پاکستان میں میڈیا سینسر شپ: ملازم ’میوٹ بٹن پر منڈلاتا رہتا ہے‘

میڈیا سینسر شپ
Image caption حزب اختلاف کے رہنماؤں کے انٹرویوز کو بیچ ہی میں روک دیا جاتا ہے

پاکستان کے معروف ٹی وی اینکر حامد میر کا حزبِ اختلاف کے رہنما آصف علی زرداری سے ابھی انٹرویو شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک نشریات رک گئی اور غیر متوقع وقفے کے بعد نیوز بلیٹن شروع ہو گیا۔

حامد میر نے اپنا غصہ ٹوئٹر پر نکالتے ہوئے نامعلوم سینسرز کو موردِ الزام ٹھہرایا لیکن کسی کا نام نہیں لیا۔ انھوں نے لکھا: ’ہم ایک آزاد ملک میں نہیں رہتے۔‘

اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد حزبِ اختلاف کی دوسری رہنما مریم نواز شریف کا انٹرویو بیچ میں ہی غیر متوقع طور پر روک دیا گیا اور جب وقفہ ختم ہوا تو مریم نواز کے انٹرویو کی جگہ حکمران جماعت کے ایک رہنما کا پرانا انٹرویو نشر ہونے لگا۔

اس کے باوجود مریم کا انٹرویو کرنے والے صحافی نے گفتگو جاری رکھی اور ٹی وی کی بجائے اسے ویڈیو نشر کرنے والی ایپ پر نشر کرتے رہے۔

یہ دو واضح مثالیں ہیں جنھیں پاکستان میں ’غیر اعلانیہ سینسرشپ‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے صحافیوں نے ملک کے اہم شہروں کے پریس کلب کے باہر مظاہرے کیے اور یہ مطالبہ کیا کہ اشاعت یا نشریات پر لگی پابندیاں ہٹائی جائيں۔

حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ شکایات متعصب صحافیوں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ واشنگٹن کے اپنے حالیہ دورے میں وزیر اعظم عمران خان نے سینسرشپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’یہ کہنا مذاق ہے کہ پاکستانی پریس پر پابندیاں ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سنسر: پاکستان بھی سعودی،چینی ماڈل پر عمل پیرا؟

پی ٹی آئی بنام صحافی برادری

صحافتی آزادی کے خلاف سرگرم 'پریس شکاری'

بہرحال اس بات کے واضح شواہد نظر آتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت اور پاکستانی فوج پر تنقید کو روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر بدعنوانی کے مقدمات میں غیرمنصفانہ رویہ رکھنے کے دعووں کو بھی دبایا جا رہا ہے۔

رپورٹررز ودآؤٹ بارڈرز کی 180 ممالک پر مبنی پریس کی آزادی کی فہرست میں پاکستان کا 142 واں نمبر ہے۔

پاکستانی فوج میڈیا میں سینسرشپ سے متعلق اپنے کردار سے انکاری ہے جبکہ پریس کی آزادی پر قدغن لگانا پاکستان کی امریکہ، افغانستان اور انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں سے متصادم ہے۔

صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کرانے میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

حالیہ سینسرشپ کی یلغار میں مریم نواز شریف نشانے پر ہیں۔ ان کے والد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف بدعنوانی کے الزامات میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hum TV
Image caption سابق وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز ضمانت پر رہا ہیں اور انھوں نے بدعنوانی کے ایک مقدمے میں اپیل کر رکھی ہے

رواں ماہ کے اوائل میں مریم نواز شریف نے نواز شریف کو مجرم قرار دینے والے جج کی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں وہ بظاہر یہ تسلیم کرتے نظر آ رہے ہیں کہ نواز شریف کو مجرم قرار دینے کے لیے انھیں بلیک میل کیا گیا تھا۔

بعد میں جج نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں ’رد و بدل‘ کیا گیا ہے۔ البتہ جن چینلز نے مریم نواز کی اس نیوز کانفرنس کو نشر کیا تھا ان کی نشریات کو کئی دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا۔

بعد ازاں مریم نواز کی ریلیوں میں کی گئی تقاریر کے بعض حصوں سے آواز کو بھی غائب کیا گیا۔

ایک صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کس طرح سینسرشپ کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز کی براہ راست نشریات کم از کم دس سیکنڈ کی تاخیر یا توقف سے نشر ہوتی ہیں اور ایک ملازم ’میوٹ بٹن پر تعینات ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جس بات کو میوٹ کرنا ہوتا ہے یا پھر ایک پورے حصے کو جو بہت زیادہ متنازع ہے اسے روکنا ہوتا ہے تو وہاں فوری طور پر اشتہار چلا دیا جاتا ہے۔

جن موضوعات پر تنقید کو سینسر کیا جاتا ہے ان میں موجودہ حکومت یا پاکستان کی طاقتور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ شامل ہے۔

صحافی نے بتایا کہ اگر اس امر کی پابندی نہ کی جائے تو غیض و غضب سے بھرپور فون کالز آتی ہیں یا پھر پاکستانی فوج یا انٹیلیجنس سروسز کا کوئی آدمی وہاں پہنچتا ہے۔

میڈیا میں کام کرنے والوں کو دھمکی دینے کے بجائے چینل پر ہی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔’اشتہار دینے والی ایجنسیوں کو کہا جاتا ہے کہ انھیں اشتہار نہ دیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’کیبل آپریٹروں کو کہا جاتا ہے کہ جس نمبر پر وہ چینل آتا ہے اس کا نمبر بدل دیں یا پھر اسے مکمل طور پر بند کر دیں۔ ان کے ہاتھ ہماری گردنوں پر ہیں۔‘

بہرحال یہ کہنا غلط ہوگا کہ ٹی وی پر سیاسی تنقید کرنے پر مکمل پابندی ہے۔ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے خلاف پریس میں ذاتی حملے آج سے پہلے اتنے زیادہ کبھی نہیں ہوئے۔ مریم نواز کے علاوہ حزبِ اختلاف کے دوسرے رہنما اب بھی ٹاک شوز پر آتے ہیں۔

میڈیا کے تجزیہ نگار عدنان رحمت نے کہا: ’ہم کم از کم کاغذ پر جمہوریت ہیں۔۔۔ آپ مصر کی طرح یہاں مکمل پابندی نہیں لگا سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سینسرشپ کا مطلب حزبِ اختلاف کے ’سرکردہ رہنماؤں‘ کے انٹرویو اور ان کی ریلیوں کی کوریج کو محدود کرنا ہے۔ لیکن ’دوسرے اور تیسرے درجے‘ کی شخصیات کو ٹی وی پروگرامز میں شرکت کی اجازت ہوتی ہے کیونکہ وہ ’نیوز میکر‘ نہیں ہوتے۔

عدنان رحمت نے کہا کہ سینسرشپ کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ بعض اوقات ’جابرانہ‘ اور کبھی کبھار ’غیر واضح‘ ہوتی ہے۔

گذشتہ سال پاکستان میں عام انتخابات کے موقع پر بھی انٹلیجنس سروسز کی جانب سے صحافیوں کو اسی قسم کے دباؤ کا سامنا تھا اور ایک بار پھر بے ضابطہ طور پر اس کا سامنا ہے۔

ایک اہم ٹی وی چینل کو ملک کے مختلف حصوں میں کئی ہفتوں تک نشر نہیں کیا گیا جبکہ سب سے معروف انگریزی اخبار کے سرکولیشن کو محدود کر دیا گیا ہے۔

فی الحال اس میڈیا سینسرشپ کا مقصد مبینہ طور پر عمران خان کو اقتدار میں لانے میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بحث کو روکنا لگتا ہے۔ اب جبکہ وہ وزیر اعظم ہیں تو بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ پریس کی آزادی میں مزید کمی آئی ہے۔

ٹی وی اینکر حامد میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمران خان کی حکومت کو ’سویلین آمریت` کے مشابہہ قرار دیا اور یہ الزام لگایا کہ ’سینسرشپ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔‘

لیکن ساتھ ہی انھوں نے ماضی میں حزبِ اختلاف کے اپنے دورِ حکومت میں صحافیوں کے ساتھ رویے پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا ’وہ ہمیشہ دوہرا کھیل کھیلتے رہے ہیں اور اب وہ اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘

Image caption صحافی حامد میر نے کہا کہ 2014 میں ان پر ہونے والے حملے کے پیچھے آئی ایس آئی ہے

حامد میر کو اس بات کا ذاتی تجربہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں کو کیا خطرات درپیش ہیں۔ وہ سنہ 2012 میں طالبان کے ایک حملے میں بچ گئے تھے جبکہ سنہ 2014 میں ان کے پیٹ اور پاؤں میں نامعلوم مسلح افراد کی چھ گولیاں لگیں۔

حامد میر نے سنہ 2014 کے حملے کے لیے آئی ایس آئی کے عناصر کو موردِ الزام ٹھہرایا لیکن آئی ایس آئی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔

عمران خان نے پاکستان میں سینسرشپ کو سرے سے خارج الامکان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بعض میڈیا چینلز کے مفادات ان کی حکومت کو زیر کرنے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے چینلز حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے ان دعووں کی حمایت کرتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات انتقامی ہیں۔

جب وہ واشنگٹن میں تھے تو انھوں نے ایک چینل کا نام لیے بغیر کہا کہ اس نے ایک کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ’بچانے‘ کی تمام کوشش کر ڈالی۔

رواں ماہ کے ابتدا میں ان کی پارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل سے کئی ٹوئیٹس آئیں جس میں یہ کہا گیا کہ پریس کی آزادی ’جمہوری معاشرے کا ستون ہے۔‘ بہرحال اس میں مزید کہا گیا ’اپنے مفاد کے حصول کے لیے پروپگینڈا کرنا اور شخصی کردار کشی کی مہم چلانا۔۔۔ پریس کی آزادی کو کمزور کرتے ہیں۔‘

پاکستانی پریس میں ایسی خبریں نظر آئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ حکومت ’جرم کے مرتکب افراد کے بیانیے کو فروغ دینے‘ کی میڈیا کی کوششوں پر پابندی لگانا چاہتا ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری، جن کے انٹرویو کو روک دیا گیا، انھیں بدعنوانی کے الزامات میں مقدمے کا سامنا ہے جبکہ مریم نواز شریف بدعنوانی کے مقدمے میں سزا دیے جانے کے خلاف اپیل کے سبب ضمانت پر ہیں۔

آصف علی زرداری کے انٹرویو کو روک دینے کے بعد مشیر برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق عوان نے صحافیوں کو بتایا کہ ایسا اس لیے کیا گیا کیوںکہ آصف علی زرداری جیل میں تھے اور ان پر مقدمہ چل رہا ہے اور انھیں صرف پارلیمان کے اجلاس میں آنے کی اجازت ہے۔

بہرحال پاکستان میں نشریات کے ضابطہ کاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے انٹرویو کو نشر ہونے سے روکنے کا حکم نہیں دیا تھا اور مزید کہا ’سزا یافتہ افراد‘ کی نشریات پر پابندی کا کوئی حکم ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔

حامد میر نے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی حکومت دونوں کو پریس کی آزادی پر قدغن لگانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کیونکہ ان دونوں کا کہنا ہے کہ وہ تمام مسائل پر ’ایک ہی صفحے پر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی فوج کا سیاست میں کتنا اثر و رسوخ ہے؟

پاکستانی فوج سیاست میں مداخلت سے انکار کرتی ہے لیکن بہت سے صحافیوں کا خیال ہے کہ وہ سینسرشپ کی پسِ پشت قوتِ محرکہ ہے اور یہ کہ فوج پر تنقید وہ ’سرخ لکیر‘ ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

امریکی حکومت سے چلنے والی نشریات وائس آف امریکہ کے ٹی وی بلیٹن کو پاکستان میں غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی کوریج کا نتیجہ ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کو افغانستان کے سرحدی اضلاع میں کافی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ان کی ریلیوں کو تقریباً نظر انداز کیا جاتا ہے۔

جس صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے سینسر شپ پر بات کی ہے، نے مزید بتایا ’ جو بات براہِ راست کہی جاتی اور جو نہیں بھی کہی جاتی، فوج دونوں کو متاثر کرتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’آپ عمران خان کو بھول جائیں، فوجی سربراہ کو بھول جائیں، چیزوں کی اس باریک بینی سے نگرانی کی جاتی ہے کہ اگر انھیں اپنی پسندیدہ وزیرِ اطلاعات کا ایک بیان بھی نظر آ جائے تو وہ اس کا سکرین شاٹ بھیج کر کہتے ہیں کہ اسے بریکنگ نیوز کے طور پر چلاؤ۔

'میں اکثر کہتا ہوں کہ بس اس بات کی کسر رہ گئی ہے کہ وہ کسی بریگیڈیئر کو نیوز اینکر کے طور پر بھیج دیں۔‘

اسی بارے میں