سابق وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب کا ایوان کے افسر پر مبینہ نسل پرستانہ الفاظ کے استعمال کا الزام

اقلیت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں اقلیتی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی اور سابق وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر نے الزام عائد کیا ہے کہ اسمبلی کے ایک سینیئر افسر کی جانب سے انھیں نسل پرستانہ، ہتک آمیز اور نازیبا الفاظ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور کے چیئرمین خلیل طاہر سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب اسمبلی کے ڈائریکٹر جنرل پی اے اینڈ آر عنایت اللہ لک نے ان کے لیے 'جو ہتک آمیز، نسل پرستانہ الفاظ استعمال کیے وہ دوہرا نہیں سکتے۔'

'اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ اس ایک شخص کی جانب سے مجھے پہلے بھی کئی بار نسل پرستانہ رویے کا سامنا رہا ہے۔'

خلیل طاہر سندھو کے مطابق اس نسل پرستانہ برتاؤ کا حالیہ واقعہ 29 جولائی کو پیر کے روز پیش آیا جس کے بعد انھوں نے اسمبلی میں منھ پر کالی ٹیپ چسپاں کر کے احتجاج کیا۔

جب انھیں اسمبلی میں بولنے کا موقع دیا گیا تو اپنے ساتھ ہونے والے نسل پرستانہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے خلیل طاہر سندھو آبدیدہ ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

’خاکروب کو پہلے نہلایا جائے پھر علاج ہو گا‘

’لوگوں نے جو نفرت پھیلائی ہے اس سے خوف آتا ہے‘

ویرو کوہلی: جبر کے نظام کی باغی

’اس برادری سے ہوں جہاں توہینِ مذہب کا قانون آپ کا انجام ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ساتھ ایسا تضحیک آمیز رویہ جاری رہا تو 'وہ بھی پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔'

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈائریکٹر جنرل پی اے اینڈ آر عنایت اللہ لک نے خلیل طاہر سندھو کے الزامات کی تردید کی ہے۔

'ہر گز نہیں۔ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@KhalilTahirSan1
Image caption پنجاب اسمبلی کی رکن اور سابق وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو

اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس سے قبل بھی انھوں نے اسمبلی کے اقلیتی رکن اور سابق صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق خلیل طاہر سندھو کو نسل پرستانہ القابات کا نشانہ بنایا، عنایت اللہ لک کا کہنا تھا کہ 'سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ معزز رکن (اسمبلی) ہیں۔'

واقعہ کیسے پیش آیا؟

خلیل طاہر سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں مسیحی برادری کے ایک پانچ سالہ بچے کے قتل کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا تھا۔

اس کی بابت وہ ڈائریکٹر جنرل پی اے اینڈ آر عنایت اللہ لک سے معلوم کرنے کے لیے گئے کہ کیا وہ توجہ دلاؤ نوٹس اس روز کے اسمبلی کے ایجنڈا میں شامل کیا گیا تھا۔ انھیں جواب دیا گیا کہ 'نہیں وہ تو میں نے لیپس کر دیا ہے (یعنی گزار دیا ہے)۔'

خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے دریافت کیا کہ ’اسے کیوں لیپس کیا گیا، وہ تو انتہائی اہم معاملہ تھا، تو انھوں نے مجھے جواب دیا کہ کہ میری مرضی۔'

رکن پنجاب اسمبلی خلیل سندھو کے مطابق اس کے بعد ان کے درمیان جو بحث ہوئی اس دوران عنایت اللہ لک نے ان کے خلاف 'وہ ہتک آمیز نسل پرستانہ الفاظ استعمال کیے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انھوں نے بہتر سمجھا کہ افسر سے براہِ راست الجھنے کے بجائے اسمبلی میں 'اس تضحیک آمیز رویے کے خلاف احتجاج کیا جائے۔'

'کیا اقلیتوں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں؟'

خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ ابتدا میں سپیکر نے انھیں اسمبلی کے اندر بولنے کا موقع نہیں دیا۔

وہ اپنے منھ پر سیاہ پٹی چپکا کر اسمبلی میں گئے۔ جب انھیں بولنے کا موقع دیا گیا تو خلیل طاہر سندھو نے آبدیدہ ہو کر ایوان کو بتایا کہ وہ جب سنہ 2013 میں صوبائی وزیر بنے اُس وقت بھی اسی مخصوص افسر نے ان کے خلاف نسل پرستانہ الفاظ استعمال کیے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل وہ درگزر کرتے رہے تھے۔

'مگر اس دن مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں پھٹ پڑا اور پھر میں رویا بھی۔ میں نے کہا کیا اب ہمارے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں؟'

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایوان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایسا رویہ جاری رہا تو وہ بھی چند اقلیتی افراد کی طرح پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ لیکن پھر بھی ہم آج بھی پاکستان زندہ باد کا ہی نعرہ لگائیں گے۔'

خلیل طاہر سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کے چار سے پانچ گواہان بھی موجود تھے جن میں عملے کے افراد کے علاوہ ایک رکن اسمبلی بھی شامل تھے۔

واقعے کی تحقیقات کا حکم

ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے خلیل طاہر سندھو کی شکایت پر صوبائی وزیرِ قانون راجہ محمد بشارت کی سربراہی میں واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی۔

خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ حتیٰ کہ یہ وزیرِ قانون کا دائرہ اختیار نہیں ہے، پنجاب اسمبلی کے کمیٹی کے بلانے پر بھی اس کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سپیکر پنجاب اسمبلی یہ کہہ دیں کہ 'میں نے غلط بیانی کی ہے تو میں نہ صرف معافی مانگوں گا بلکہ مستعفی ہو جاؤں گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں یا کمزور سمجھے جانے والے افراد کو اس قسم کے رویوں کا سامنا رہا ہے تاہم 'یہ انفرادی رویے ہیں، ریاست اس کی ترویج نہیں کرتی۔'

'تحقیقات کا کچھ نہیں بنتا'

پاکستان میں اقلیتی خصوصاً مسیحی برادری کے افراد کے ساتھ اس قسم کے نسل پرستانہ رویے ماضی میں بھی سامنے آ چکے ہیں۔ اس کے ایک مثال اخبارات میں خاکروب وغیرہ کی نوکری کے لیے شائع ہونے والے سرکاری اشتہارات ہوتے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام نا کر پانے کی ذمہ داری ریاستِ پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔

'پاکستان میں مذہبی طاقتوں کا اثر اس قدر زیادہ رہا ہے کہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ماضی کی حکومتوں کا رویہ بھی اس وقت معذرت خواہانہ ہو جاتا ہے جب مذہبی حوالے سے کوئی معاملہ سامنے آتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ 'ایسے واقعات کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔' ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان حقیقی معنوں میں جمہوریت نہیں ہے کیونکہ جمہوریت میں تو اقلیت کا تصور ہی نہیں ہوتا۔'

اسی بارے میں