کارگل کی جنگ کے پاکستانی متاثرین جنھیں بھلا دیا گیا

کارگل
Image caption بائیں جانب موجود زینب بی بی جنھیں جنگ کی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑا

سنہ 1999 میں زینب بی بی کی شادی کے بعد جلد ہی جنگ شروع ہو گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ 'ہم گھر پہ تھے اور رات کا وقت تھا، آٹھ بجے کے قریب۔ ہم نے پہاڑوں کی چوٹیوں کو گولوں سے تباہ ہوتے دیکھا، ہم غاروں میں بنے بنکروں کی جانب دوڑے۔'

زینب کا گاؤں گنوخ ہمالیہ کی چوٹیوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان فائرنگ لائن پر ہے۔ یہ پاکستان کی جانب موجود فائربندی کی لائن پر واقع ہے جو کہ کشمیر کو تقسیم کرتی ہے جس کے دونوں ملک دعویدار ہیں۔

20 سال پہلے چند پاکستانی جرنیلوں کی خفیہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں خفیہ طور پر انڈیا کی جانب کارگل کی چوٹیوں پر قبضے کے لیے کارروائی کا حکم دیا۔ تاہم اس سے وہ جنگ چھڑ گئی جس کی انھیں توقع نہیں تھی۔ نتیجہ شکست اور شرمندگی کی صورت میں نکلا اور ایسے واقعات رونما ہوئے جو 50 سال کے دوران ملک کے تیسرے مارشل لا پر منتج ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

’کارگل میں جس چیز نے پانسا پلٹا وہ بوفورز توپیں تھیں‘

پاکستانی فوجی جس کی بہادری کا دشمن بھی قائل ہوا

’کارگل کی ذمہ داری کبھی کسی پر عائد نہیں کی جائے گی‘

زینب کے گاؤں اور اردگرد کے علاقے کے ہزاروں رہائشیوں نے اپنے گھر اور مال مویشی لڑائی کی وجہ سے کھو دیے۔ انڈیا کی جانب بھی اتنی ہی تعداد میں مقامی افراد نے نقل مکانی کی مگر وہ جنگ کے بعد واپس آگئے۔

اگرچہ پاکستانی حکام نے جنگ کی تباہی کے بعد مدد کرنے کا وعدہ تو کیا لیکن اس پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ بہت سے متاثرین ملک بھر میں موجود پناہ گزینوں کی کچی آبادیوں میں گزر بسر کے لیے کوشاں رہے۔

زینب کا کہنا ہے کہ پہلی رات ہونے والی شدید گولہ باری کئی دن تک جاری رہی۔ جلد ہی انھیں پتا چلا کہ ان کے جاننے والے بھی مارے جا رہے ہیں۔

ایک گولہ وہاں گرا جہاں ان کے دادا جو کی فصل کو پانی دے رہے تھے، اسی جگہ ان کی موت واقع ہو گئی۔ ایک اور گولہ نیچے ایک گاؤں میں ایک گھر کی چھت پر گرا جس سے دو نوجوان لڑکے ہلاک ہو گئے جو اس وقت دھوپ سینک رہے تھے۔

جب خوف پھیلا تو علاقے میں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے مکینوں سے کہا کہ وہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔

زینب نے، جن کی عمر اب 33 برس ہو چکی ہے، بی بی سی سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں گفتگو کی اور کہا کہ 'ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہاں جائیں اور کیسے جائیں۔ ہم نے کچھ بستر اور برتن اٹھائے، انھیں ٹرک میں ڈالا اور اپنے ہمسایوں کے ہمراہ چل پڑے۔ ہم نے اپنی بکریاں، گائے اور بیلوں کو خدا کے سہارے چھوڑ دیا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنگ کے نتیجے میں دونوں جانب ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں

وہ شمال میں 150 کلومیٹر دور سکردو چلے گئے۔ وہاں دو ماہ تک ایک جھونپڑی میں رہے جو مقامی افراد نے انھیں دی تھی۔ تب تک پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا اور اپنے دستوں کو حکم دیا کہ وہ انڈیا کی جانب جن چوٹیوں پر قبضہ کر چکے ہیں انھیں خالی کر دیں۔

زینب نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب جنگ ختم ہوئی تو بہت سے لوگ اس کشمکش میں تھے کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔

'ہمارے ایک پڑوسی نے جو گاؤں گئے تھے، آ کر بتایا کہ زیادہ تر گھروں کو نقصان پہنچا، باغات تباہ ہوئے اور بہت سے مال مویشی یا تو مر گئے یا پھر گم ہو گئے۔'

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اسلام آباد جانا چاہیے جہاں ان کے ایک دوست نے انھیں بتایا تھا کہ وہ کام تلاش کر سکتے ہیں۔'

’یہ جگہ انسانوں کے لیے نہیں، محض پاگل پن ہے‘

غلام محمد کا تعلق بھی زینب کی وادی سے تھا اور انھوں نے بھی علاقے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

جب جنگ چھڑی تو وہ نوجوانی کے اوائل میں تھے اور انھیں اپنے آڑو کے درختوں اور مویشیوں کو پیچھے ہارگوسل گاؤں میں ہی چھوڑنا پڑا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے والدین کی وفات پہلے ہی ہو چکی تھی بہن بھائی تھے نہیں۔ ان کے دیگر رشتے دار اور وہ سکردو آگئے جو جنگ زدہ علاقے سے بھاگ کر آئے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔

Image caption بہت سے متاثرین اب بھی سکردو میں پناہ گزینوں کی آبادیوں میں مقیم ہیں

'کچھ لوگوں نے دیہی علاقے سے باہر ٹینٹ لگا لیے اور کچھ کے پاس تو وہ بھی نہیں تھا۔وہ مایوس کن منظر تھا۔'

غلام محمد جوان بھی تھے اور تنہا بھی، سو انھوں نے کام کے لیے ملک کے دوسرے سرے پر موجود شہر کراچی کا رخ کیا۔

زینب بی بی اور غلام محمد گلگت بلتستان کی وادی خارامنگ سے آئے تھے جس کی سرحد ایک جانب سے انڈین کارگل سے متصل ہے۔ سنہ 1947 میں یہ پاکستان کے گلگت بلتستان میں آنے والا یہ علاقہ کبھی لداخ سے جڑا ہوا تھا جو کہ اب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا حصہ ہے۔

کارگل کی جنگ میں نیم فوجی دستے ناردرن لائٹ انفینٹری کے ہزاروں حاضر سروس اہلکاروں کو انڈیا کی ان پوسٹوں پر قبضہ کرنے کے لیے بھجوایا گیا جو برفباری کے مہینوں خالی پڑی تھیں۔

یہ وہ اہلکار تھے جن کا تعلق بھی گلت بلتستان سے ہی تھا اور وہ بلندی پر جنگ میں مہارت رکھتے تھے۔ انھوں نے سطح سمندر سے 16 سے 18 ہزار فٹ تک کی بلندی پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔

یہاں سے سیاچن لیہہ ہائی وے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ یہ سیاہچین گلیشیئر پر موجود انڈین فوجیوں کی مرکزی سپلائی لائن تھی۔ سیاچن پر انڈیا نے سنہ 1984 میں قبضہ کیا تھا جو کہ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے۔

انڈیا کو مئی 1999 کے اوائل میں حملے کا پتہ چلا تو پاکستان نے کہا کہ کشمیری جنگجو انڈیا کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مبصرین کے مطابق پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ سیاچن کو جانے والی انڈین رسد کو کاٹ دیا جائے، انڈین فوجی دستوں کا بھاری نقصان ہو اور ان پر پاکستان کی شرائط پر کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ سال بھر پہلے ہی جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کی وجہ سے پاکستانی جنرل پر امید تھے کہ انڈیا ایٹمی جنگ کے خطرے کی وجہ سے خاموش رہے گا۔

لیکن انڈیا نے بھرپور جواب دیا پیادہ دستوں کے بعد توپخانے اور فضائیہ کی مدد لی گئی اور پھر یہ سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا مکمل فوجی معرکہ ہوا۔

جون کے وسط تک پاکستان کی چوٹیوں پر پوزیشنیں کمزور ہونا شروع ہوئیں اور بین الاقوامی برادری نے پاکستان سے واپسی کا مطالبہ کیا۔

حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی فوج نے کارگل آپریشن کی تفصیلات کو اس وقت وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے چھپایا۔ چار جولائی کو وہ یکطرفہ طور پر واپسی کے اعلان پر مجبور ہوئے۔ دو ماہ بعد ان کی حکومت کا خاتمہ مارشل لا پر ہوا۔

26 جولائی تک انڈیا نے مکمل طور پر کارگل پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس لڑائی میں انڈیا کے 500 سے زیادہ فوجی مارے گئے جبکہ پاکستان کے جانی نقصان کا اندازہ 400 سے 4000 تک لگایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس جنگ کے نتیجے میں جو بےگھر ہوئے ان میں سے ہزاروں اب بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور مدد کے منتظر ہیں۔

تقریباً 20 ہزار افراد وادی کھرمنگ سے بے گھر ہوئے۔ 20 سال بعد ان کی آبادی دوگنی ہو چکی ہے اور 70 فیصد علاقے میں واپس نہیں لوٹے۔

تین گاؤں گنگنی، برولمو اور بادیگام بریسل جو کہ اس جنگ میں فرنٹ لائن کے قریب واقع تھے مکمل طور پر تباہ ہوئے۔

بو علی رضوان ابھی سکردو کی مہاجر کالونی میں موجود ہیں اور ان کا تعلق برولمو سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گاؤں ہم مکینوں کے لیے ممنوعہ علاقہ تھا کیونکہ فوج نے وہاں بنکر اور بیرکیں بنا دی تھیں۔

سنہ 2003 اور 2004 میں گاؤں کے مکینوں کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر مقامی انتظامیہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا سروے کرنے کے لیے ایک ٹیم بنانے پر مجبور ہوئی۔ اس ٹیم میں فوجی حکام بھی شامل تھے۔

سنہ 2010 میں زرِتلافی کے لیے گیارہ کروڑ کا پیکیج تین دیہات کو دینے کا کہا گیا لیکن رقم ادا نہیں کی گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ہم نے فوجی کمانڈر کے ساتھ سکردو میں ملاقاتیں کیں، چیف منسٹر کے ساتھ گلگت میں، ہم اسلام آباد گئے کہ اس مسئلے پر کشمیر امور کے وزارت کے حکام سے بات کریں۔'

Image caption بائیں جانب موجود غلام محمد اور درمیان میں فدا حسین نے ہارگوسل گاؤں کو چھوڑ دیا

'فوج نے ہمیں بتایا کہ حکومت ادا کرے گی۔ کشمیر کی وزارت سے بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی حکومت دے گی۔ انھوں نے کہا کہ آرمی دے گی ہم نے سنہ 2012 تک اس معاملے کے لیے کوشش کی لیکن پھر ہم نے کوشش ترک کر دی۔'

گولاتری ریجن میں فوج نے فقط 19 لاکھ کی ادائیگی بھی نہیں کی جو کہ مکینوں کی زمین لیے جانے کی وجہ سے واجب الادا تھی۔ فوج نے وہاں سنہ 1999 میں وہاں اپنی فارورڈ پوسٹوں کی جانب جیپ ٹریک بنانے کے لیے حاصل کی تھی۔

یہ تعطل سنہ 2010 میں زمین کے مالکوں کے حق میں عدالتی حکم کے باوجود رہا۔

جب گلگت بلتستان کی حکومت سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس معاملے کا جواب فوج کے پاس ہے۔

بی بی سی نے پاکستانی فوج سے رابطہ کیا جنھوں نے بتایا کہ وہ ان معاملات کی تفصیلات دیکھیں گے۔ اس تحریر کی اشاعت تک بی بی سی کو جواب نہیں دیا گیا تھا۔

فوج کی جانب سے اس دعوے پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کہ کارگل میں خفیہ آپریشن کو سول حکومت سے چھپایا گیا تھا۔

ان لوگوں کو، جن کی زندگیاں کارگل کی جنگ سے ہمیشہ کے لیے بدل گئیں اور جو محسوس کرتے ہیں کہ انھیں بےیارومددگار چھوڑ دیا گیا، تلاش کرنا اچھنبے کی بات نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نصف درجن خاندان ہارگوسل لوٹ آئے لیکن غلام محمد ان میں شامل نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'میرا گھر جو کہ جنگ سے تباہ ہو گیا تھا اسے ٹھیک کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے اور میرے بہت سے ہمسائے بھی واپس نہیں لوٹے وہاں زمینوں کو پھر سے کاشت کے قابل بنانے کے لیے کوئی نہیں تھا۔'

غلام محمد کہتے ہیں کہ ہارگوسل سے اوپر کی زمین پر بارودی سرنگیں اور بم ہیں اس لیے وہاں جانوروں کو چرنے کے لیے بھیجنا پر خطر عمل ہے۔ 'دو لڑکے گذشتہ برس اس وقت زخمی ہو گئے تھے جب ان کا پاؤں بم پر آ گیا تھا۔'

غلام محمد سکردو واپس آگئے اور سنہ 2004 میں ان کی شادی ہو گئی۔ بی بی سی نے ان سے راولپنڈی میں بات چیت کی جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔

اگرچہ زینب بی بی کے والدین اور سسرال میں سے کچھ لوگ واپس بھی لوٹ گئے لیکن ان کے واپس اپنے گاؤں نہ جانے کی اور بھی وجوہات ہیں۔

کئی سال زینب اور ان کے شوہر نے محنت کر کے اتنی رقم جمع کر لی کہ اپنےلیے اسلام آباد کی ایک کچی بستی میں چھوٹا سا مکان خرید سکیں۔

ان کے چار بچے بھی اسلام آباد میں پڑھ رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'ہم نے بہت مشکل زندگی گزاری ہے، لیکن سب کچھ اچھے کے لیے ہوتا ہے اور میں اس کے لیے خدا کی شکرگزار ہوں۔'

اور اب وہ واپس نہیں جانا چاہتی۔

’اپنے گاؤں میں ایک بچے کی حیثیت سے میں بکریاں چراتی تھی اور فصل کی کٹائی کرتی تھی۔ میں کبھی کبھار گنوکھ کو یاد کرتی ہوں مگر میرے بچوں کا تعلق اسلام آباد سے ہے جہاں ہم رہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں