کوئٹہ کے لیاقت بازار میں دھماکہ، چار ہلاک

کوئٹہ دھماکہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کے روز ایک بم کے ایک دھماکے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔

سٹی پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار کے مطابق بم دھماکہ لیاقت بازار میں سٹی تھانہ کے سامنے ہوا۔

اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک گاڑی کاسی روڈ سے لیاقت روڈ کی جانب مڑی۔

بظاہر دھماکے کا ہدف پولیس کی گاڑی تھی۔

ایک عینی شاہد نجیب اللہ نے، جو ایمبولینس چلاتے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ وہ قریب ہی سبزی مارکیٹ سے سبزی خرید رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کوئٹہ: نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، تین ہلاکتیں

کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، چار اہلکار ہلاک

کوئٹہ میں بم دھماکہ، دو پولیس اہلکار ہلاک

کوئٹہ میں دہشت گردی، وزیر اعظم کی سربراہی میں اہم اجلاس

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سنتے ہی وہ جائے وقوعہ پر گئے جہاں انہوں نے بڑی تعداد میں زخمی دیکھے۔

نجیب اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ایمبولینس میں دو بچوں، دو خواتین اور تین مردوں کو سول ہسپتال پہنچایا۔

دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ سٹی پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ہسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ کاکہنا یہ بتاناقبل از وقت ہوگا کہ دھماکہ خودکش تھا یا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے میر ضیاءاللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی قربانی سے امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے جن میں سرحدی علاقوں میں باڑ لگانا بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باڑ لگانے سے بد امنی کے واقعات میں کمی آئی ہے

اس سے قبل 23 جولائی کو مشرقی بائی پاس پر شیر جان سٹاپ پر ایک دھماکے میں4 افراد ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں سنہ 2000 کے بعد سے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے بد امنی کے دیگر واقعات کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب کوئٹہ شہر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں