’ذریعہ تعلیم مادری زبان ہونا چاہیے، خواہ وہ اردو ہو، پشتو ہو، سندھی یا بلوچی‘

پاکستانی سکول تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’میں نے سنہ 1966 میں ایم اے انگلش کیا تھا اور50 سال سے زیادہ عرصے سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوں مگر آج بھی اگر انگریزی میں فلسفے کی کوئی مشکل تحریر مل جائے تو اسے پڑھ کر میں پہلے اردو میں ترجمہ کرتا ہوں اور پھر سمجھتا ہوں۔‘

یہ کہنا ہے محکمہ تعلیم میں ملازمت اور رٹائیرمنٹ کے بعد نجی تعلیم کے شعبے سے وابستہ اور پنجاب میں ایک نجی سکول کے منتظم پروفیسر وقار ظہیر کا۔

ان کے مطابق پاکستان کے بہت سے سکولوں میں بچوں کو تو کیا اساتذہ تک کو بھی انگریزی نہیں آتی اور وہ بھی ترجمہ کر کے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

ترجمہ کر کے پڑھانے کے مسئلے کو ہی اب ایک حکومتی اقدام حل کرنے کی کوشش کرنے والا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں پرائمری سطح پر اردو کو ذریعۂ تعلیم (میڈیم آف انسٹرکشن) بنایا جائے گا۔ عثمان بزدار کے مطابق اس کا اطلاق آئندہ سال مارچ سے ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

استانی کی ہلاکت پر سکول کے خلاف کارروائی کی سفارش

تعلیمی بجٹ میں اضافہ اساتذہ کی تنخواہوں اور پینشن کی نذر

’خیبر پختونخوا میں 34 فیصد بچے سکول نہیں جاتے‘

’جہاں غریب بچوں کی زندگی روشن ہو رہی ہے‘

مگر کیا پاکستان میں یا کم از کم پنجاب میں ایسا کرنا کوئی مثبت اقدام ہے یا پھر پیچیدگی؟

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا ہے ’میری رائے میں ذریعہ تعلیم مادری زبان ہونا چاہیے۔ خواہ وہ اردو ہو، پشتو ہو، سندھی ہو یا بلوچی۔ کیونکہ بچے کم عمری میں سب سے بہتر اپنی مادری زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ اردو ہی ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ مادری زبان کے حوالے سے لیا گیا ہے تو یہ بہتر فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انگریزی ایک انتہائی اہم زبان ہے اور اس کو شروع سے ہی بطور ایک مضمون کے پڑھایا جانا بہت ضروری ہے اور اسے شروع سے ہی لازمی ہونا چاہیے۔

حکومت کی اعلان کردہ پالیسی میں انگریزی کو پرائمری سکول کی سطح تک بطور ایک مضمون کے شامل کرنے کا کہا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ کیا اسے لازمی قرار دیا جائے گا۔

مگر کیا اس انداز سے طلبہ کے لیے سائنس یا ریاضی جیسے تکنیکی مضامین میں مشکلات نہیں پیدا ہو جائیں گی کہ پرائمری کے بعد اسی مضمون کو نئے الفاظ اور ناموں میں ڈھالا جائے؟

اس حوالے سے ڈاکٹر عطا الرحمان کہتے ہیں ’دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ پرائمری سطح تک مادری زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ بچے کو انگریزی میں کوئی بات سیکھانے کی کوشش کریں گے جبکہ اس کی مادری زبان کوئی اور ہے تو مشکلات ہوں گی۔‘

اگر مادری زبان اردو نہیں ہے اور آپ اسے لاگو کرتے ہیں تو اس کے بھی مسائل سامنے آئیں گے مگر انگریزی کے مقابلے میں اردو میں پھر بھی آسانی ہو گی۔ اس کو لاگو کرنے کے لیے انتظامی طور پر آپ کے پاس کتابیں ہونی چائیں اور اساتذہ ہونے چاہیئں اور یہ خاصا مشکل مرحلہ ہے۔‘

تعلیم کے شعبے سے منسلک غیر سرکاری تنظیم اثر کی سربراہ بیلا جمیل کہتی ہیں کہ ’میں تو چاہوں گی کہ کچھ علاقوں میں تو پنجابی کا بھی تجربہ ہونا چاہیے۔ یہ ایک بہت منطقی چیز ہو گی۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہم (ان کے ادارے) نے بھی کچھ سال قبل جب انگریزی میڈیم متعارف کروایا جا رہا تھا ایک تجربہ کیا جس میں سرکاری اور نجی سکولوں سے تعلق رکھنے والے 2200 اساتذہ شریک ہوئے تھے۔ اس میں اساتذہ کی کارکردگی اتنی بری تھی کہ ہم نے کہا کہ یہاں کے اساتذہ انگریزی میڈیم کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ اسی لیے مجھے خوشی ہے کہ انگریزی میڈیم سے ہٹ رہے ہیں کم از کم پرائمری سطح پر۔‘

تاہم انھیں ایک خدشہ ضرور ہے۔

وہ کہتی ہیں ’اللہ کرے انگریزی بطور ایک مضمون کے پڑھائی جائے۔ یہ نہ ہو کہ انگریزی کے مضمون میں اسلامیات پڑھ رہے ہوں۔ یہ مسائل تو ہیں آپ کی 12 ابواب کی کتاب ہو گی تو چھ تو اسلامیات میں ہوں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں