راولپنڈی میں فوجی طیارے کا حادثہ: ’بابا سکول کی کتابیں لے کر دو نا‘

طیارہ حادثہ
Image caption محمد خان اپنے بھائی عبدالحمید کے اہلخانہ کی طیارے حادثے کے باعث ہلاکتوں کی تفصیلات بتا رہے ہیں

راولپنڈی کے نواحی علاقے موہڑہ کالو میں آرمی ایوی ایشن کا طیارہ گر کر تباہ ہونے کی وجہ سے 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے متاثرین میں ایک ایسا گھرانہ بھی ہے جس کے آٹھ افراد پیر کی شب جب سوئے تو وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے لیے دوبارہ اس نیند سے اٹھنا ممکن نہ ہو گا۔

عینی شاہدین کے مطابق جہاز کے گرنے کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی چیخیں اس دھماکے میں ہی دب کر رہ گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

’بھائی، بھابھی، بھتیجا سب جل کر راکھ ہو گئے‘

راولپنڈی: فوجی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 18 ہلاک

راولپنڈی میں رہائشی علاقے پر طیارہ گرنے سے ہلاکتیں

پاکستان میں فضائی حادثات کی تاریخ

عبدالحمید جو کہ راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان میں ایک ہوٹل پر بیرے کا کام کرتے تھے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گذشتہ 20 سال سے موہڑہ کالو میں رہائش پذیر تھے۔

وہ خود حادثے سے چند گھنٹے قبل ہی اپنے چھوٹے بھائی محمد خان سے ملنے ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

محمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بڑے بھائی کاروبار کے سلسلے میں ان سے ملنے کے لیے سوہاوہ پہنچے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ عبدالحمید گھر جانے کی بجائے گوجر خان سے ہی سوہاوہ آئے تھے اور خود ان کی حادثے سے چند گھنٹے قبل اپنے بھائی کے اہلخانہ سے فون پر بات ہوئی تھی۔

محمد خان کے مطابق عبدالحمید کی چھوٹی بیٹی بشریٰ جو کہ ایک مقامی سکول میں تیسری جماعت کی طالبہ ہے، اپنے والد سے کہہ رہی تھی کہ بابا میرے پاس سکول کی کچھ کتابیں نہیں ہیں، سکول ٹیچر نے اُسے ڈانٹا ہے اسے لیے اس نے سکول کی کتابیں لینی ہیں۔

محمد خان نے بتایا کہ بشریٰ نے اپنے والد سے کہا 'بابا مجھے سکول کی کتابیں لے کر دو نا'، جس پر عبدالحمید نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ کل واپس آ کر اسے ساتھ لے جائیں گے اور کتابیں خرید کر دیں گے۔

محمد خان یہ بات کرتے ہوئے زارو قطار رو پڑے اور ہچکیاں لیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ کو کیا معلوم تھا کہ اب وہ سکول نہیں جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس واقعہ میں عبدالحمید کی بیوی اور چار بچے ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک 14 برس کا بیٹا بھی شامل تھا جس سے انھوں نے امیدیں لگا رکھی تھیں کہ وہ جوان ہو کر اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا لیکن یہ ایسا خواب تھا جو اب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عبدالحمید کی ایک کمسن بیٹی زندہ بچی ہے جو شدید زخمی ہے اور مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کے خاندان کے دیگر ہلاک ہونے والے افراد میں عبدالحمید کے برادر نسبتی بشیر، ان کی بیوی اور بیٹی شامل ہے۔

محمد خان کے مطابق یہ سارے افراد ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ محمد خان کے مطابق جہاز کا ملبہ ان کے بھائی کے گھر کے ایک حصے پر گرا جس سے گھر کا وہ حصہ زمین بوس ہو گیا اور وہاں پر موجوہ تمام افراد زندہ جل گئے۔

محمد خان یہ کہتے ہوئے دوبارہ زارو قطار روپڑے اور کہنے لگے کہ ’کس کس کی لاش اُٹھا کر دفنائیں گے۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ عبدالحمید کے سسر قلم خان بھی اسی گھر میں رہتے ہیں تاہم حادثے سے چار پانچ گھنٹے پہلے وہ کسی کام کے سلسلے میں مری چلے گئے تھے۔

اس حادثے میں زیادہ ہلاکتیں جل جانے کے باعث ہوئی ہیں اور لاشیں قابل شناخت بھی نہیں ہیں جس کی وجہ سے ہلاک شدگان کے ورثا کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جارہا ہے تاکہ لاشوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔

جس وقت ہم محمد خان سے بات کر رہے تھے تو عبدالحمید خان ہسپتال میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونہ دینے گئے ہوئے تھے تاکہ ان کے پیاروں کی شناخت ہو سکے۔

محمد خان کی زبانی کہانی سن کر جب عبدالحمید کے گھر کا دورہ کرنے کی کوشش کی تو سکیورٹی اہلکار راہ میں حائل ہو گئے اور کہا کہ ’بھائی صاحب یہ اب ممنوعہ علاقہ ہے آپ یہاں نہیں جا سکتے۔

سکیورٹی اہلکاروں کا حکم بجا لاتے ہوئے میں نے واپسی میں ہی عافیت سمجھی تاہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ علاقہ جہاں حادثے کے کئی گھنٹے بعد تک عوام اور میڈیا سب کا ہجوم رہا اب ’ممنوعہ‘ کیوں بن گیا ہے۔

اس سوال کا بظاہر ایک ہی جواب ذہن میں آیا اور وہ یہ کہ منگل کی صبح جب مقامی میڈیا پر اس واقعے کی فوٹیج چلنا شروع ہوئی تو حکام نے ’حفظِ ماتقدم‘ کے طور پر میڈیا کو جائے حادثہ کے قریب جانے، وہاں کی تصاویر لینے سے روک دیا۔

اسی بارے میں