یہ کون ہے جسے رانا ثنا اللہ سے ملنے چل کے آنا پڑا

رانا ثنا اللہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید توسیع دے دی

مسلم لیگ نواز کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ خاں سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف ان سے ملاقات کے لیے انسدادِ منشیات کی عدالت پہنچ گئے۔

شہباز شریف کو اپنے سابق صوبائی وزیر سے ملاقات کیلئے لگ بھگ ایک کلو میٹر کا فاصلہ پیدل چل کر طے کرنا پڑا.

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے مطابق انھوں نے رانا ثنا اللہ سے ملاقات کیلئے متعلقہ حکام کو ایک سے زیادہ مرتبہ درخواست دی لیکن انھیں اجازت نہیں ملی.

یہ بھی پڑھیے

اصل ہدف کون ہے، ن لیگ کا پرانا نظام یا خود ن لیگ؟

نواز شریف کے سابق مشیر عرفان صدیقی جیل سے رہا

رانا ثنااللہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

شہباز شریف نے کہا کہ عدالت میں کوئی بھی جا سکتا ہے اور اس لیے وہ رانا ثنا اللہ سے ملاقات کیلئے عدالت آئے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب مسلم لیگ نواز کی اعلیٰ قیادت میں سے کسی نے اسیر پارٹی رہنما کے ساتھ عدالت میں جا کر خصوص طور پر ملاقات کی ہو۔

پیر کے روز انسدادِ منشیات فورس یعنی اے این ایف نے رانا ثنا اللہ کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیش کیا.

رانا ثنا اللہ خان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمیشن کو جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگ کر بند کردیا گیا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جوڈیشل کمپلیکس کی جانب جانے کی اجازت نہیں تھی.

شہباز شریف کی گاڑی کو اس وقت پولیس اہلکاروں نے روکا جب وہ ملاقات کیلئے جوڈیشل کمیشن سے لگ بھگ ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھے. گاڑی کو جوڈیشل کمپلیکس جانے کی اجازت نہ ملنے پر شہباز شریف اپنی گاڑی سے باہر نکل آئے اور پیدل چلنے کا فیصلہ کیا.

شہباز شریف اپنے خلاف ریفرنس کی سماعت کیلئے اسی جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہوتے رہتے ہیں لیکن پہلی مرتبہ انھیں یہاں پیدل چل کر آنا پڑا.

اپنے گارڈز کے حصار میں وہ پیدل چلتے ہوئے جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہوئے. اسی دوران شہباز شریف ٹھوکر لگانے سے لڑکھڑئے اور ان کے پاؤں سے جوتا بھی اتر گیا.

انسدادِ منشیات کی عدالت میں پہنچ کر انھوں نے رانا ثناء اللہ کے عدالت میں پیش ہونے کا انتظار کیا.

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’رانا ثنا اللہ سے ملاقات کیلئے متعلقہ حکام کو ایک سے زیادہ مرتبہ درخواست دی لیکن اجازت نہیں ملی‘

شہباز شریف نے رانا ثنا اللہ کے کمرہ عدالت میں داخل ہونے پر ان کا استقبال کیا اور انھیں تھپکی دی. اس موقع پر دونوں رہنماؤں میں تقریباً 20 منٹ تک بات چیت ہوئی.

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے رانا ثنا اللہ کیخلاف مقدمے کی کارروائی دیکھی اور سماعت ملتوی ہونے کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوئے.

انسداد منشیات کی عدالت کے باہر رانا ثنا اللہ نے اپنے خلاف مقدمے کو ایک مضحکہ خیز قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ وہ ویڈیو کہاں ہیں جس کا ذکر وزیر شہر یار خان آفریدی نے کیا ہے.

عدالت نے رانا ثناء کو گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت دینے کے معاملے پر جیل حکام سے جواب مانگ لیا.

رانا ثنا اللہ کے وکلا نے اعتراض اٹھایا کہ اے این ایف نے مقدمہ کا نامکمل چالان عدالت میں پیش کیا ہے.

انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی اور انھیں 9 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا.

رانا ثنا اللہ کو کن الزامات کا سامنا ہے؟

یکم جولائی سنہ 2019 کو اے این ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر عزیز اللہ کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق مخبری پر ان کی ٹیم نے رانا ثنا اللہ کی لینڈ کروزر کو لاہور کے نزدیک موٹر وے پر روکا اور تلاشی لینے پر ن لیگی رہنما نے گاڑی میں موجود نیلے رنگ کے سوٹ کیس میں ہیروئن کی موجودگی کا اعتراف کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق اس اثنا میں رانا ثنا کے محافظین کی اے این ایف کی ٹیم سے ساتھ ہاتھا پائی شروع ہوگئی اور امن و امان کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے کر اے این ایف کے تھانے پہنچا دیا گیا۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ سامان کا وزن کرنے پر سوٹ کیس میں 15 کلو گرام کی ہیروئن برآمد ہوئی جس میں سے 20 گرام ہیروئن کو بطور نمونہ کیمیائی تجزیہ کے لیے بھیج دیا گیا۔

اس کے علاوہ ملزمان سے 223 بور کا اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد ہوئے۔

رانا ثنا اللہ کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی اے این ایف نے گرفتار کیا تھا اور اس وقت وہ رکن پنجاب اسمبلی تھے۔ گرفتاری کے دوران رانا ثنا اللہ کی مونچھیں اور بھنویں بھی مونڈ دی گئی تھیں۔

اسی بارے میں