وادئ کُمراٹ میں سیاحت: ’یہاں تو پانی کا شور بھی سکون دیتا ہے‘

Kumrat
Image caption وادی کُمراٹ بیش بہا حسن کے باوجود سیاحوں کی توجہ حاصل نہیں کر پائی ہے

لاہور کو پیرس یا ملک کو سوئٹزرلینڈ بنانے کے دعوے تو آپ نے سیاستدانوں کے منہ سے سنے ہوں گے لیکن جب سوئس سیاح خود پاکستان کے کسی مقام کا تقابل اپنے ملک کے حسین نظاروں سے کرتے دکھائی دیں تو وہاں کا دورہ تو بنتا ہی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 384 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کی وادی کُمراٹ کو یہاں کے مقامی افراد ’پاکستان کا سوئٹزرلینڈ‘ کہتے ہیں اور شاید سچ کہتے ہیں کیونکہ اس کی گواہی دیتے ہمیں کیستوف دھو بھی ملے جو اپنی ساتھی فرینی کوپلو کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔

فرینی 30 برس بعد سوئٹزرلینڈ سے پاکستان آئی تھیں اور اب ان کی منزل کمراٹ تھی جہاں کے نظارے انھیں ہزاروں میل دور سے کھینچ لائے تھے۔

دنیا کے جھمیلوں سے دور قدرتی ماحول میں چند دن گزارنے کا ارادہ ہو اور آپ کی نگاہِ انتخاب وادی کُمراٹ پر جا رکے تو ذہن میں رکھیں کہ آپ کو چند مشکلات کا سامنا تو رہے گا لیکن ان سے گزر کر جب آپ منزل پر پہنچیں گے تو یہ وادی قدرتی نظاروں کے بارے میں آپ کے ذہن میں موجود تصور سے بھی زیادہ حسین نکل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب سمندر، پہاڑ اور صحرا ایک جگہ ہوں!

سون سکیسر: ’اتنی حسین جھیلیں لیکن بندہ نہ بندے کی ذات‘

’دنیا کی سب سے بڑی غلطی کی، واپسی سے خوف آ رہا ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کمراٹ تک پہنچنے کے لیے آپ کو چند مشکلات کا سامنا تو رہے گا، لیکن جب آپ منزل پر پہنچیں گے تو آپ کا دل خوش ہو جائے گا!

بادلوں سے گھرے برف پوش پہاڑوں کے درمیان واقع اس وادی میں کئی سرسبز بانڈے (چراہ گاہیں) ہیں۔

جہاں سے بھی گزریں پتھروں سے ٹکراتا دریائے پنجکوڑہ کا پانی آپ کو ہلکی پھلکی موسیقی کی مانند محظوظ کرتا ہے اور دیودار کے جنگلات سے اٹھنے والی مہک آپ کو اسی قدرتی حسن کی یاد دلاتی ہے جس کا تصور کر کے آپ نے یہاں آنے کا ارادہ کیا تھا۔

یہاں ہمیں گورنمنٹ ڈگری کالج نوشہرہ کی استاد پروفیسر آمنہ ملیں جو ہماری طرح پہلی بار کُمراٹ آئی تھیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہاں کی سب سے مزے کی بات اونچے اونچے پہاڑ اور ساتھ میں پانی کا شور ہے جو عجیب سا سکون دیتا ہے۔ ہے تو یہ شور لیکن آپ کو بہت زیادہ ذہنی سکون دیتا ہے۔'

کمراٹ
Image caption دھند سے گھرے برف پوش پہاڑوں کے درمیان واقع اس وادی میں کئی سرسبز بانڈے (چراہ گاہیں) ہیں

ذہنی سکون تو ملتا ہے لیکن یہاں پہنچنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وادی کُمراٹ بھی ملک کے دیگر مشہور سیاحتی مقامات میں شامل ہوتی لیکن ایسا نہیں ہے۔

دشوار گزار سفر

اور اُس کی وجوہات وہی مشکلات ہیں جن کا ذکر ہم آغاز میں کر چکے ہیں۔ اِن میں انتہائی پتھریلے راستوں پر سفر سرِفہرست ہے۔ اُس کے بعد باری آتی ہے انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی عدم دستیابی کی اور پھر یہاں تک رسائی کے لیے درکار پیدل سفر بھی آسان نہیں۔

اسلام آباد سے وادی کُمراٹ کا فاصلہ تو 384 کلومیٹر ہے یعنی اسلام آباد سے لاہور کے فاصلے سے کچھ کم لیکن یہ طے ہوتا ہے کم از کم 11 گھنٹے میں۔

دیر بالا تک کا سفر آسان اور پکی سڑک پر تھا سو خاصا جلدی طے ہو گیا لیکن اصل امتحان تو یہیں سے شروع ہوا۔ اُس کے بعد آنے والے علاقے شیرینگل میں موبائل سروس ساتھ چھوڑ گئی اور مزید آگے چل کر آنے والے گاؤں تھل میں سڑک بھی جاتی رہی۔

اس مقام سے کُمراٹ تک کا فاصلہ کہنے کو تو صرف 12 کلومیٹر ہے لیکن اسے طے کرنے میں مزید ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے۔

Kumrat
Image caption وادی کُمراٹ میں ہوٹل کم ہیں اور یہاں زیادہ تر سیاح کیمپنگ کو ترجیح دیتے ہیں

وادی کُمراٹ میں داخل ہوں تو پہاڑوں کے دامن میں دریائے پنجکوڑہ کی شاخ دریائے کمراٹ بہتی دکھائی دیتی ہے اور دوسری جانب چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں اور پھر وہ قدرتی نظاروں سے مالامال مقامات جہاں صرف وہی سیاح آتے ہیں جنھیں قدرتی حُسن دیکھنا ہو۔

رہائش کا خرچ

یہاں آپ کو حال ہی میں تعمیر ہونے والے چند ہوٹل بھی دکھائی دیتے ہیں جن کے مقامی مالکان سیاحوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی مہیا کرنے کی کوشش کرتے دکھائی تو دیتے ہیں لیکن اس کوشش میں کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

ہمارا قیام یہاں ایک ایسے ہوٹل میں رہا جہاں آپ کے کمرے سے واش روم متصل ہونا ہی اُسے ’سپر ڈیلکس روم’ بنا دیتا اور کرائے کو بڑھا دیتا ہے۔

وادی کُمراٹ کے آغاز میں واقع اس ہوٹل میں ایک خاص بات تھی اور وہ یہ کہ شرینگل کے بعد صرف یہاں ہی موبائل سگنلز آ رہے تھے اور وہ بھی صرف موبی لنک کے۔ یہ کہنے کو تو بڑی بات نہیں لیکن اگر آپ جانتے ہوں کہ اس سے آگے ان کا بھی امکان نہیں تو یہاں سے اپنے رشتہ داروں کو خیر خیریت کی اطلاع دینے میں کوئی حرج نہیں۔

Kumrat
Image caption یہ پوڈز رات گزارنے کے لیے سستے اور موسم کی سختی سے بچنے کے لیے مناسب سمجھے جاتے ہیں

یہاں عموماً ہوٹل کے کمرے سہولتوں کے حساب سے دو سے چھ ہزار روپے فی رات پر دستیاب ہیں۔ تاہم یہ اس علاقے میں قیام کا واحد انتظام نہیں۔ ایک سے دو ہزار روپے کی ادائیگی پر کیمپنگ کی سہولت مل جاتی ہے جبکہ لکڑی اور ٹین سے بنی جھونپڑیاں پندرہ سو سے دو ہزار روپے کے عوض مل جاتی ہیں۔

اگر آپ پوری طرح قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس کیمپنگ کے لیے اپنا انتظام ہے تو درختوں کے درمیان جہاں جگہ ملے کیمپ لگا لیں اِس کا کوئی معاوضہ نہیں لیکن خیال رہے کہ اس صورت میں رفع حاجت کھلی جگہ پر کرنی ہوگی۔

ٹراؤٹ کا مزہ

ممکن ہے کہ شہروں میں آپ کئی بار ٹراؤٹ مچھلی کے نام پر بےوقوف بن چکے ہوں لیکن یہاں آپ وہ بھی کھا سکتے ہیں اور اس میں بھی آپ کے پاس چوائس ہے کہ وہ ’فش پونڈ‘ کی ہو یا دریا کی۔

ٹراؤٹ کے شکار پر تو پاکستان بھر میں پابندی ہے لیکن یہاں ان مچھلیوں کی فارمنگ ہوتی ہے۔ سفر کی تھکان دور کرنے سے قبل ہم نے بھی ٹراؤٹ کا مزہ اٹھایا اور اگلی صبح وادی کی سیر کا منصوبہ بنا کر سو گئے۔

Kumrat
Image caption کیمپنگ کے دوران کسی جانور سے سامنا ہونے کے واقعات کم ہیں لیکن اِس کا امکان ضرور ہے لہٰذا احتیاطاً لوگ کلہاڑی ساتھ رکھتے ہیں

’جیپ نہیں تو جینا نہیں‘

وادی کمراٹ میں اگر آپ کے پاس فور بائی فور جیپ نہیں ہے تو آپ آگے کا سفر کسی بھی قیمت پر طے نہیں کر سکتے۔ لہٰذا اگر آپ کو ایسی صورتحال درپیش ہے آپ کو مقامی افراد کی مدد لینی ہو گی جو کہ جیب ہلکی کرنے میں آپ کی مدد کو ہر دم تیار دکھائی دیتے ہیں۔

جیپیں کرائے پر مل جاتی ہیں۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ چشمہ تک کرایہ ہے سات ہزار جبکہ دوجنگا جانا ہے تو دس ہزار دینے ہوں گے۔ کرائے سے واضح ہے کہ دوجنگا سب سے زیادہ طوالت پر واقع مقام ہے۔

جی ہاں یہ آخری مقام ہے جہاں تک جیپ رو دھو کر چلی جاتی ہے لیکن یہاں سے آگے اُس کی بھی حد ختم ہوجاتی ہے اور آپ کو پیدل سفر (ہائیکنگ) کرنا پڑتا ہے۔ ہوٹل سے دوجنگا کا فاصلہ صرف 24 کلومیٹر ہے لیکن یہ طے ہوتا ہے کم از کم ساڑھے تین گھنٹے میں اور وجہ وہی کہ اس راستے میں پتھر ہی پتھر ہیں کوئی کہکشاں نہیں۔

راؤشی ڈب

وادی کمراٹ کا سفر شروع کرنے کے بعد سب سے پہلا مقام راؤشی ڈب آتا ہے۔ مقامی افراد اسے ایسا میدان کہتے ہیں جو کبھی پھولوں سے بھرا ہوا تھا لیکن اب یہاں آلو کاشت ہوتا ہے جس کی دو وجوہات ہیں ایک معیشت اور دوسرا خوف۔

Kumrat
Image caption کمراٹ میں لوگ پینے کے لیے چشموں کے پانی اور دیگر کاموں کے لیے دریا کے پانی پر انحصار کرتے ہیں

یہاں کے رہائشی شوکت علی کے مطابق ’یہاں نواز شریف آئے تھے جب وزیرِاعظم تھے، اُنھوں نے یہ جگہ حکومت کو دینے کو کہا جسے مقامی کوہستانیوں نے منع کر دیا کیونکہ وہ یہاں کی زمین کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ اِس کے بعد عمران خان بھی ہیلی کاپٹر پر آئے اور اُنھوں نے اِسے نیشنل پارک بنانے کی خواہش ظاہر کی جسے دوبارہ قوم کے لوگوں نے مسترد کر دیا۔'

ان کے مطابق اِس کے بعد پھولوں کی جگہ گلابی آلو کاشت ہونے لگے تاکہ حکومت زرعی زمین حاصل کرنے کے بارے میں نہ سوچے۔

کُمراٹ آبشار

راؤشی ڈب سے آگے چلیں تو کُمراٹ آبشار آتا ہے۔ آبشار تک پہنچنے کے لیے جیپ سے اُتر کر 20 منٹ تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔

