مون سون: سندھ کے مختلف شہروں میں شدید بارشیں، کراچی میں کم از کم نو افراد ہلاک

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جب کراچی شہر ڈوب رہا ہو تو شہری کیا کریں؟

سندھ کے مختلف شہروں میں پیر کو مون سون کی پہلی بارش نے شہری نظام درہم برہم کر دیا اور بارش کے باعث کرنٹ لگنے سے کراچی میں نو افراد ہلاک ہوگئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

کراچی پولیس کے مطابق یہ ہلاکتیں شہر کے مختلف علاقوں میں ہوئیں جبکہ شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال جناح ہسپتال کے شعبے ایمرجنسی کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ان کے پاس پانچ افراد مردہ حالت میں لائے گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

دن بھر ہونے والی بارش کی وجہ سے مختلف شہروں کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور بالخصوص کراچی میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔

کئی علاقوں میں گھروں کے اندر سیوریج کا پانی داخل ہوگیا جبکہ شہر کی مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا جہاں گاڑیاں گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسی رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان: مون سون کی آمد پر پانچ احتیاطی تدابیر

انڈیا: سیلاب میں پھنسے 700 مسافروں کو بچا لیا گیا

پاکستان میں معمول سے زیادہ برفباری، سردیاں طویل

تیز بارش کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

شہری سکیورٹی اور سیفٹی امور کے ماہر ناربرٹ المیڈا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے باعث ہونے والی اموات میں سب سے بڑی وجہ بجلی کے ننگے تار اور خراب وائرنگ ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ بعض اوقات تار گر جانے سے بھی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ احتیاط نہیں برتتے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برسات کے پیشِ نظر کے الیکٹرک کی جانب سے تنبیہہ جاری کی گئی تھی جس میں بجلی کے کھمبوں اور ٹوٹے ہوئے تاروں کے قریب جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

مون سون سیزن کے پیشِ نظر کے الیکٹرک نے شہریوں کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا انتباہ جاری کر رکھا ہے جس میں بارش کے دوران گیلے ہاتھوں سے برقی آلات نہ چھونے، بجلی کے کھمبے، درختوں یا پی ایم ٹی کے قریب نہ جانے جبکہ بچوں کو بجلی کے ساکٹ سے دور رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ناربرٹ المیڈا نے کہا کہ خاص طور پر وہ افراد کو نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر ہوں ان کو چاہیے کہ وہ بارشوں کی صورت میں گھر سے نکلنے کا اہتمام پہلے سے کر کے رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے تمام افراد کو اس کا علم ہو۔

اس کے علاوہ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گھر سے نکلتے ہوئے بجلی کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے ورنہ شارٹ سرکٹ ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دن بھر مسلسل بارش

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ بارش صدر میں 60 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، گلشن حدید میں 21، لانڈھی میں 12 اور کیماڑی میں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمے کے مطابق کراچی میں جناح ٹرمینل کے اطراف میں 35ملی میٹر، موسمیات میں 34 ملی میٹر، مسرور بیس میں 32 ملی میٹر، ناظم آبادمیں 39، ایئرپورٹ کےعلاقےمیں 38 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

کراچی کے دیگر علاقوں میں سرجانی میں 50ملی میٹر، فیصل بیس میں 45 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 42 ملی میٹر اور سب سے زیادہ 60 ملی میٹربارش صدرمیں ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارش کا یہ سلسلہ 2 روز سے زائد جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بجلی کی معطلی

بارش کے بعد بجلی کا نظام ترسیل درہم برہم ہو گیا اور شہریوں نے سوشل میڈیا پر شکایات کی بوچھاڑ کر دی جہاں انھوں نے کراچی الیکٹرک کو آڑے ہاتھ لیا۔

البتہ کمپنی کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ شدید بارشوں کے باوجود شہر میں مجموعی طور پر بجلی کی فراہمی کا سلسلہ بغیر تعطل کے جاری رہا۔

کراچی الیکٹرک نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی کا عملہ تندہی سے بارش کے باوجود کام میں مصروف رہا اور اپنے صارفین کی شکایت جلد از جلد دور کیں۔

لیکن دوسری جانب ٹوئٹر پر فیس بک پر کراچی الیکٹرک کے خلاف سخت پیغامات جاری کیے گئے اور ان کی اہلیت پر سوالات اٹھائے گئے۔

سکولوں کی تعطیلات میں اضافہ

ادھر محکمہ تعلیم سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ہونے والی بارش کے پیش نظر صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں عام تعطیل کا اعلان کردیا۔

سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق 30 جولائی کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں اسکول اور دیگر تعلیمی اداروں بند رہیں گے۔

انھوں نے تمام ڈائریکٹران کو اپنے ضلعی و تعلقہ افسران کو فیلڈ میں بھیجنے کے احکامات بھی جاری کردیے۔

سیکریٹری تعلیم کا نوٹیفکیشن میں کہنا تھا کہ افسران اپنے اپنے علاقوں میں جائیں اور اسکولوں سے فوری پانی نکلوانے کے لیے اقدامات کریں۔

اسی بارے میں