کوئٹہ: حکومت مخالف جلسے میں مریم نواز کے روایتی بلوچی لباس کا چرچا

مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز جب کوئٹہ میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے منائے جانے والے یوم سیاہ کی مناسبت سے منعقدہ جلسۂ عام میں شرکت کرنے آئیں تو انھوں نے روایتی بلوچی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔

انھوں نے کشیدہ کاری سے مزین گہرے نیلے سوٹ کے ساتھ سیاہ دوپٹہ لیا ہوا تھا۔

روایتی بلوچی لباس پر سرخ، سفید اور دیگر رنگوں کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کی گئی تھی۔

جلسے سے قبل مریم نواز جب کوئٹہ پہنچیں تو اس وقت انھوں نے عام لباس پہن رکھا تھا لیکن مقامی ہوٹل میں قیام کے دوران انھوں نے جلسۂ عام میں شرکت کے لیے لباس تبدیل کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم سلیکٹڈ حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں‘

اپوزیشن 25 جولائی کو یومِ سیاہ منائے گی

آل پارٹیز کانفرنس:’حکومت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ‘

کسی کے خلاف نہیں پاکستان کے حق میں جمع ہوئے: بلاول

جلسہ گاہ آمد اور پھر جلسے سے خطاب کے دوران شرکا نے مریم نواز کا بھرپور استقبال کیا لیکن پاکستانی میڈیا نے انھیں مکمل نظر انداز کیا۔

جلسہ گاہ کی کوریج کرنے والے میڈیا کے نمائندوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ان کے اداروں کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی تھی کہ اپنے بیپرز یا ٹکرز میں مریم نواز یا نواز لیگ کا ذکر نہیں کرنا ہے۔

شدید گرمی کے باوجود جلسہ میں عام میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تاہم ایئرپورٹ پر مریم نواز کے استقبال کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد موجود نہیں تھی۔

اس کی شاید ایک وجہ سیکورٹی کی صورت حال ہو کیونکہ حزب اختلاف کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کا ایک خط بھی میڈیا کو دکھایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں منتظمین کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

جلسے سے قبل مقامی ہوٹل میں قیام کے دوران مریم نواز سے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رہنماﺅں نے ملاقاتیں بھی کیں ۔

اسی بارے میں