بلند پہاڑ سے گرنے والا یہ آبشار سارا سال جاری رہتا ہے سوائے موسمِ سرما میں ان چند دنوں کے جب یہاں شدید سردی اور برفباری اِسے بھی جما دیتی ہے۔

سردی کی بات تو چھوڑیں گرمی کے موسم میں بھی اِس کا پانی انتہائی ٹھنڈا تھا اور جولائی کی گرمی میں بھی اِس سے نہایا نہیں جا سکتا۔

Kumrat
Image caption گلابی رنگ کا آلو ہلکا سا نمکین ہوتا ہے اور اِس پر لگا چھلکا پانی سے دھونے پر ااتر جاتا ہے

توبوٹ ڈب

کچھ آگے بڑھیں تو ایک اور پیالہ نما میدان آپ کا استقبال کرتا ہے اس کا نام توبوٹ ڈب ہے۔

یہاں بھی کاشت کاری ہوتی ہے تاہم آلو کے علاوہ مٹر، شلجم، گوبھی اور سلاد وغیرہ بھی اُگائے جاتے ہیں لیکن اس کاشت کاری کا مقصد مقامی افراد کا اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بھرنا ہے۔

یہیں ایک کاشت کار نے ہمیں آلو دیے جن کے پکوڑے آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد کالا چشمہ کے مقام پر ہم نے ایک دکاندار سے بنوا کر کھائے اور تمام شریکِ سفر متفق نظر آئے کہ اِس سے زیادہ لذیذ آلو کے پکوڑے انھوں نے کبھی نہیں کھائے۔

کالا چشمہ

جہاں ہم پکوڑے کھانے کے لیے رکے اسے کالا چشمہ کہا جاتا ہے۔ اس چشمے کا پانی انتہائی صاف شفاف تھا مگر نجانے کیوں کسی نے اِس کا نام کالا چشمہ رکھ دیا ہے۔

غالباً جہاں سے یہ نکلتا ہے وہاں کائی جمع ہوجانے کے باعث لوگ اِسے کالا چشمہ کہنے لگے۔

اِس چشمے کا پانی اتنا یخ ہے کہ ایک منٹ بھی ہاتھ اندر رکھنا محال ہے۔ مقامی افراد اِس پانی کو بطور دوا بھی پیتے ہیں۔ اُن کے بقول اِس سے فرحت اور تازگی ملتی ہے اور جسم میں تراوٹ آتی ہے جو بیماریوں کا راستہ روکتی ہے۔

Kumrat
Image caption کالا چشمہ کے مقام پر دریا کا پاٹ چوڑا ہو جاتا ہے۔ یہاں سے آگے دریا سے گزر کر ہی جانا پڑتا ہے

ہم نے کالا چشمہ پر پکوڑے کھا لیے تاہم آپ یہ کوشش ضرور کریں کہ جب یہاں سے آگے کا سفر شروع کریں تو پیٹ خالی ہو کیونکہ راستے میں موجود پتھروں کا حُجم بڑا ہونا شروع ہو جاتا ہے جن پر جب جیپ چلتی ہے تو آپ اُس کے اندر بیٹھے کچھ گھڑیال کے پینڈولم کی سی حرکت کرنے لگتے ہیں۔

اس تکلیف سے نکلنے کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ توجہ برائے نام سڑک کے اطراف کے خوبصورت مناظر پر مرکوز کر لیں جو آپ کو بڑی سے بڑی تکلیف بھلانے کے لیے کافی تھے۔

یہیں ہمیں ماہم ملیں جو عمان سے اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان کی سیر پر آئی تھیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ 'راستہ بہت پتھریلا ہے اور راستے میں میرے پیٹ میں بہت درد ہوا۔ لیکن جب میں یہاں آئی تو میں نے اتنے پیارے پیارے پہاڑ اور سبزہ دیکھا تو میری طبیعت فریش ہو گئی۔'

بچاڑتن

کالا چشمہ سے آگے چلیں تو آپ کا سفری امتحان مزید سخت ہو جاتا ہے۔

پہاڑی پتھروں کی تعداد اور اُن کا حُجم مزید بڑھ جاتا ہے اور آپ تھک کر واپسی کے بارے میں سوچنا بھی شروع کر دیتے ہیں لیکن مقامی لوگ آپ کو یہ کہہ کر آگے بڑھنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ 'ابھی تو آپ نے کُمراٹ دیکھا ہی نہیں۔'

ابھی تک تو ہم دریا کے ایک جانب سفر کر رہے تھے لیکن اب باری تھی دریا کے دوسری جانب جانے کی۔

Kumrat
Image caption کمراٹ میں کسی بھی حادثے کی صورت میں صرف مقامی افراد پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ہنگامی امداد کا پہنچنا ناممکن ہے

یہاں ایک چھوٹا گاؤں بچاڑتن اور ایک خوبصورت چراہ گاہ یا بانڈہ بھی ہے جہاں اب بھی پھول ہیں۔

شاید وجہ یہ ہے کہ اس مقام تک جانے راستہ صرف پیدل طے کیا جا سکتا ہے اور اس سفر کے لیے بھی بہت کم سیاح ہمت کر پاتے ہیں۔

دراصل دریا عبور کرنے کے لیے مقامی افراد نے ایک بڑا درخت کاٹ کر دریا کے اوپر رکھ دیا ہے۔ مقامی لوگ تو بےدھڑک اس ’پل‘ پر سے گزر جاتے ہیں لیکن ہم شہریوں کے لیے یہ پُل صراط ثابت ہوا۔

دوجنگا

بچاڑتن سے آگے دوجنگا تک صرف آٹھ کلومیٹر کا سفر باقی تھا لیکن یہ تکلیف دہ حد تک دشوار ہے۔ کئی دشوار اور تنگ راستے ہیں۔ ہماری جیپ بھی کئی مقامات پر پتھروں سے ٹکراتے ٹکراتے بچی اور انھی پتھروں پر چل کر بالاخر ہم دوجنگا پہنچ گئے۔

دوجنگا دراصل تین مختلف وادیوں کا سنگم ہے اور یہاں سے آگے گاڑیاں نہیں جا سکتیں۔ مشرق کی جانب کونڈل شیئی بانڈہ، مغرب کی جانب کاشکُن بانڈہ اور شازور بانڈہ موجود ہیں جہاں پیدل جایا جا سکتا ہے۔

Kumrat
Image caption دشوار راستوں پر اکثر مقامات ایسے ہیں جہاں سے دو گاڑیاں ایک ساتھ نہیں گزر سکیں

دوجنگا میں بوندا باندی کے ساتھ تیز ہوا نے استقبال کیا۔ پھولوں کی خوشبو اور آلودگی سے پاک آب و ہوا نے راستے کی تھکن اُتار دی۔ یہ مناظر دیکھ کر ہمارے ساتھی موسی یاوری اپنا ڈرون کاپٹر اڑا کر علاقے کی عکس بندی کرنے لگے اور ڈرائیور اور میں کچھ سستانے لگے۔

دوجنگا ایسا علاقہ ہے جہاں رہائش کا کوئی انتظام نہیں اور آپ یہاں رات بسر نہیں کر سکتے مگر یہاں کے مناظر ایسے تھے کہ پوری ٹیم میں کسی کا بھی دل واپس جانے کو نہیں چاہ رہا تھا۔

ساتھ ہی ساتھ یہ خیال بھی آ رہا تھا کہ ہم پتھروں پر چل کر آ تو گئے ہیں لیکن واپسی کے راستے کے لیے کہیں سے کوئی کہکشاں مل جائے کیونکہ اُنھی پتھروں پر چل کر واپس جانے کے خیال سے روح فنا ہو رہی تھی۔

یہ خیالات جب ذہن میں گردش کر رہے تھے تو ہمارے مقامی گائیڈ نے پوچھا 'آپ آگے شازور بانڈہ نہیں جائیں گے؟' جواب آیا 'اب ہماری بس ہو گئی ہے۔ واپس جائیں گے۔'

ہمارے جواب پر ان کا جواب در جواب وہی تھا 'ابھی تو آپ نے کُمراٹ دیکھا ہی نہیں، اصل حسن تو وہاں ہے'۔

مزید حسین نظاروں کے خیال اور پانچ گھنٹے پیدل سفر کی تھکن کے مقابلے میں تھکن غالب رہی اور بادل نخواستہ واپسی کا سفر شروع ہوا۔

رباب
Image caption جتنی دیر میں درخت کٹ رہا تھا ہم دریا کے کنارے بیٹھے چند نوجوانوں کے رباب سے لطف اندوز ہونے لگے

واپسی پر ابھی کچھ دور ہی چلے تھے کہ راستے میں چند جیپیں کھڑی اور کچھ لوگ چلتے پھرتے دکھائی دیے۔ معلوم کیا تو پتا چلا کہ پتھریلی گزرگاہ جسے وہاں کے مقامی لوگ سڑک کہتے ہیں اور جس سے ہم گزر کر آئے تھے، ایک درخت گرنے سے بند ہو گئی ہے۔

یہاں کوئی انتظامیہ تو ہے نہیں لہٰذا ہم سے پہلے پہنچنے والی گاڑیوں کے مسافروں نے مقامی افراد سے وہ درخت کاٹ کر راستہ بنانے کی بات کی تھی اور اب ہمیں بھی اُس چار ہزار روپے کے معاوضے میں حصہ ڈالنا تھا جو اس محنت کے عوض طے ہوا تھا۔

جتنی دیر میں درخت کٹ رہا تھا ہم دریا کنارے بیٹھے چند نوجوانوں کے رباب سے لطف اندوز ہونے لگے اور یہاں دیکھتے ہی دیکھتے سماں بندھ گیا۔ درخت کٹا تو راستہ ملا اور سفر دوبارہ شروع ہوا۔

واپس ہوٹل پہنچنے تک رات کے دس بج چکے تھے۔ کھانے کے بعد نیند نے صبح دس بجے پیچھا چھوڑا۔ جب ہوٹل کے مینیجر سے دیگر مقامات کے بارے میں معلوم کیا تو اُنھوں نے باڈگوئی ٹاپ اور جہاز بانڈہ کا نام تجویز کیا۔

یہ مقامات وادی کمراٹ کا حصہ نہیں لیکن اگر آپ یہاں آئیں تو اِنھیں دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے مری جانے والے ایوبیہ ضرور جاتے ہیں۔ بس مسئلہ یہ ہے اِن دونوں مقامات کا سفر بھی دشوار گزار ہے۔

اُس ایڈونچر کے لیے مزید وقت درکار تھا جو پمارے پاس ختم ہو رہا تھا اِس لیے واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ واپسی کے اس سفر میں موبائل سروس، انٹرنیٹ، ہموار سڑکیں سب کچھ ملتا گیا لیکن وہ قدرتی ماحول نہیں جو ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔

Kumrat
Image caption درخت گرنے کے باعث گاڑیوں کا راستہ بند ہو گیا تو سیاحوں نے مقامی افراد کو پیسے دے کر راستہ صاف کروایا۔

مشکلات اور آسانیاں

وادی کمراٹ کے علاقے میں آسانی کے نام پر صرف دو چیزیں آپ کو ملیں گی۔ ایک خالص اور صحت مند خوراک اور دوسرا قدرتی ماحول۔ اِس کے علاوہ مشکلات کے نام پر بازار بھرا پڑا ہوگا۔ لیکن وادی کُمراٹ کے قدرتی حُسن کے آگے یہ مشکلات سہی جا سکتی ہیں۔

یہاں سڑک نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں کا رُخ نہیں کرتے۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگوں کے پاس جو گاڑیاں ہیں وہ یہاں چل نہیں پاتیں۔ یہاں جیپ لازمی ہے اِس لیے یہاں آنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پاتی۔ راستہ تکلیف دہ ہے اور پھر پیدل سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔

یہاں کوئی انتظامیہ نہیں ہے۔ لہٰذا جو کچرا سیاح پھینکتے ہیں اُسے اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ سیاحوں کو اِس بات کی تلقین کرنے والا کوئی نہیں کہ وہ اپنا کچرا ادھر اُدھر نہ پھینکیں۔

بارشوں میں یا کسی قدرتی آفت کے نتیجے میں کوئی راستے میں کہیں پھنس جائے تو اُسے صرف مقامی افراد کی مدد ملتی ہے جو یقیناً بہت تعاون کرتے ہیں لیکن اُنھیں وہاں سے نکالنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی انتظام نہیں۔

اگر آپ کسی مشکل میں پھنس جائیں تو اُس کی اطلاع کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ یہاں موبائل سروس یا انٹرنیٹ نام کی کوئی چیز نہیں۔ سیٹیلائٹ فون بھی گھنے جنگل کی وجہ سے صرف بالائی مقام پر کام کرتا ہے۔

سارے راستے میں بیت الخلا کا انتظام نہیں ہے جس کی اکثر ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ راستے میں روشنی کا بھی کوئی انتظام نہیں لہٰذا آپ کو سفر دن میں ختم کرنا ہوگا یا پھر روشنی کا بندوبست خود کرنا ہوگا۔

Kumrat
Image caption زراعت اور دیگر استعمال کے لیے دریا کا پانی جبکہ پینے کے لیے چشموں کا پانی استعمال ہوتا ہے

راستے میں کھانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ تو آپ کو راستے میں کھانے پینے کے لیے کچھ انتظام کرکے چلنا پڑے گا یا پھر کھانا واپسی پر آکر کھانا ہوگا۔

یہاں مقامی افراد سیاحوں سے کم بات کرتے ہیں اور وہ اردو کم ہی سمجھ پاتے ہیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ پشتو یا کوہستانی بولتے ہیں، انگریزی کا تو سوال ہی نہیں۔

مقامی عورتیں نظر ہی نہیں آتیں اور اگر کوئی نظر آ بھی جائے تو سر سے گھٹنوں کالی چادر سے ڈھکی ہوتی ہیں، یہاں تک کہ آنکھیں بھی نظر نہیں آتیں۔ شاید یہی وجہ ہے خواتین سیاح یہاں آنے سے ہچکچاتی ہیں۔

یہاں لوگ کیمرے کو پسند نہیں کرتے اور اگر کسی آبادی کو پس منظر میں رکھ کر آپ کوئی تصویر لیں تو لوگ آپ کو منع کرتے ہیں کہ وہاں آبادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں عکس بندی کے لیے اپنا ڈرون کاپٹر اُڑانے میں خاصی احتیاط کرنی پڑی۔

تاہم یہ علاقہ انتہائی پُرامن ہے اور مقامی افراد سیاحوں بالخصوص خواتین کی عزت اور حفاظت کرتے ہیں۔ جو خطرات عام طور پر شہری زندگی میں خواتین کو لاحق ہوتے ہیں وہ یہاں پر بہت کم ہیں۔

Kumrat
Image caption دو جنگا کے بعد گاڑیوں کا راستہ ختم ہوجاتا ہے اور سیاحوں کو اِس مقام کے بعد کئی گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑتا ہے

ہم نے سفر کے دوران کئی خواتین کو اکیلے سفر کرتے اور محظوظ ہوتے دیکھا۔ حفصہ جوہر اسلامیہ کالج پشاور سے کُمراٹ آئی تھیں اور اُن کے ساتھ ڈرائیور کے علاوہ کوئی مرد نہیں تھا۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا 'مجھے یہاں کے بارے میں سوشل میڈیا اور دوستوں سے معلوم ہوا۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ جگہ اتنی حسین ہوگی۔ یہاں قدرت کے جو حسین نظارے آپ دیکھیں گے وہ آپ کو کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ آپ کو سمجھ نہیں آ رہی ہوتی آپ ایک وقت میں کہاں کہاں اور کیا کیا دیکھیں۔'

۔

اسی بارے میں