مولانا فضل الرحمن: حکومت اگست میں مستعفی نہ ہوئی تو اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب ’آزادی مارچ ‘ کریں گے

فضل الرحمن تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

جمیعت العلمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے اگست تک مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے اگر حکومت مستعفی نہیں ہوئی تو اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

یہ مطالبہ انھوں نے کوئٹہ میں اتوار کی شب پارٹی کے زیراہتمام میلین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے جعلی مینڈیٹ کے ذریعے موجودہ حکومت کو مسلط کیا۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ان کی سربراہی میں اسلام آباد میں جو آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی اس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ حکومت استعفیٰ دے اور نئے سرے سے صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

مزید پڑھیے

چیئرمین سینیٹ: کیا تحریکِ انصاف بوکھلاہٹ کا شکار ہے؟

اپوزیشن 25 جولائی کو یومِ سیاہ منائے گی

اپوزیشن سینیٹ چیئرمین کو کیوں ہٹانا چاہتی ہے؟

جے یو آئی کے امیر کا کہنا تھا یہ نوشتہ دیوار ہے حکومت اس کو پڑھ لے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان کو افغانستان نہ بناؤ۔

’میں پاکستان کو کھنڈرات نہیں دیکھنا چاہتا۔ میں پاکستان کو روبہ ترقی دیکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن اگر تم تضد ہو کہ ہم ناجائز ہو کر بھی ملک پر مسلط رہیں گے تو آؤ دو دو ہاتھ کر لیں دیکھا جائے گا کہ پھر اپ کا مستقبل کیا ہے اور ہمارا مستقبل کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کوئی بیوروکریٹ یا جرنیل ہمیں جمہوریت نہ سکھائے بلکہ جمہوریت کی تشریح سیاستدانوں نے کرنی ہے اور سیاست دانوں کے مطابق یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ان کا کہنا تھا کہ جعلی مینڈیٹ کی آڑ لے کر حکمرانی کی جارہی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کس کا ایجنڈا ہے۔

فضل الرحمن نے کہا کہ ملک کی معیشت ڈوبنے کی طرف گامزن ہے اور ہچکولے کھانے لگی ہے جس کے باعث بین الاقوامی ادارے بھی اس معیشت کو سپورٹ نہیں کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چین جو سرمایہ کاری کررہاتھا اس کو بھی معطل اور ضائع کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مضبوط معیشت کے بغیر کسی ملک کا دفاع ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری کسی ملکی معیشت کا چہرہ ہوا کرتی ہے۔ جب تاجروں نے کامیاب ملک گیر ہڑتال کرکے حکومت کی پالیسیوں کو مسترد کیا تو اس کے بعد کیا رہ جاتا ہے کہ اس حکومت کو مزید موقع دیا جائے۔

جے یو آئی کے امیر نے عدلیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا وکیل بھی چیخ رہا ہے جبکہ جو جج حکومت کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا وہ جج بھی محفوظ نہیں۔

’یہ کیسا احتساب ہے کہ ججوں کا ہاتھ مروڑ کر ان سے مخالفین کے خلاف فیصلہ لیا جائے۔‘

مولانا فضل الرحمان نے نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مشرف نے اسے مخالفین کے خلاف بنایا تھا لیکن نیب ان کے بقول آج جتنا رسوا ہوا وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ فوج سمیت دیگر ادارے اس ملک کے ادارے ہیں ان سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں لیکن ان کو چلانے والوں کی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ جعلی حکومت کے خلاف طبل جنگ بج چکاہے۔ ہم حکومت کا خاتمہ کرکے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’جعلی وزیراعظم‘ کا دورہ امریکا سب پر واضح ہوگیا۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جمعیت العلماءاسلام کے زیر اہتمام مارچ 15واں اور آخری ملین مارچ تھا اور اب ہم نے اسلام آباد کے لیے جانا ہے۔

’ہم حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ کسی مارچ سے بچ سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اگست تک مستعفی نہ ہوئی تو اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں