مانسہرہ: لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سڑک پر یکطرفہ ٹریفک بحال

مانسہرہ لینڈ سلائیڈنگ
Image caption لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں جمعرات کے روز ہونے والی شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے سبب بند ہو جانے والی سڑکوں پرجمعہ کی شام تک یک طرفہ ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق مٹی کا تودہ سرکنے کے اس واقعہ میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان میں لیہ، پنجاب، سے تعلق رکھنے والے سیاح بہن بھائی اور ہنرائی بالاکوٹ کے دو نوجوان شامل ہیں۔ چاروں کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں۔

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق تقریباً 2000 افراد سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے محصور ہو کر رہ گئے تھے جن میں سیاح، گلگت بلستان آنے جانے والے مسافر اور مقامی لوگ شامل ہیں۔

جس کے بعد جو سیاح ناران پہنچنے میں کامیاب ہوئے ان میں ٹی وی اینکر نادیہ مرزا بھی ہیں۔

وہ اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ گلگت بلستان کی سیاحت کے بعد براستہ بابو سر ٹاپ، ناران اور مانسہرہ سے ہوتی ہوئیں اسلام آباد جا رہی تھیں۔

نادیہ مرزا نے مقامی صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر کے وقت جب وہ بابو سر ٹاپ سے تھوڑا نیچے آئے تو لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑک کو بند پایا: 'ایک بڑی لینڈ سلائیدنگ تھی۔ مٹی اور بڑے بڑے پتھر پڑے تھے۔ پیدل بھی کراس نہیں کیا جاسکتا تھا۔'

نادیہ نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ رابطہ کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اس دوران پتہ چلا کہ کئی اور مقامات پر بھی مٹی کے تودے گرے ہیں اور وہ نہ آگے جا سکتے ہیں اور نہ پیچھے۔

Image caption مشینری کی مدد سے لینڈ سلائیڈنگ سے بلاک ہونے والی سڑکوں کو کھولا جا رہا ہے۔

ان نے بتایا: 'رات کس طرح گزاری یہ بتانا الفاظ میں ممکن نہیں ہے۔ اس علاقے میں صرف ایک ہی ہوٹل تھا، سینکٹروں مرد و خواتین، بچوں اور بوڑھوں نے جب ہوٹل میں موجود ٹوائلٹ استعمال کرنے کی کوشش کی تو ہوٹل انتظامیہ نے وہاں پر تیس روپیہ فی کس چارج کرنا شروع کردیا۔ مرد و خواتین کے لیئے صرف ایک ہی الگ الگ ٹوائلٹ تھا جہاں پر لمبی لائنیں لگ چکی تھیں۔ اس سے کتنی بڑی تکلیف ہوئی ہوگئی خود ہی اندازہ کرلیں۔'

انھوں نے بتایا کہ گاڑی میں رکھی کھانے پینے کی اشیا بھی جلد ہی ختم ہوگئیں۔ ہوٹل میں بس ابلی ہوئی سبزی اور دال دستیاب تھی۔

لوگوں نے رات گاڑیوں میں گزاری۔ صبح کام شروع ہوا تو جمعہ کی سہ پہر تک سڑک کو یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھولا جا سکا۔

اسلام آباد کے چوبیس سالہ طالب علم حسام اسامہ بھی اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ سیاحت کے لیے گئے تھے۔ ان کا قافلہ جھلکوٹ کے مقام پر پھنس گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میری والدہ بلڈ پریشر کی مریضہ ہیں۔ شکر ہے کہ ان کی ادوایات موجود تھیں مگر کئی لوگ ایسے تھے جن کے پاس ضروری ادوایات نہیں تھیں، لوگ ایک دوسرے سے پوچھ کر ادوایات شیئر کررہے تھے۔'

لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مانسہرہ-ناران-جل کھڈ-چلاس (ایم این جے سی) روڈ پر ناران سے جل کھڈ سیری کے تقریباً 47 کلومیٹر کے علاقے میں کم سے کم آٹھ مقامات پر سڑکیں بلاک ہو گئی تھیں۔

لینڈ سلائیڈنگ کن کن مقامات پر ہوئی ہے؟

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا انتظامیہ سے ملنے والی معلومات کے مطابق مندرجہ ذیل مقامات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

  • جل کھڈ (162 کلومیٹر) اور بیسل (168 کلومیٹر) کے درمیان
  • 130 کلومیٹر پر
  • ناران (122 کلومیٹر) اور بٹہ کنڈی (137 کلومیٹر) کے درمیان
  • بٹہ کنڈی (137 کلومیٹر) اور بُروائی (150 کلومیٹر) کے درمیان
  • 156 سے 157 کلومیٹر کے درمیان

حکام کے مطابق فی الوقت بٹہ کنڈی (137 کلومیٹر) اور بُروائی (150 کلومیٹر) کے درمیان اور 156 سے 157 کلومیٹر کے علاقے میں موجود لینڈ سلائیڈز صاف کرنی باقی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google Maps
Image caption لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مانسہرہ-ناران-جل کھڈ-چلاس روڈ (ایم این جے سی) روڈ پر ناران سے جل کھڈ سیری کے تقریباً 47 کلومیٹر کے علاقے میں کم از کم آٹھ مقامات پر سڑکیں بلاک ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں موبائل سگنلز کی عدم موجودگی کی وجہ سے بی بی سی ریسکیو کے تمام مراحل کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

’گاڑیوں میں ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں’

جل کھڈ کے مقامی رہائشی عبدالقدیر جو کہ مذکورہ علاقے سے پیدل چل کر ناران کے علاقے تک پہنچے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ سڑکوں کے کنارے اپنی گاڑیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مسافروں، سیاحوں کے پاس موجود پانی اور تھوڑی بہت اشیائے خورد و نوش تو جمعرات کی شام تک ہی ختم ہوچکی تھیں جس کے بعد مقامی لوگوں، علاقے میں موجود چند ہوٹلوں نے پھنسے ہوئے لوگوں کو پانی اور خوراک فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

Image caption ریسکیو اہلکار ایک شخص کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

لینڈ سلائیڈنگ کی وجوہات کیا ہیں؟

محکمہ جنگلات ہزارہ ڈویژن کے سابق کنزویٹر جاوید ارشد کے مطابق مذکورہ علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کی چار بڑی وجوہات ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ جنگلات کی کمی یا کٹائی ہے، اس کے بعد سڑکوں اور دیگر تعمیراتی کام کے لیے پہاڑوں کے قدرتی نظام میں دخل اندازی ہے۔ تیسرے نمبر پر خانہ بدوشوں کے مال مویشی جو گرمیوں میں گھانس چر کر علاقے کو تقریباً بنجر کر دیتے ہیں اور چوتھا سبب دریا کا تیز بہاؤ ہے جو رفتہ رفتہ پہاڑوں کی بنیاد کو کھا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات