے نہیں بتایا کہ یہ رقم کہاں اور کس کاروبار میں استعمال ہوئی۔

انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ 'محسن عباس حیدر نے ان کے نکاح میں ہوتے ہوئے کھلے عام ایک خاتون سے ناجائز تعلقات استوار کر لیے۔'

ایف آئی آر میں انھوں نے مزید کہا ہے کہ رواں ماہ کی 17 تاریخ کو انھوں نے تنگ آ کر محسن عباس حیدر سے علیحدگی اور رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انھوں نے 'ایک مرتبہ پھر ان پر جسمانی طور پر زدوکوب اور تشدد کرنا شروع کر دیا۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'محسن عباس حیدر نے پستول تان کر انھیں اور ان کے بھائی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

'واضح شواہد ملے تو گرفتار کریں گے'

ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ ایریا لاہور محمد عاصم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'اگر محسن عباس حیدر کے خلاف لگائے گئے الزامات کے حوالے سے واضح شواہد ملے تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔'

تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز لاہور کی ایک سیشن عدالت نے محسن عباس حیدر کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ ماہ کی پانچ تاریخ تک پولیس کو انھیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

دوسری جانب فاطمہ سہیل کے وکیل بیرسٹر احتشام کا دعوٰی ہے کہ 'محسن عباس حیدر کے خلاف اپنی اہلیہ پر تشدد کرنے کے گواہان اور مضبوط شواہد موجود ہیں۔'

محسن عباس اپنے دفاع میں کیا کہتے ہیں؟

ان کے خلاف اہلیہ کی جانب سے الزامات سامنے آنے کے بعد محسن عباس حیدر نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'وہ جس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں خواتین کی عزت کی جاتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا جس کو ان کی اہلیہ میڈیا پر لے کر آئیں۔' انھوں نے جسمانی تشدد جیسے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ 'شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ انھیں یہ شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔'

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز عدالت میں پیشی کے موقع پر محسن عباس حیدر نے ایک مرتبہ پھر اہلیہ پر تشدد کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ اس معاملے کو عدالت میں لے کر آئی ہیں، اب یہیں فیصلہ ہو گا۔'

اسی بارے میں