اربن اور فلیش فلڈنگ: ’سیر پر جانے سے قبل موسم پر ضرور نظر رکھیں‘

لاہور تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مون سون کی بارشیں کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہیں۔ محکمہ موسمیات نے پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان بارشوں سے اربن فلڈ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اپنے پیاروں اور فیملی کے ساتھ پرفضا مقام کی سیر کو نکلنے سے پہلے محکمہ موسمیات کی موسم سے متعلق پیشنگوئی ضرور دیکھ لیجیے۔

گذشتہ روز محکمہ موسمیات نے شہریوں کو باخبر رکھنے کے لیے مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں ممکنہ سیلاب کے خطرات سے متعلق نیا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان: مون سون کی آمد پر پانچ احتیاطی تدابیر

وادی نیلم میں امدادی کارروائیاں، لاشوں کی تلاش جاری

کیا جنوبی ایشیا کے سیلابوں کے پیچھے ’سیاسی ریلے‘ ہیں؟

الرٹ کے مطابق مون سون کے نئے سسٹم کے نتیجے میں 72 گھنٹوں کے دوران دریائے جہلم اور چناب اور ان سے منسلک ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہو گا جبکہ دریائے کابل اور اس سے منسلک ندی نالوں میں یہ بہاؤ درمیانی شدت اختیار کرے گا۔

اس دوران پشاور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور اور سرگودھا ڈویژن میں 'اربن فلڈنگ' کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ملک میں ہنگامی صورتحال اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے کے ترجمان بریگیڈیئر مختار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نشیبی اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے دیں۔

ان کے مطابق دریاؤں کے قریب علاقوں میں سیلاب کا امکان کم ہے لیکن 'اربن فلڈنگ' ہو سکتی ہے۔

نشیبی علاقوں کے لیے ہدایات

انھوں نے کہا کہ 'نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہری باقاعدگی کے ساتھ اپنے گھروں کی چھتوں اور دیواروں کا معائنہ کریں اور کہیں پانی جمع ہونے کی صورت میں فوری طور پر اس کا اخراج یقینی بنائیں۔ جبکہ پہاڑی علاقوں میں 'فلیش فلڈنگ' کے دوران ایڈونچر کی خاطر لوگ موٹر سائیکل یا گاڑی پر اس میں سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ انتہائی خطرناک عمل ہے۔'

بریگیڈیئر مختار احمد کا کہنا ہے کہ ملک میں دریاؤں میں سیلابی صورتحال تو نہیں ہے تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کا 'پیٹرن' اتنا بدل چکا ہے کہ کسی بھی انتہائی غیر معمولی ایونٹ کی صورت میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔

پاکستان میں محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں یعنی لاہور ڈویژن، گوجرانوالہ ڈویژن، سرگودھا، راولپنڈی، اسلام آباد اور کشمیر کے علاقوں میں اس بار مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشینگوئی کی گئی ہے۔ ملک کے جنوبی حصوں میں یہ بارشیں اس سال نسبتاً کم ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بارشوں کا پیٹرن کیسا رہا؟

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ابھی تک بارش کا پیٹرن شدید نوعیت کا رہا ہے، اسی وجہ سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ شاید اس بار زیادہ بارشیں ہوں گی۔ لیکن ابھی تک محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں تو پہلے ہی کی طرح ہوں گی لیکن ان کا 'پیٹرن' مختلف ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ جولائی کے اختتام تک ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ تاہم این ڈی ایم اے کے مطابق ایسے شہری علاقے جہاں آبادی زیادہ ہے، شاہرائیں مصروف اور انڈسٹرلائزیشن زیادہ ہو چکی ہے اور وہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں وہاں اس مون سون میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہی کشمیر اور چترال میں حالیہ چند ہفتوں میں 'انتہائی غیر معمولی واقعات' پیش آئے ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیر میں بادل پھٹنے سے شدید بارش ہوئی جس سے متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ جبکہ چترال کی وادی گولین میں بھی اسی ماہ گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے انفراسٹرکچر اور عوام کی املاک کو شدید نقصان پہنچا۔

اس سوال پر کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کا غیرمعمولی پیٹرن اور مون سون کا موسم کتنا بڑا چیلنج ہوگا۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈیئر مختار احمد نے کہا کہ 2010 جیسی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن کوئی بھی 'ایکسٹریم ایونٹ' جیسا کہ شہر میں کلاؤڈ برسٹ یا کسی جھیل کے پھٹنے جیسے واقعات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں نقصان کا خدشہ رہے گا۔‘

مزید پڑھیے

کراچی میں بارشیں، مختلف علاقے زیرِآب

کراچی میں کرنٹ لگنے کے باعث ہلاکتوں کا ذمہ دار کون؟

خیال رہے کہ رواں ماہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث بائیسں افراد ہلاک ہو گئے تھے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔ اس سے قبل 2001 میں اسلام آباد میں بادل کے پھٹنے سے شروع ہونے والی اور اسی سپیل میں راولپنڈی، ہزارہ اور مالاکنڈ میں بارش سے اکسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aurangzeb Jarral

مسلح افواج ہنگامی حالات میں طلب کی جاسکے گی

ان کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے نے ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز جن میں صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ادارے، ریسکیو ادارے اور سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی ہے، جبکہ ضلعی سطح پر انتظامیہ مون سون سے پہلے ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشقیں کرائی گئی ہیں۔

ترجمان کے مطابق کسی غیرمعمولی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں 'اگر حالات ضلعی اور صوبائی انتظامیہ کے ہاتھ سے باہر ہوں تو ہمارے پاس بیک اپ کے طور پر مسلح افواج ہیں جن سے مدد لی جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مون سون کے دوران 'ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہونے تک احتیاط کی جائے جبکہ سیلاب زدہ علاقوں یا بارش کے دوران بجلی کی ننگی تاروں یا کھمبوں کو چھونا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ دو روز کراچی میں بھی بارش کے دوران پانی کھڑا ہونے کے بعد کرنٹ لگنے سے بھی متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ترجمان این ڈی ایم اے نے پہاڑی علاقوں میں جانے والے سیاحوں کو احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'سیاحوں کو محفوظ سیاحت کرنی چاہییے۔

محکمہ موسمیات کی پیشینگوئی دیکھنے کے بعد فیملی کے ساتھ سیر و تفریح کا پلان بنائیں اور محفوظ راستوں اور محفوظ مقامات کی طرف جائیں۔ جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے علاقوں میں جانے سے پہلے موسم کا علم ہونے سے بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں