ایف آئی اے: ’طالبان کے امیر ملا منصور کا کراچی میں کاروبار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2016 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے پاس سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ برآمد ہوا تھا

پاکستان میں تحقیقاتی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا منصور کراچی میں ریئل سٹیٹ کا کاروبار کرتے تھے، ان کے نام پر متعدد پلاٹس، فلیٹس اور رہائشی منصوبے ہیں جنھیں سیل کردیا گیا ہے۔ ملا منصور 2016 میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے ملا منصور پر جعل سازی کا مقدمہ بھی درج کیا ہے۔

اس ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملا منصور کے حوالے سے ایف آئی اے کراچی یونٹ کے سامنے یہ حقیقت آئی کہ محمد ولی ولد شاہ محمد اور گل محمد ولد سعید امیر علی کے شناختی کارڈوں میں جو کوائف دیئے گئے وہ وہی تھے جو ملا منصور کے شناختی کارڈ میں موجود تھے۔

مزید پڑھیے

تحریکِ طالبان کی قیادت پھر محسود جنگجوؤں کے ہاتھوں میں

ملا منصور کا شناختی کارڈ: تحقیقات نچلی سطح کے ملازمین تک محدود

تحریکِ طالبان کی قیادت پھر محسود جنگجوؤں کے ہاتھوں میں

ایف آئی اے کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1267 کے باوجود ، جس میں اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں اور طالبان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا، ملا منصور کراچی میں جائیدار کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے رہے اور چھ غیر منقولہ املاک کے مالک تھے۔

ایف آئی اے کے مطابق ان املاک میں پلاٹ، فلیٹس اور رہائشی منصوبے شامل ہیں جو گلشن معمار کے ڈی اے سکیم نمبر 45، شہید ملت روڈ پر واقع ہیں اور جنھیں سیل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی تحقیاقی ادارے کی تحقیقات کے مطابق ملا منصور اپنے فرنٹ مین عمار ولد محمد یاسر کے ذریعے یہ کاروبار کرتے تھے۔

ایف آئی اے کے مطابق ملا منصور کے مختلف بینکوں میں کھاتے بھی موجود تھے ان کھاتوں کے لیے انھوں نے اقرا سٹیٹ ایجنسی کا نام استعمال کیا تھا لیکن بعد کی تحقیقات کے مطابق ان کا اس ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ایف آئی اے کی ایف آئی آر کے مطابق ملا منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جعلی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے اور جعلی کوائف پر مالی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔

اس جرم میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد اور ان کے فرنٹ مین عمار کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ بینک حکام اور نادارا حکام کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور بلوچستان کے علاقے دالبندین میں ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے وہ ایک ٹیکسی میں مقامی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھا کر جیسے ہی روانہ ہوئے تو چند کلومیٹر دور ڈرون نے ان پر حملہ کیا جس میں وہ ڈرائیور سمیت ہلاک ہو گئے۔

ملا منصور سے ملنے والے شناختی کارڈ میں ان کا پتہ بسم اللہ ٹیرس سہراب گوٹھ تحریر تھا جبکہ ان کے پاس ولی محمد کے نام سے پاسپورٹ موجود تھا جس پر وہ متعدد بار بیرون ملک بھی سفر کر چکے تھے۔

ایف آئی اے ان سے ملنے والی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تحقیقات کیں جس کے دوران ان کی املاک کا معلوم ہوا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں