’کارگل میں اتنی ہلاکتیں ہوئیں جتنی مشرقی پاکستان میں بھی نہیں ہوئی تھیں‘

کارگل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کارگل آپریشن کے بارے میں انڈیا اور پاکستان میں کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ اس کی لڑائی کے 20 برس کی تکمیل پر بی بی سی نے اپنی خصوصی سیریز کے سلسلے میں پاکستانی صحافی اور مصنفہ نسیم زہرہ سے بات کی جنھوں نے گذشتہ برس اس بارے میں ایک کتاب 'فرام کارگل ٹو دی کُو - ایونٹس دیٹ شاک پاکستان' تحریر کی ہے۔

نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ ابتدائی طور پر تو کارگل کا منصوبہ یہی تھا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیرمیں پہاڑ کی کچھ چوٹیوں پر قبصہ کیا جائے اور پھر وہاں سے سرینگر لیہہ ہائی وے پر حملے کر کے اس سڑک کو بند کیا جائے۔

کارگل کی سیریز کے حوالے سے مزید پڑھیے

’کارگل کی ذمہ داری کبھی کسی پر عائد نہیں کی جائے گی‘

پاکستانی فوجی جس کی بہادری کا دشمن بھی قائل ہوا

ان کے مطابق یہ سڑک کشمیر میں تعینات انڈین فوجوں تک سپلائی پہنچانے کا اہم ترین بلکہ واحد راستہ تھا۔ کارگل حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے پاکستانی جرنیلوں کا خیال تھا کہ اس سے حالات بگڑ جائیں گے اور انڈیا کشمیر پر بات چیت کے لیے مجبور ہوجائے گا۔ لیکن جس طرح وہاں پاکستانی فوجیوں نے لڑائی لڑی وہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ تھا۔

' کارگل کے حوالے سے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پر پاکستانی فخر بھی کرسکتے ہیں اور رنج بھی۔ فخر اس لیے کہ جس طرح یہ نوجوان فوجی گئے اور17، 18 ہزار فٹ کی بلندی پر چٹیل پہاڑوں پر سردیوں میں جا کر جس طرح اور جن حالات میں وہ بہادری سے لڑے ہیں۔ لیکن یہ بھی تو سوال اٹھتا ہے کہ (انھیں) کس لیے بھیجا گیا تھا؟'

نسیم زہرہ بتاتی ہی کہ 'پاکستانی فوجیوں نے (ابتدائی طور پر) انڈین فورسز کوشدید نقصان پہنچایا تھا۔ ادھر اموات کی بہت بڑی تعداد تھی اور شروع میں تو انڈین فوج کو تو پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔اور انڈین جرنیل کہہ رہے تھے ہم انھیں(پاکستانی فوج کو) کچھ گھنٹوں میں نکال دیں گے یا کچھ دنوں میں نکال دیں گے۔'

نسیم زہرہ کے مطابق ابتدائی طور پر پاکستانی فوج اور جنگجوؤں کو اس بات کا فائدہ تھا کہ وہ اوپر پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور اوپر بیٹھ کر نیچے والوں پر حملہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ لیکن پھر صورتحال تبدیل ہو گئی۔

'بڑا بلنڈر'

نسیم زہرہ نے بتایا کہ جب آہستہ آہستہ انڈین فوج کو سمجھ آیا کہ ہوا کیا ہے تو وہ بوفورز توپیں لے آئے جو عام طور پر اس طرح کے آپریشن میں استعمال نہیں کی جاتیں۔

'اگر آپ کہیں کہ وہ کون سی چیز تھی جس نے پانسا پلٹا تو وہ بوفورز توپیں تھیں جو انڈین سرینگر لیہہ ہائی وے پر لے آئے۔ انڈیا اور پاکستان، دونوں طرف سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بوفورز نے پہاڑوں کی چوٹیوں کے پرخچے اڑا دیے اور اوپر سے انڈین ایئر فورس مسلسل بمباری کر رہی تھی۔'

نسیم زہرہ نے بتایا کہ کارگل کی پہاڑیوں سے اترتے ہوئے بھی پاکستان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

'انخلا ایسے تو نہیں ہوا کہ کوئی سڑک تھی یا موٹر وے تھی جس پر واپس آرہے ہوں۔ نہ ہی دوستی میں واپس آرہے تھے۔ پہاڑوں پر سے 16، 18 ہزار فٹ کی اونچائی سے واپس آنا، بیچ میں کھائیاں تھیں جن سے گزرنا پڑا، پھر شدید سرد موسم۔ جب انڈینز کو موقع ملا تو انھوں نے خوب مارا۔ ایک چھوٹی جنگ تھی جسے زبردست انداز میں لڑا گیا۔'

نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ انڈیا نے کارگل میں اپنی فضائیہ کو خوب استعمال کیا لیکن پاکستان کی ایئرفورس کو کارگل آپریشن کا فوجیوں کے لائن آف کنٹرول پار کرنے کے بہت دن بعد علم ہوا۔

نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ کارگل کی لڑائی میں کتنے پاکستانی مارے گئے اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

'کوئی کہتا ہے 300، کوئی 2000۔ لیکن 2000 لوگ تو شاید وہاں گئے بھی نہیں تھے۔ جب میں فوج کے لوگوں سے بات کروں تو وہ کہتے ہیں کہ شاید ہمارے اتنے لوگ مشرقی پاکستان میں شہید نہیں ہوئے تھے جتنے یہاں(کارگل میں) ہوئے ہیں۔ یہ ایک بہت، بہت بڑا بلنڈر (غلطی) تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Pib

'کشمیر، سیاچن، کارگل'

نسیم زہرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کارگل کا منصوبہ کئی برسوں سے زیرِ غور تھا۔ لیکن اس پر عمل 1999 میں ہوا۔

'یہ منصوبہ پہلے بینظیر صاحبہ کے زمانے میں مشرف ان کے سامنے لائے تھے جب وہ شاید ڈی جی ملٹری آپریشنز تھے۔ بینظیر صاحبہ نے اسے رد کر دیا تھا۔ اس سے قبل جنرل ضیا الحق کے زمانے میں بھی کچھ اس پر بات ہوئی تھی۔'

نسیم زہرہ کی رائے میں کشمیر کا مسئلہ کارگل آپریشن کا بڑا سبب تھا۔

'پاکستان اور انڈیا کی آپس میں یہ کشمکش، کبھی سرد جنگ کبھی گرم جنگ اور کبھی صرف جھڑپیں، یہ تو رہے گا۔ کشمیری بھی اس میں ملوث ہیں۔ پلوامہ اور بالاکوٹ نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا کہ جب کشمیر کا مسئلہ اٹھتا ہے تو ہر چیز اس کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ ایک تو یہ وجہ ہے۔'

ان کے مطابق دوسرا یہ کہ ایک مسئلہ سیاچن کا بھی تھا جو دونوں ملکوں نے حل کرنا تھا جہاں پر انڈیا نے 1984 میں قبضہ کر لیا۔

'چار جرنیلوں کا جتھہ'

نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ گارکل کے منصوبے کو عملی جامہ چار جرنیلوں کے جتھے نے پہنایا۔

ان کے مطابق ان چار جرنیلوں میں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف، فورس کمانڈر آف ناردرن ایریاز میجر جنرل جاوید حسن، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان، اور کمانڈر 10 کور لیفٹننٹ جنرل محمود احمد شامل تھے اور ان کے علاوہ فوج کی اعلیٰ قیادت بھی اس آپریشن سے بے خبر تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فروری 1999 میں نواز شریف اور واجپائی کی لاہور میں ملاقات ہوئی تھی

'وہ جو چار جنرلز تھے جنھوں نے لائن آف کنٹرول پر کام کیا ہوا تھا۔ ان میں ایک جذبہ بھی تھا۔ کیونکہ ہمارے یہاں سول ملٹری تعلقات میں فوج کا پلڑا بھاری رہا ہے اس لیے وہ یہ کر پائے تو یہ جو ان چاروں نے کیا ہے، ان کا ماضی تھا اور کچھ انھیں لگا کہ وہ یہ کر کے بچ سکتے ہیں۔'

لیکن نسیم زہرہ کا خیال ہے کہ ان چار جرنیلوں نے سول حکومت سے باقاعدہ منظوری لیے بغیر کارگل آپریشن کرکے اس پالیسی کی خلاف ورزی کی جو ایک منتخب وزیراعظم کی تھی۔

نسیم زہرہ کا اشارہ فروری 1999 میں نوازشریف اور واجپائی کے درمیان طے پانے والے لاہور سمجھوتے کی طرف تھا جس میں دونوں ملکوں نے بات چیت کے ذریعے تعلقات کا نیا باب شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

'جرنیلوں کے اعتراضات'

نسیم زہرہ کے مطابق 16 مئی 1999 کو ہونے والی کور کمانڈرز کی میٹنگ میں جنرل مشرف نے کارگل کے بارے میں بریفنگ دی۔

'اس وقت کئی جرنیلوں نے سوال اٹھایا کہ ہم (پاکستان) کیا کر رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ اُس وقت حالات ایسے تھے کہ جن لوگوں نے(کارگل آپریشن شروع) کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ حالات ان کے کنٹرول میں ہیں۔ اور کوئی ہمیں ہلا ہی نہیں سکتا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وِن وِن سیچویشن ہے لیکن اس کے باوجود کچھ جنرلز نے صاف کہا تھا کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’فاتحِ کشمیر‘

نسیم زہرہ کے مطابق اُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو کارگل آپریشن کا علم 17 مئی کی بریفنگ کے دوران ہوا تھا جب پاکستانی فوج کو لائن آف کنٹرول پار کیے کئی ہفتے ہوچکے تھے۔

نسیم زہرہ نے بریفنگ کا احوال کچھ یوں بیان کیا۔ ’سرتاج عزیز صاحب نے، (جو اس وقت وزیر خارجہ تھے)، جنھیں سمجھ آرہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے کہ ہماری فوج کے کچھ اہلکاروں نے لائن آف کنٹرول کراس کر لی ہے، کہا کہ وزیر اعظم صاحب ہماری تو انڈیا کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے لاہور سمٹ کے بعد۔۔'

لیکن نسیم زہرہ کے مطابق اُس وقت نوازشریف واقعی ہی قائل دکھائی دیے کہ شاید فوج اس آپریشن سے کشمیر کا معاملہ حل کروا پائے گی۔

'سرتاج عزیز نے کہا کہ بین الاقوامی قوتیں امریکہ وغیرہ تو اس چیز کو تسلیم نہیں کریں گی اور امریکہ تو ہمیشہ انڈیا کے ساتھ رہا ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ نہیں سرتاج صاحب فائلوں اور میٹنگوں سے تو کشمیر نہیں ملے گا۔'

اس کے بعد جنرل عزیز خان، جو کارگل آپریشن کے ماسٹر مائنڈ چار اہم جرنیلوں میں شامل تھے، نوازشریف سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ 'وزیر اعظم صاحب، جیسے قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا تو آپ فاتح کشمیر کہلائیں گے۔ نواز شریف صاحب کو اس وقت یہ لگ رہا تھا کہ جیسے کشمیر مل جائے گا۔'

'کشمیر کے بیانیے کو نقصان'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کارگل کی جنگ میں جیت کے بعد انڈین فوجی خوشی میں گلے ملتے ہوئے

نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ جب جنرل مشرف نے کارگل کیا اس وقت پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں بہتری آرہی تھی۔

'واجپائی صاحب پاکستان چل کر آئے تھے، اور پاکستان نے بحیثیت ملک انڈیا کے وزیر اعظم کو متاثرکن انداز میں خوش آمدید کہا تھا۔ وہ بات کرنے آئے تھے اور بات چل رہی تھی۔ اس کے بعد جنرل مشرف کو تو منتیں کرنی پڑیں۔ اپنے گھٹنوں پر چل کر انڈیا کے پاس جانا پڑا اور کہنا پڑا کہ آپ ہم سے بات کریں۔'

نسیم کے مطابق جو لوگ کہتے ہیں کہ اس سے کشمیر کی تحریک کے بیانیے کو فائدہ پہنچا، وہ بالکل غلط بیانی کرتے ہیں۔

'حقائق اس بات کی حمایت نہیں کرتے۔ حقائق اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ اتنا غلط قدم تھا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کو کئی برسوں تک کوشش کرنی پڑی کہ آئیں بات کریں، حالانکہ اس سے قبل انڈیا نے 71' کیا تھا، سیاچن کیا تھا، اور انھوں نے کیا کیا نہیں کیا تھا۔ لیکن یہ (کارگل) بہت غیر ذمہ دارانہ تھا۔ اس نے پاکستان کے امیج (تشخص) کو نقصان پہچایا۔'

تاہم نسیم زہرہ سمجھتی ہیں کہ بہرحال کوئی نقصان یا فائدہ مستقل نہیں ہوتا۔ ملکوں کو مواقع ملتے ہیں کہ وہ کیسے پالیسی چلائیں، اور کس طرح آگے بڑھیں۔

اسی بارے میں