کراچی مون سون: بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون؟

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بارشوں اور اس کے بعد کرنٹ لگنے ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے

کراچی میں حالیہ بارشوں کے دوران بجلی کے کھلے تاروں اور کھمبوں سے کرنٹ لگنے کے سبب کم سے کم 18 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

پاپوش نگر میں 29 برس کے سعد اپنے تین بھتیجوں کو موٹر سائیکل پر گھوما کر جیسے ہی گھر کے قریب پہنچے تو موٹر سائیکل خراب ہوگئی۔ انھوں نے بچوں کو فٹ پاتھ پر جانے کو کہا اور خود پانی سے بائیک نکالنے لگے۔

سعد کے چھوٹے بھائی نجم کے مطابق بچے جیسے ہی آگے بڑھے تو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی ’کے الیکٹرک‘ کے بجلی کے کھمبے سے 12 سالہ محمد حسن کو کرنٹ لگا۔ اس نے چلانا شروع کیا تو ساتھ موجود محمد ثقلین نے اس کا ہاتھ تھام لیا تو وہ بھی کرنٹ کی زد میں آ گیا۔ جبکہ چھوٹی بچی دعا جھٹکے سے دور جا گری۔

لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ بچوں کو کرنٹ لگ گیا ہے۔

نجم کے مطابق اہل محلہ کا شور سن کر سعد بچوں کی جانب دوڑے اور بچوں کو جھٹکے سے دور کیا لیکن بجلی نے انھیں پکڑ لیا۔ وہ وہیں دم توڑ گئے جبکہ تین میں سے دو بچوں کی حالت کئی گھنٹوں کے بعد ہسپتال میں سنبھلی۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی: جب شہر ڈوب رہا ہو تو شہری کیا کریں

روشنیوں کے شہر میں 'پتھر کے دور والا ماحول‘

کراچی ہر بارش کے بعد کیوں ڈوب جاتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کھلے تار اور بجلی کے کھمبے

نجم کے مطابق بارشوں سے ایک ہفتہ قبل کے الیکٹرک کا عملہ بجلی کا کھمبا نصب کر رہا تھا جس کے ساتھ ننگی تاریں لگی ہوئی تھیں۔ اہل محلہ نے انھیں منع کیا کہ بارش ہوئی تو کھمبے میں کرنٹ آ جائے گا لیکن عملہ نہیں مانا اور صرف لکڑی کا ایک ٹکڑا لگا کر ان تاروں کو کھمبے سے الگ کر دیا گیا۔

نجم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس روز کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی بطور ثبوت موجود ہے جس میں لوگ کے الیکٹرک کے عملے کو مسلسل کہہ رہے ہیں کہ اس میں کرنٹ آجائے گا۔

بارشوں اور اس کے بعد کرنٹ لگنے ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے جو گلی محلوں میں کھیل رہے تھے۔ ان میں نارتھ ناظم آباد بلاک ایل کے محمد احمد اور عبیر بھی شامل ہیں۔

محمد احمد کی کزن مہوش نے بی بی سی کو بتایا کہ احمد اور عبیر گلی میں سائیکل چلا رہے تھے کہ بجلی کے کھمبے پر ہاتھ لگ گیا اور کرنٹ لگنے سے ان کی ہلاکت ہوئی۔

مہوش کا کہنا تھا کہ ’دونوں ایک ڈیڑھ گھنٹے تک وہیں پڑے رہے اس دوران خاندان اور اہل محلہ کے الیکٹرک کو ٹیلیفون کرتے رہے لیکن کوئی نہیں آیا، بالآخر ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے آ کر وہاں سے ہٹایا۔‘

مہوش کے مطابق بجلی کے کھمبے کے قریب تاریں کافی عرصے سے موجود تھیں اور اہل محلہ نے کئی بار شکایت بھی کیں لیکن انھیں ہٹایا نہیں گیا۔

کرنٹ لگنے کا ذمہ دار کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرنٹ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین ہلاکت کا ذمہ دار کے الیکٹرک کی غفلت کو قرار دیتے ہیں۔

سعد کے بھائی نجم کا کہنا ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرانا چاہتے تھے لیکن ایس ایچ او نے کہا کہ پوسٹ مارٹم ہو گا تو جسم کاٹ کر گوشت لیا جائے گا۔ ان کے بقول، ’جن کا بھائی تڑپ تڑپ کر مرا ہو وہ پولیس کو کیسے کہہ دیں کہ مرنے والا موت کے بعد بھی اذیت میں رہے۔‘

نجم نے بتایا کہ ’ہمارے گھر کے جو بچے زخمی ہیں ان کی بنیاد پر ایف آر درج کرانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے کہا نہیں پوسٹ مارٹم تو لازمی ہوگا، ہم نے کہا کہ بھائی کو اذیت نہیں دیں گے۔‘

دوسری جانب مہوش کا کہنا ہے کہ رشتے دار اور اہل علاقہ محمد احمد اور عبیر کی ہلاکت کی ایف آئی آر درج کروانے تھانے گئے تھے تاہم پولیس حکام نے ایف آئی درج کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان پر بہت دباؤ ہے اور ساتھ میں یہ مشورہ بھی دیا کہ وکیل کی مدد سے عدالت کے حکم پر ایف آئی آر درج کرائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادھر کراچی کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ یہ تھوڑا تیکنیکی معاملہ ہے۔ ان کے پاس جو بھی شکایت آتی ہے اگر وہ قابل دست اندازی پولیس جرم ہے تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔

ان کے کہنا تھا کہ اگر کہیں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا گیا ہے تو ان سے رابطہ کیا جائے۔

کے الیکٹرک کا موقف

کے الیکٹرک کا آپریشن 6500 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس میں کراچی، دھابیجی اور گھارو کے علاوہ بلوچستان کے علاقے اوتھل، وندر اور بیلہ بھی شامل ہیں۔

کے الیکٹرک کے ترجمان نے کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ واقعات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ترجمان کے مطابق کئی مقامات پر سٹریٹ لائٹ کے کھمبے ہیں یا تاروں میں آتش زدگی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، اور ان کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں۔

بارش سے قبل خصوصی پیغامات جاری کیے گئے اور خصوصی ٹیمیں تشکل دی گئیں تھیں اور شہریوں کو درخواست کی گئی تھی کہ وہ تاروں سے دور رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

واضح رہے کہ کے الیکٹرک نجی ادارہ ہے جو وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کرتا ہے۔

صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا ہے کہ دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن صورتحال ویسی ہی رہتی ہے اور جیسے ہی بارش ہوتی ہے بجلی چلی جاتی ہے۔

’بدقسمتی سے صوبائی حکومت کے پاس کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے کہ کے الیکٹرک کی نااہلی پر کوئی کارروائی کرسکے۔ یہ وفاقی حکومت کرسکتی ہے تاہم جو انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے ان پر صوبائی حکومت کارروائی کرسکتی اور وہ کریں گی۔‘

تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا کارروائی ہوگی۔

بارش کے موسم میں احتیاط

کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران شہری ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے کھمبوں اور پی ایم ٹیز سے دور رہیں۔ برقی آلات کو ننگے پاؤں یا گیلے ہاتھ سے نہ چھوئیں اور غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول ہرگز نہ کریں۔

اسی بارے میں