فکس اٹ: ’یہ نہیں ہو سکتا کہ کراچی پیرس بن جائے‘

فکس اٹ کارکن تصویر کے کاپی رائٹ General Secretary of Fixit
Image caption احتجاج کے دوران پیپلز پارٹی کارکنوں سے تصادم پر فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان اور کے چند ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا

اتوار کے روز فکس اٹ مہم کے بانی اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان اور ان کے ساتھیوں نے کراچی میں پانی کی کمی اور نکاسی آب کے مسائل کے خلاف صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے کیمپ آفس کے باہر احتجاج کیا۔

احتجاج کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے تصادم پر عالمگیر خان اور کے چند ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

عالمگیر خان نے سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے کراچی میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور کھلے مین ہولز کی جانب حکومتی توجہ مبذول کرانے کیلئے مہم 'فکس اٹ' شروع کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’مسائل پر بات کرنے سے تبدیلی کا آغاز ہوگا‘

کراچی کی ’سیاست میں وقت کم اور مقابلہ سخت‘

سماجی کارکن جبران ناصر کا کراچی سے انتخاب لڑنے کا اعلان

اپنی اس مہم میں انھوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں بغیر ڈھکن والے گٹروں پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا خاکہ بنا کر ’فکس اٹ‘ لکھ دیا تھا۔

تقریباً ایک ماہ قبل بھی عالمگیر خان نے کراچی میں سیوریج کے پانی کے خلاف انوکھا احتجاج کرتے ہوئے سیوریج کا گندا پانی وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے گیٹ پر پھینک دیا تھا۔

عالگمیر خان کے احتجاج کے اس انوکھے انداز اور حالیہ واقعے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ ایک رکن صوبائی اسمبلی عوامی مسائل کی نمائندگی اور انھیں حل کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے؟ کیا عالمگیر خان کا طریقہ احتجاج درست ہے یا وہ حد سے تجاوز کر رہے ہیں؟

کیا احتجاج کا یہ طریقہ درست ہے؟

اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان نے کہا ہے کہ وہ کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اور 18ویں ترمیم کے بعد کراچی کے تمام ادارے صوبے کے پاس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے قدم پر ہی احتجاج شروع نہیں کر دیتے بلکہ یہ آخری حد ہوتی ہے۔ ’میں پہلے اداروں سے ملا،درخواستیں دیں، دو سے تین بار ایم ڈی واٹر بورڈ سے ملا اور پھرواٹر بورڈ کے دفتر کے باہر اجتجاج کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ عوام کے ووٹ لے کر ایم این اے بنے ہیں اور جنھوں نے انھیں ووٹ دیے تھے وہ اب سوالات کرتے ہیں۔ ’میں گھر میں نہیں بیٹھ سکتا، پارلیمنٹ میں صرف ایک تقریر کر کے آرام سے نہیں بیٹھ سکتا۔ میں لوگوں کے لیے سڑکوں پر نکلوں گا لوگوں نے اسی امید پر مجھے ووٹ دیا تھا کہ میں ان کے حقوق کے لیے لڑوں گا۔‘

انھوں نے مزید کہ جب وہ احتجاج کی لیے لوگ جمع کرتے ہیں تو یہ (صوبائی حکومت) حملہ کرتے ہیں جس سے لوگ ہراساں ہوتے ہیں۔ ’حملے سے بچنے کے لیے تدبیر یہ اختیار کی جاتی ہے کہ ایک اکیلا آدمی جا کر احتجاج ریکارڈ کروانے اور حکومت کی توجہ مسئلے کی جانب مبذول کرنے کے لیے کچرا پھینک آئے یا سی ایم ہاؤس کے باہر پانی پھینکتا آئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عالمگیر خان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے قدم پر ہی احتجاج شروع نہیں کر دیتے بلکہ یہ آخری حد ہوتی ہے

انھوں نے کہا کہ ان پر اور ان کی ٹیم کے ممبران پر حکومتی کارندوں نے پولیس کی موجودگی میں تشدد کیا۔

’چلیے مان لیا کہ میں نے غلط کیا لیکن جو انھوں نے کیا (تشدد) کیا وہ ٹھیک ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے لیے انھوں نے سرکاری عمارت کا انتخاب کیا نہ کے کسی کے ذاتی گھر کا اور دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

عالمگیر خان کا کہنا تھا کہ کیا پیپلز پارٹی نے پاکستان کی پارلیمان کے سامنے کبھی احتجاج نہیں کیا؟

’ہم سرکاری پیسوں سے چلنے والی عمارتوں، جہاں حکومتی لوگ بیٹھتے ہیں، وہاں احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک مسائل موجود ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے اس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔‘

کیا فکس اٹ کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے؟

اس بات کی نفی کرتے ہوئے عالمگیر خان کا کہنا تھا کہ فکس اٹ ایک خودمختار ادارہ ہے جہاں احتجاج کا فیصلہ ادارہ اور اس کے لوگ کرتے ہیں۔ ’تاہم اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ جب بھی مجھ پر یا میری ٹیم پر عوامی مسائل حل کرواتے ہوئے کوئی مشکل آن پڑی تو پی ٹی آئی نے ہماری مدد کی اور ہمیں مشکل صورتحال سے بچایا۔‘

’ہم اپنے فیصلے خود کرتے کسی سیاستدان کی ایما پر نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اس بات پر نالاں رہتے ہیں کہ احتجاج کرنے سے قبل انھیں آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا۔‘

انھوں نے کہا وہ شروع سے سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور عوامی مسائل اپنے طریقے سے حل کرنے کوشش کرتے ہیں۔

عالمگیر خان کے مطابق جب کوئی لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مہم چلاتا ہے تو وہ سیاسی نوعیت کی ہی ہوتی ہے۔

لوگوں کو احتجاج کا یہ طریقہ درست لگے یا غلط لگے فکس اٹ اسے جاری رکھے گا۔

’کراچی کو پیرس نہیں بنا سکتے‘

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کراچی میں لوکل گورنمنٹ کے وزیر ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ عالمگیر خان کا احتجاج ڈرامہ بازی اور سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نالوں کی صفائی صوبائی حکومت کا کام نہیں بلکہ کراچی میونسپل کارپوریشن کا کام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/PTISINDHOFFICIAL
Image caption سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا ہے فکس اٹ احتجاج پی ٹی آئی کے ایما پر کرتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ عالگمیر خان دعویٰ کرتے تھے کہ وہ غیر سیاسی شخص ہیں جو صرف شہر کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بعد میں وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر منتخب ہوئے۔

سعید غنی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ صرف فکس اٹ کا نام استعمال کیا جاتا ہے اصل میں یہ پی ٹی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ ڈرامے کرے گی تو ان پر زیادہ تنقید کی جائے گی لہذا وہ فکس اٹ کا نام استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے یہ مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی اس بات کی وضاحت کرے کہ آیا فکس اٹ ان کے ساتھ ہے یا نہیں؟

سعید غنی کے مطابق پی ٹی آئی والے عموماً یہ کہتے پائے گئے ہیں یہ ان کا احتجاج اور فکس اٹ سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن لیکن جب کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو پی ٹی آئی کی ساری قیادت جمع ہو جاتی ہے۔

کراچی میں سیوریج اور کچرے کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ اس پر کام کیا جا رہا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کراچی پیرس بن جائے۔

اسی بارے میں