حکومت کو سوشل میڈیا سائٹس کو بلاک یا پی ٹی اے کی تکنیکی صلاحیت بڑھانے کی تجویز

سوشل میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم باجوہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پی ٹی اے کو سوشل میڈیا ویب سائٹس کے لیے ضابطۂ اخلاق تیار کرنے کا حکم دیا ہے جس پر عمل شروع ہو چکا ہے اور انھیں جلد ہی پیش کیا جائے گا۔

سینیٹر محمد علی سیف کی صدارت میں سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے معاشرے کے محروم اور متاثرہ افراد نے سوشل میڈیا پر مذہب سے متعلق توہین آمیز مواد سے متعلق پی ٹی اے اور ایف آئی اے کی بریفنگ طلب کی جس میں پی ٹی اے کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ویب سائٹس بیرون ملک سے چلائی جا رہی ہیں۔

پی ٹی اے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس کے سدباب کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پالیسی بنا کر گستاخانہ مواد والی ویب سائٹس کو مکمل طور پر مقامی سطح پر بلاک کر ے جیسا کہ چین اور متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیو مہم: فیس بک کا ’تعاون کا وعدہ‘، درجنوں اکاؤنٹس بند

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے پر سزائے موت

سوشل میڈیا پر پابندی مسئلے کا حل نہیں: وزارت داخلہ

پاکستان میں ’500 سے زیادہ ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں‘

سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ YOUTUBE

انھوں نے تجویز دی کہ حکومت پالیسی بنائے تاکہ مقامی سطح پر متبادل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ بنائی جائیں جیسے چین نے تیار کی ہیں یا پھر پی ٹی اے کی تکیینکی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں ریٹائرڈ میجر جنرل عامر عظیم باجوہ نے کہا کہ سنہ 2010 سے لے کر آج تک گستاخانہ مواد والی تقریباً 40,000 ویب سائٹس اور لنکس کو بلاک کیا جا چکا ہے اور مزید آگاہی کہ لیے ایک اور طریقہ اشتہارات کے ذریعے معلومات پھیلانا ہے کہ توہین آمیز مواد قابل سزا جرم ہے۔

سینیٹ کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر محمد علی سیف نے اسی حوالے سے تبصرہ کیا کہ گستاخانہ مواد کی موجودگی کے خلاف قوانین تمام مذاہب کے حوالے سے ہونے چاہییں۔

انھوں نے مزید کہا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے پاکستان سے بہت پیسہ کمایا ہے اور پاکستان گستاخانہ مواد ڈالنے پر ان ویب سائٹس کا ریونیو بلاک کر سکتا ہے جس کے لیے پاکستان میں بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے نمائندوں کی موجودگی ضروری ہے۔

پی ٹی اے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ادارے کو مزید بااختیار بنانے کے قوانین بنائیں جنھیں پاس کرانے میں ان کی کمیٹی مدد فراہم کرے گی۔

تاہم رات گئے پی ٹی اے ٹوئٹر پر ادارے کی جانب سے اس بات کی تردید شائع کی گئی کہ چئیرمین پی ٹی اے نے بلاک کرنے کے بارے میں کوئی بات کی تھی اور ساتھ میں کہا کہ ان کا بیان سیاق و سابق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد کی موجودگی پر کیے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے کہا تھا کہ 85 فیصد مواد ہٹایا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

'بریفنگ صرف گستاخانہ مواد کے حوالے سے تھی'

جمعہ کو ہو ہونے والی بریفنگ کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ ان کی کمیٹی نے انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد کی مسلسل موجودگی اسے روکنے اور ختم کرنے کے لیے پی ٹی اے اور ایف آئی اے کو طلب کیا تھا۔

'ہم نے پی ٹی اے اور ایف آئی سے پوچھا کہ ہم آپ کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ ان کو قانونی، مالی یا سوشل میڈیا کمپنیز تک رسائی یا کسی بھی قسم کی مدد درکار ہو تو کمیٹی ان کی رہنمائی کے لیے موجود ہے۔'

اس سوال پر کہ کن قوانین پر کمیٹی مدد فراہم کرے گی، سینیٹر سیف نے کہا کہ وہ 'پاکستان سائبر کرائم قوانین، لیگل فریم ورک اور دیگر کسی بھی قواعد و ضوابط' کے حوالے سے مدد کریں گے۔

اس سوال پر کہ آیا یہ قواعد و ضوابط سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے تو نہیں سلب کر لیں گے، کمیٹی کے چئیرمین نے بی بی سی کو بتایا 'ہمارا مقصد صرف اور صرف گستاخانہ اور فحش مواد کو روکنا ہے اور اگر ان قوانین کو کسی اور طرح استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے سد باب کے لیے دیگر پلیٹ فارمز موجود ہیں۔

چین اور متحدہ عرب امارات کی مثال دینے کی وضاحت کرتے ہوئے سینیٹر سیف نے بتایا کہ پی ٹی اے کے سربراہ نے صرف اپنی بات کو سمجھانے کے لیے چین کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح وہاں کی حکومت نے مغربی ممالک کی ویب سائٹس کا استعمال کرنا ختم کر دیا اور ابتدا میں عوام کی جانب سے مزاحمت کے بعد اب وہاں مقامی طور پر تیار کی گئی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال ہوتی ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا کمیٹی نے ان گستاخانہ مواد کے خلاف بنائے گئے قواعد کے غلط استعمال پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا، سینیٹر سیف نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے ایسا کوئی سوال نہیں کیا گیا۔

'ہماری توجہ گستاخانہ اور فحش مواد کے بارے میں تھی چناچہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی کیونکہ اس کا ہم سے تعلق نہیں تھا۔ آزادی اظہار رائے کا تحفظ تو ویسے بھی آئین کے تحت ہوتا ہے۔ بالفرض حکومت خود پر تنقید روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھاتی ہے یا قانون بناتی ہے تو اس کی مخالفت کرنے کے لیے پارلیمان یا عدالت جیسے پلیٹ فارم موجود ہیں۔'

'ان قوانین کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے'

بی بی سی نے ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ماہر اسد بیگ سے اسی حوالے سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت تو پہلے سے ہی سوشل میڈیا چلانے والی کمپنیوں سے رابطہ میں ہے۔

'پی ٹی اے کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انھوں نے گستاخانہ مواد والے ہزاروں صفحات کو بلاک کیا ہوا ہے۔ مجھے یہ چین میں استعمال ہونے والے فلٹرنگ نظام کے بارے میں بات واضح نہیں ہوئی۔ اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہو گا کہ چین میں انٹرنیٹ کے مواد کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے روکا جاتا ہے۔'

اسد بیگ نے مزید کہا کہ ایسے نظام کا اطلاق بہت مہنگا پڑتا ہے اور کافی دشوار بھی لیکن ان کے مطابق ایسے اقدامات کا سب سے بڑا خدشہ ہے کہ انھیں 'سیاسی انتقام اور ناجائز طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔'

اسی بارے میں