نواز شریف کے سابق مشیر عرفان صدیقی جیل سے رہا

عرفان صدیقی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عرفان صدیقی بروقت کرایہ دار کے کوائف مقامی پولیس کے پاس درج کروانے میں ناکام رہے ہیں اور اسی بنا پر ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیر اور کالم نگار عرفان صدیقی کو اتوار کے روز ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

عرفان صدیقی کو جمعے کی رات اسلام آباد پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔

اتوار کی دوپہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عرفان صدیقی کو ہتکھڑی لگا کر مقامی عدالت میں پیش کرنے کا نوٹس لیا تھا۔ شہزاد اکبر کے مطابق یہ نوٹس کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ عرفان صدیقی کی عمر کے پیشِ نظر لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے وہ سابق وزرائے اعظم جو گرفتار ہوئے

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو بنانے والا شخص گرفتار

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نیب نے گرفتار کر لیا

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھا جائے گا کہ ہتکھڑی لگانے کا حکم کس نے دیا۔

رہائی کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ جمعے کی رات 11 بجے آٹھ سے دس پولیس گاڑیوں نے ان کے گھر کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ ان کا دعوی تھا کہ جس گھر کا معاملہ ہے وہ ان کے بیٹے کے نام ہے اور کرایہ نامہ بھی بیٹے نے سائن کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ حکومت کے سیاہ باب میں لکھا جا چکا ہے۔ عرفان صدیقی نے اپنی گرفتاری کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

گرفتاری

عرفان صدیقی کی گرفتاری جمعے کے رات عمل میں آئی تھی اور اسلام آباد پولیس کے مطابق وہ مبینہ طور پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہی

سنیچر کے روز انھیں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے تھا۔

تھانہ رمنا میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں معمول کے گشت کے دوران ایک شخص سے ان کا نام، پتہ دریافت کیا۔ اس شخص نے بتایا کہ وہ کرک کے رہائشی ہیں اور انھیں نے عرفان صدیقی کا گھر کرائے پر حاصل کیا ہے۔

پولیس کے مطابق کرایہ دار سے کوائف مانگے لیکن وہ مبینہ طور پر یہ کوائف دینے میں ناکام رہے جس کے بعد عرفان صدیقی اور کرایہ دار جاوید اقبال دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

عرفان صدیقی کو گرفتاری کے بعد مقامی تھانے میں رکھا گیا اور ہفتے کی صبح انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ مہرین بلوچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

Image caption عرفان صدیقی کو ہتکھڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا

ان کے وکیل نے استدعا کی کہ یہ جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ ہے اس لیے انھیں فی الفور رہا کیا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور عرفان صدیقی نے کرایہ دار کے کوائف تھانے جمع نہ کروا کر تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت کے اہم ترین رہنما اس وقت جیل میں ہیں جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، خواجہ سعد رفیق، سلمان رفیق، حمزہ شہباز، رانا ثنا اللہ اور دیگر افراد شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور جماعت کے صدر شہباز شریف کو بھی جیل بھیجا گیا تھا لیکن وہ ضمانت پر باہر ہیں۔

جمعے کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پی پی پی کے رہنما قمر الزمان قائرہ سمیت 58 ارکان کے خلاف بھی دفعہ 144 کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے تاہم ان سب کی فوری ضمانتیں کرا لی گئی تھیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کا موقف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’یہ بھی رانا ثنا اللہ کیس کی طرح ایک بیہودہ اور لغو الزام ہے۔‘

جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ سینیئر صحافی عرفان صدیقی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’میں پاکستان میں فسطائیت سے انکار کرتا ہوں۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عرفان صدیقی کو رات دو بجے گرفتار کیا گیا اور اس معاملے میں وہ وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ کو نامزد کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عرفان صدیقی نے پاکستان میں انسانی حقوق کی آواز بلند کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کا پہلا قصور یہ ہے کہ وہ صحافی، مصنف، شاعر ہیں اور دوسرا قصور یہ کہ وہ نواز شریف کے دیرینہ ساتھی ہیں۔‘

’ان کے اوپر وہ مقدمہ درج کیا گیا ہے جو بھینس چوری سے بھی گرا ہوا مقدمہ ہے۔‘

مریم اورنگزیب کے مطابق عرفان صدیقی نے یہ گھر 20 جولائی کو کرائے پر دیا اور ان کے نام پر اس گھر کا مقدمہ ڈالا گیا جو ان کے نام پر بھی نہیں ہے۔

صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ ’عرفان صدیقی سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن انھیں قانون کرایہ داری کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر کے ہتھکڑی لگانا اور جیل بھیجنا قابل مذمت ہے۔‘

عرفان صدیقی کے وکلا نے ان کی ضمانت کی درخواست دائر کر دی تھی جس کی سماعت مہرین بلوچ کی عدالت میں پیر کو ہونا تھی مگر یہ سماعت اتوار کو کر کے ان کی ضمانت منظور کر لی گئی۔

اسی بارے میں