’خلا میں پہلا پاکستانی‘: فواد چوہدری کے اعلان کا مطلب کیا؟

بین الاقوامی خلائی سٹیشن تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption جہاں پاکستان کا پڑوسی ملک انڈیا اپنے پاس سیٹلائٹس تیار کر کے خود ہی انھیں خلا میں بھیجنے کی قابلیت حاصل کر چکا ہے، وہاں پاکستان کا معاملہ اس سے کافی مختلف ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جمعرات کے روز ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ پاکستان کے پہلے خلا نورد کے لیے انتخاب کا مرحلہ اگلے سال یعنی 2020 سے شروع ہو رہا ہے۔

یہ اعلان انڈیا کی جانب سے چاند کے لیے اپنے دوسرے خلائی مشن چندرایان دوئم کی لانچ کے تین دن بعد ہی آیا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 50 خلا نورد شارٹ لسٹ کیے جائیں گے جبکہ حتمی انتخاب 25 افراد میں سے کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ 2022 میں پہلا پاکستانی خلا میں جائے گا۔

اس کے بارے میں پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے (سپارکو) کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی فواد چوہدری نے اپنے اس اعلان کی تفصیلات بیان کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@fawadchaudhry

پاکستان کا خلائی پروگرام اس وقت کس نہج پر ہے؟

جہاں پاکستان کا پڑوسی ملک انڈیا اپنے پاس سیٹلائٹس تیار کر کے خود ہی انھیں خلا میں بھیجنے کی قابلیت حاصل کر چکا ہے، وہاں پاکستان کا معاملہ اس سے کافی مختلف ہے۔

فی الوقت پاکستانی خلائی ادارے کے پاس سیٹلائٹس کی تیاری کی قابلیت تو ہے، مگر پاکستان کا ان کی لانچ کے لیے ابھی بھی چین پر انحصار ہے۔

یہ بھںی پڑھیے

'خلا میں تو خلائی مخلوق ہی جا سکتی ہے‘

انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر ایک رات کا کرایہ کتنا ہوگا؟

چاند پر انسانی کمند اور سازشی مفروضے

ایسی صورتحال میں کئی سوال اٹھتے ہیں کہ صرف تین سال میں کیا پاکستان اتنی صلاحیت حاصل کر پائے گا کہ کسی شخص کو خلا میں بھیج سکے؟

اور کیا یہ کام کسی دوسرے ملک مثلاً چین کی معاونت سے کیا جائے گا یا خود سے؟

اس حوالے سے بی بی سی نے ماہرین سے گفتگو کر کے ان کی رائے لی ہے۔

خلا بازوں کی تربیت کیسے ہوگی؟

اسلام آباد کے انسٹیٹوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی) کے شعبہ سپیس سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر قمر الاسلام نے پاکستان کے مجوزہ خلائی پروگرام اور سپارکو کی صلاحیتوں پر تبصرہ کرنے کے بجائے عمومی سائنسی رائے دی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب امریکہ نے اپنے خلا بازوں کی تربیت شروع کی تو بہت ساری چیزیں معلوم نہیں تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر یہ کام بالکل ابتداء سے شروع کیا جائے تو بہت وقت درکار ہوتا ہے مگر جو ممالک پہلے بھیج چکے ہیں ان کے پاس مراحل تیار ہیں اور انھیں کم وقت لگتا ہے۔’

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور دیگر ممالک نے بھی سالہا سال کی تحقیق اور تجربات کے بعد یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔

’جن ممالک کے پاس سپیس ٹیکنالوجی موجود ہے ان کے ساتھ تعاون کر کے جلد سے جلد ایسا کیا جا سکتا ہے مگر طویل مدت میں بہتر یہی رہتا ہے کہ ملک اپنے پاس خود نظام ڈویلپ کریں۔’

تربیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ خلا باز کا مشن کیا ہوگا، آیا وہ خلا میں چہل قدمی کریں گے یا کوئی سائنسی تجربات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

اپالو مشن کی آٹھ چیزیں جنھوں نے ہماری زندگی بدل دی

اپالو 11 مشن کی وہ چار باتیں جو آپ نہیں جانتے

روشنیوں کی آلودگی: کیا راتیں غائب ہو رہی ہیں؟

اخراجات کتنے آئیں گے؟

اخراجات کے حوالے سے ڈاکٹر قمر الاسلام کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی پروگرام پر کتنے اخراجات آئیں گے، اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'خلا میں جانے کا مقصد کیا ہے، آپ خود انفراسٹرکچر ڈویلپ کر رہے ہیں، کہیں سے ٹیکنالوجی حاصل کر رہے ہیں یا خود بنا رہے ہیں، اخراجات کا انحصار ان چیزوں پر ہے۔'

واضح رہے کہ مالی سال 2019-2020 کے وفاقی بجٹ میں سپارکو کے لیے تقریباً 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک انڈیا کے خلائی تحقیقاتی ادارے آئی ایس آر او کا بجٹ 124.7 ارب انڈین روپے یا تقریباً 290.5 ارب پاکستانی روپے کے برابر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISRO
Image caption چاند پر انڈیا کا دوسرا مشن چندرایان دوئم 22 جولائی 2019 کو لانچ کیا گیا۔

کیا فضائیہ کے افراد کے منتخب ہونے کا زیادہ امکان ہے؟

ڈاکٹر قمر الاسلام کہتے ہیں کہ اپنی تربیت اور مہارت کی وجہ سے ایئر فورس کے پائلٹ خلا میں پرواز کر جانے کے لیے زیادہ موزوں انتخاب ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ’عموماً زیادہ فٹ ہوتے ہیں اور کافی تجربہ رکھتے ہیں۔’

’سپیس فلائٹ کے دوران کئی مراحل ایسے ہوتے ہیں جن کا سامنا فضائیہ کے پائلٹ روز مرہ کی بناء پر کرتے ہیں اس لیے دنیا کے زیادہ تر خلا نورد ایئر فورس کا پس منظر رکھتے ہیں۔’

مگر جو لوگ فضائیہ سے تعلق نہیں رکھتے کیا وہ خلا میں نہیں جا سکتے؟ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسا ضروری نہیں کہ فضائیہ کے کسی پائلٹ کو ہی منتخب کیا جائے کیونکہ اکثر اوقات خلا بازوں کو خلا میں جا کر سائنسی تجربات کرنے ہوتے ہیں جس کے لیے سائنسدانوں کا انتخاب کر کے انھیں تربیت دی جاتی ہے۔

اس حوالے سے خلائی سائنس کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیم برّاق پلینٹری سوسائٹی کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد محمود کہتے ہیں کہ جس طرح کی تربیت خلا بازوں کو درکار ہوتی ہے وہ لڑاکا پائلٹس کے لیے نئی نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انسانوں کو چاند پر اتارنے والے خلائی مشن اپالو 11 کے تینوں خلا بازوں نیل آرمسٹرانگ، بز آلڈرن اور مائیکل کولنز کا تعلق امریکی فضائیہ سے تھا۔

کیا پاکستان کے پاس اتنی تکنیکی مہارت ہے؟

ڈاکٹر شاہد محمود کہتے ہیں کہ پاکستان میں کمپیوٹر سائنس اور پاکستان ایئر فورس کی ایروناٹیکل انجینئرنگ میں اتنی مہارت موجود ہے کہ ایسے کسی بھی پروگرام کو 'حد سے زیادہ پرعزم' نہیں کہا جا سکتا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان اب تک سیٹلائٹس کی لانچ کے لیے چین پر منحصر رہا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیصلہ اپنے وسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے، پھر چاہے ہم مدد لے رہے ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اصل مقصد یہ ہے کہ ہم سپیس ٹیکنالوجی میں پیچھے نہ رہیں، چنانچہ اگر ہمارے لیے اگر شراکت داری بہتر ہے تو ہمیں شراکت داری کرنی چاہیے۔’

خلا میں جانے کا فائدہ؟

اس حوالے سے ڈاکٹر شاہد محمود کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف کسی کو خلا میں بھیجنے کا نہیں ہے بلکہ خلائی سفر کے لیے جتنی تحقیق کی جاتی ہے وہ مجموعی طور پر کئی سائنسی شعبوں میں ترقی کا باعث بنتی ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ قومی تفاخر کے معاملے سے بڑھ کر ایک فائدہ مند سرگرمی بنتی ہے۔

ڈاکٹر قمر الاسلام ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی شخص کو خلا میں بھیجنا ایک سنگِ میل تو ہے لیکن اصل مقصد سائنسی ترقی ہے۔

ان کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی میں ترقی کرنا زراعت کی مانیٹرنگ، موسموں اور سیلابوں پر نظر رکھنے، سمندری طوفانوں کی ماڈلنگ، برف کے پگھلنے، موسمیاتی تبدیلی وغیرہ کو مانیٹر کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'سپیس ٹیکنالوجی پر زیادہ تحقیق اسی لیے ہو رہی ہے کیونکہ اس سے اصل میں انسان کو روز مرہ کی زندگی میں فائدہ ہو رہا ہے۔'

واضح رہے کہ بی بی سی کی جانب سے سپارکو سے اس خلائی پروگرام کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا مگر یقین دہانی کے باوجود فوری طور پر کوئی ردِ عمل حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

اسی بارے میں