راولپنڈی میں فوجی طیارے کی تباہی کے عینی شاہدین اور متاثرین نے کیا دیکھا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
راولپنڈی طیارہ حادثے کی عینی شاہد زہرہ کے مطابق پائلٹ نے جہاز کو کہیں اور موڑنے کی بہت کوشش کی

پاکستانی فوج کا جو طیارہ پیر اور منگل کی درمیانی شب راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کاہلو میں گر کر تباہ ہوا اس میں سوار افراد کے علاوہ 13 ایسے عام شہری بھی ہلاک ہوئے جن کے مکانات یا تو اس حادثے کی وجہ سے منہدم ہوئے یا ان میں آگ بھڑک اٹھی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے اس حادثے کے عینی شاہدین اور متاثرین سے بات کی۔

یہ بھی پڑھیے

راولپنڈی: فوجی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 18 ہلاک

راولپنڈی میں رہائشی علاقے پر طیارہ گرنے سے ہلاکتیں

پاکستان میں فضائی حادثات کی تاریخ

’پائلٹ نے رخ موڑنے کی بہت کوشش کی مگر طیارہ گر گیا‘

واقعے کی عینی شاہد زہرہ نامی خاتون نے بی بی سی اردو کی فرحت جاوید کو بتایا کہ ’ہمارے گھر اوپر ہیں۔ جہاز جب آیا تو اسے آگ لگی ہوئی تھی۔

’ہمارے گھر کے اوپر سے جب جہاز گزرا تو ہم نے اپنے بچے باہر نکالے کیونکہ جہاز گرنے والا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ حادثے کے وقت چھت پر ہی موجود تھیں۔ ’ہم اس وقت چھت پر ہی تھے اور جہاز چھت کے اوپر سے گزر چکا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ گر گیا۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عینی شاہد: ’جہاز میں پہلے سے ہی آگ لگی ہوئی تھی‘

زہرہ کے مطابق پائلٹ نے طیارے کا رخ موڑنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا۔ ’اس (پائلٹ) بیچارے نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ جہاز کو کسی اور جانب موڑ سکے لیکن جہاز مڑا ہی اس طرف اور پھر گر گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ امدادی کارروائیاں کچھ تاخیر سے شروع ہوئیں۔ ’جب یہاں آئے تو خلقِ خدا تھی اور پھر دو گھنٹے بعد جو لوگ جل گئے تھے انھیں نکالا گیا وہ بھی جب آرمی والے آئے تو انھوں نے نکالے۔‘

’بھائی، بھابھی جل کر راکھ ہو گئے‘

طیارہ جن مکانات پر گرا ان میں یامین کا مکان بھی شامل تھا اور وہ خود بھی حادثے کے وقت وہیں موجود تھے۔

انھوں نے بی بی سی اردو کی فرحت جاوید کو بتایا کہ ’دو بجے کا وقت تھا۔ ہوش نہیں تھا، پتا ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک دم بندہ نیند سے اٹھے تو کچھ سمجھ بھی نہ آتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مکان کی پہلی منزل پر موجود تھے کہ ایک زوردار آواز آئی اور پھر پیٹرول پھیل گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔

’ایک دم اٹھا ہوں، بیگم کو اٹھایا، بچی کو کھڑکی سے نکالا، پھر سیڑھیوں سے نیچے اترا اور والد اور والدہ کو آواز دی پھر انھیں دوسری جانب سے نکالا۔

یامین کے مطابق مکان کی نچلی منزل پر ان کے بھائی اپنی اہلیہ اپنے تین سالہ بیٹے کے ہمراہ سوئے ہوئے تھے جو اس حادثے میں مارے گئے۔

’بھائی، بھابی اور ان کا تین سال کا بچہ تھا وہ نہیں رہے، راکھ ہو گئے وہ بالکل۔ ان کی کھڑکی بھی بند تھی اور دروازہ بھی۔ بڑی کوشش کی انھیں نکالنے کی لیکن وہ جل گئے، خاک ہو گئے۔ کچھ بھی نہیں بچا۔‘

’جدھر جدھر شعلہ گیا اس نے سب ختم کر دیا‘

محمد خان کے بھائی عبدالحمید کا خاندان اس حادثے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

انھوں نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ’بھائی بچ گئے لیکن ان کی بیوی، دو بچے، دو بچیاں، ساس، سالا اور ایک اس کی بچی یعنی کل آٹھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے جدھر جدھر شعلہ گیا اس نے سب ختم کر دیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میری ان سے کل فون پر بات ہوتی رہی تھی اور دس بجے کے بعد ہم بھی سو گئے تھے۔ یہ دو بجے کا واقعہ ہے اور جب فجر کی اذان ہو رہی تھی تو ہم بھی یہاں پہنچے۔ ہمیں فون کر کے بتایا گیا کہ آپ کا گھر جل گیا ہے اور کچھ نہیں بچا۔‘

محمد خان کے مطابق ان کے بھائی کو لاشوں کی شناخت کے لیے سی ایم ایچ لے جایا گیا ہے۔

’جب ہم پہنچے تو انھوں نے تمام لاشیں اٹھا لی تھیں۔ اس میں سے ہمارے جاننے والوں کی تو کوئی بھی نہیں تھیں۔ دو لاشیں انھوں نے بعد میں بھی اٹھائیں لیکن ان میں بھی ہمارا کوئی نہیں تھا۔ ہمارے بھائی اس وقت سی ایم ایچ گئے ہوئے ہیں جہاں انھیں شناخت کے لیے بلایا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں