مولہ چٹوک: بلوچستان کا سیاحتی مقام جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے

مولہ چٹوک

اگرچہ بلوچستان زیادہ تر خشک پہاڑی اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے لیکن ان کے درمیان متعدد ایسے مقامات ہیں جو کہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان ہی میں مقامات میں سے ایک حال ہی میں میڈیا کی توجہ حاصل کرنے والا تفریحی مقام مولہ چٹوک بھی شامل ہے جسے دیکھنے والے لوگ چھپی ہوئی جنت سے بھی تشبیہ دیتے ہیں۔

یہ تفریحی مقام بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے مولہ میں واقع ہے۔ براہوی اور بلوچی زبانوں میں اوپر سے قطروں کی شکل میں نیچھے گرنے والے پانی کی بعض اقسام کے لیے چٹوک کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں سیاحت کے بارے میں مزید پڑھیے

جب سمندر، پہاڑ اور صحرا ایک جگہ ہوں!

'سندھ کا مری': جہاں گرمیوں میں بھی ٹھنڈ پڑتی ہے

وادئ کُمراٹ: ’یہاں تو پانی کا شور بھی سکون دیتا ہے‘

سون سکیسر: ’اتنی حسین جھیلیں لیکن بندہ نہ بندے کی ذات‘

مولہ چٹوک میں دراصل متعدد بڑی اورچھوٹی آبشارہیں۔ آبشاروں سے گرنے والے پانی کی مناسبت سے یہ علاقہ مولہ چٹوک یعنی مولہ کے آبشار کے نام سے مشہور ہے۔

مولہ چٹوک

مولہ چٹوک جانے کے لیے کون کون سے راستے ہیں ؟

مولہ چٹوک تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں لیکن ان میں سے دو راستے بلوچستان کے شہر خضدار سے نکلتے ہیں۔ مولہ چٹوک خضدار شہر سے شمال مشرق میں اندازاً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

مولہ چٹوک پہنچنے کا ایک راستہ جھل مگسی روڈ ہے جو آر سی ڈی ہائی وے پر خضدار شہر کے تقریباً 20 کلومیٹر بعد دائیں جانب نکلتا ہے۔ اس روڈ کا اچھا خاصا حصہ پکا ہے لیکن اس کا 40 کلومیٹرحصہ دشوار گزار ہے۔

مولہ چٹوک پہنچنے کا دوسرا راستہ خضدار سکھر روڈ کا ہے جو تقریباً دس کلومیٹر کے بعد بائیں جانب ایک پتھریلا راستہ ہے۔اس پر صرف فور بائی فور گاڑیاں چل سکتی ہیں۔

مولہ چٹوک

مولہ چٹوک تک پہنچنے کے آسان راستے خضدار شہر سے نکلتے ہیں۔ خضدار، کوئٹہ کراچی ہائی وے پر کوئٹہ شہر سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ یہ کراچی سے بھی تقریباً اتنے ہی فاصلے پر ہے۔

چونکہ ہم کوئٹہ سے نکلے تھے اس لیے پہلے ہم عام گاڑی میں چار سے ساڑھے چار گھنٹے میں خضدار پہنچے۔ لیکن خضدار سے آگے کسی عام اورکمزور گاڑی میں سفر کی غلطی نہیں کرنی چائیے کیونکہ عام گاڑی تفریح کے سارے لطف کو کر کرا کرسکتی ہے۔

اس لیے ہم نے یہاں سے ایک فور بائی فور گاڑی کرایے پر لی۔ اگر فور بائی فور گاڑی اپنی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر اپنی نہیں اور کرایے پر لینی ہو تو دور کے کسی علاقے سے لینا جیب پر بھاری پڑ سکتا ہے۔

اس لیے بہتر یہ ہی ہے کہ اسے خضدار ہی سے کرایے پر لیا جائے جو وہاں سے با آسانی مل جاتی ہیں۔

ضروری سامان ہمراہ رکھیں!

مولہ چٹوک جانے کے لیے ضرورت کی ہر چیز ساتھ ہونی چائیے۔ مولہ چٹوک چونکہ پہلے لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا اس لیے خضدار سے وہاں تک ہوٹل وغیرہ یا اس طرح کی دیگر سہولیات میسر نہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مولہ چٹوک کو سیاح خضدار کی ’چھپی ہوئی جنت‘ بھی کہتے ہیں

کم و بیش چھ گھنٹوں پر مشتمل اس سفر میں درحقیقت ایڈونچر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے لیکن تفریح کے لیے تمام بنیادی ضروریات کا نہ ہونا کسی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر ہم نے راستے کے لیے تیار کھانا خضدار سے اپنے ساتھ اٹھایا۔ چونکہ اس راستے کا زیادہ حصہ برساتی نالے اور پھتریلے راستوں سے ہو کر گزرتا ہے اس لیے یہ راستہ مستقل جھٹکے کھانے اور پینڈولم کی طرح جھولے کھانے سے بھرپور ہے۔

جیسا کہ خضدار پہنچ کر ہم نے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا تھا اس لیے ان جھٹکوں کے باعث ہمیں راستے میں ہی بھوک لگ گئی۔ اس لیے جب تین گھنٹے کی مسافت پر پیر لاکھا کے علاقے پہنچے تو ہم نے اپنے ساتھ خضدار سے تیار کروائی ہوئی بریانی سے پیٹ پوجا کا خوب لطف اٹھایا۔

کھانا کھانے کے بعد ہم نے دوبارہ چٹوک کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔

مولہ چٹوک

کبھی چڑھائی چڑھتی اور کبھی اترتی اور کبھی ندی میں بجری اور ریت میں پھنسے کے باعث گاڑی کے شور کے درمیان مولہ چٹوک کے اس مقام پر پہنچ گئے جہاں چٹوک کا واحد سرکاری ریسٹ ہاﺅس قائم ہے۔ راستے کی طرح چٹوک میں قیام کے لیے بھی ضرروی اشیاء ساتھ نا لے جانے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

یہ علاقہ اگرچہ اپنی نوعیت کے قدرتی حسن سے مزین ہونے میں کسی اور تفریحی مقام سے کم نہیں مگر ابھی تک یہاں حکومت یا نجی شعبے کے جانب سے قیام اور طعام کی سہولیات زیادہ نہیں۔ یہاں پانچ کمروں پر مشتمل ایک سرکاری ریسٹ ہاﺅس تو ہے جسے متعلقہ حکام سے حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر لوگ زیادہ ہوئے تو رات کو قیام کے لیے مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہلکے پھلکے خیموں کے ساتھ ساتھ گرمی کے موسم میں مچھر دانی بھی ساتھ رکھ لی جائے تو مشکلات سے بچا جاسکتا ہے۔

مولہ چٹوک

اسی طرح سیاحوں کے زیادہ ہونے کی صورت میں کھانے پینے کی اشیا بھی خود تیار کرنی پڑتی ہیں۔ جس کے پیش نظر ضروری سامان ساتھ لے جانا ضروری ہے۔

گوشت اورسجی کھانے کے شوقین افراد خضدار سے گوشت حاصل کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ ایسا نا کرنا چاہیں اور مولہ چٹوک سے بکرا یا دنبہ خریدنا چاہیں تو وہ وہاں مقامی افراد سے بھی خرید سکتے ہیں۔

مولہ چٹوک

مولہ چٹوک میں قدرت کے حسین نظارے

اس ریسٹ ہاﺅس سے تھوڑے فاصلے پر ہی مولہ چٹوک کی اصل خصوصیت وہاں کے چھوٹے بڑے آبشار ہیں۔ دشوار گزار راستے پر کم و بیش چھ گھنٹے کے جھٹکوں سے بھرپور سفر کے بعد کی جسمانی صورتحال اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ کچھ آرام کیا جائے لیکن اس کے برعکس وہاں کے لوگوں کا مشورہ کچھ اور ہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آرام نا کریں بلکہ قریب ہی پہلے آبشار جائیں جسے کے نیچھے کھڑے ہونے سے فزیو تھراپی مساج کا احساس ہوتا ہے۔ اس مشورے کو اہمیت دیتے ہوئے جب ہم پہلے آبشار پہنچے اور وہاں پانی کے نیچھے کھڑے ہوئے تو تھکاوٹ کا نام نشان تک نہیں تھا۔

مولہ چٹوک

اوپر سے گرتے ہوئے پانی کے بڑے بڑے قطروں نے جب سر اورکمر کو چھوا تو محسوس ہوا کہ جیسے کوئی تکلیف دہ سفر کیا ہی نہیں۔ بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان یکے بعد دیگر آبشاروں کے مناظر اور جھرنوں میں گنگناتے پانی کے حسن کا کیا کہنا۔

یہ بھی پڑھیے

’سیر پر جانے سے قبل موسم پر ضرور نظر رکھیں‘

آپ اچھے سیاح کیسے بن سکتے ہیں؟

کشمیر میں برفباری نے سیاحت کو زندہ کردیا

’پاکستان سفر کرنے کے لیے آسان ملک نہیں‘

اگرچہ مولہ چٹوک کا راستہ دشوار گزار اور سفر مشکل ہے مگر اس کے قدرتی حسن کو دیکھ کرانسان فوراً ان مشکلات کو بھول جاتا ہے۔ یہ علاقہ نا صرف خوبصورت ہے بلکہ وہاں پرکشش آبشاریں ہر وقت گن گناتی نظر آتی ہیں۔

مولہ چٹوک

میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے بعد یہ علاقہ ملکی سیاحوں کے لئے ایک خوبصورت اور معروف پکنک پوائنٹ بن چکا ہے۔ پانی مسلسل اونچائی سے آبشاروں کی صورت نیچے آتا رہتا ہے جس کے باعث ہر آبشار کے سامنے ایک چھوٹا سا گڑھا بن گیا ہے جس میں تیراکی کی جاسکتی ہے۔

مولہ چٹوک کے بارے میں سیاحوں کی رائے

مولہ چٹوک میں ہماری ملاقات سیاحوں کے ایک ایسے ٹولے سے ہوئی جن میں سے بعض افراد بیرون ملک سے آئے تھے۔ ان کے میزبانوں میں سابق ناظم یونین کونسل مولہ چٹوک جام غلام محمد بھی شامل تھے۔

جام غلام محمد کا کہنا تھا کہ جو سیاح یہاں آتے ہیں وہ اسے ایک منفرد جگہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے والے لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان اور دیگر علاقوں کو بھی دیکھا ہے لیکن مولہ چٹوک جیسا علاقہ نہیں دیکھا اور اسے چھپی ہوئی جنت بھی قرار دیتے ہیں۔

مولہ چٹوک

جام غلام کا کہنا ہے کہ یہاں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سڑک کو پختہ کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو یہاں آنے میں آسانی ہو۔ انھوں نے یہ بھی تجویز دی کہ دور دراز کے علاقوں سے آنے والوں کی رہائش کے لیے ریسٹ ہاﺅسز اور ہٹس بھی بننے چاہیے۔

سیاحوں کے اس ٹولے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے محمد امین مردوئی بھی شامل تھے جو کہ اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے سعودی عرب اور خلیج میں مصنوعی نظارے بہت دیکھے ہیں لیکن مولہ چٹوک کا قدرتی حسن لاجواب ہے۔

مولہ چٹوک

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کا پانی انتہائی صاف ہے اور منرل واٹر اس کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔

ریاض میں مقیم خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک اور سیاح عبد اللہ خدرانی نے مولہ چٹوک کی قدرتی حسن کو بہت حسین قرار دیا۔

مولہ چٹوک

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یہاں آ کر یہ یقین نہیں آتا کہ میں خضدار یا بلوچستان کے کسی بھی حصے میں ہوں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ میں سوئٹزرلینڈ میں ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یہاں آنا چائیے اور یہاں کی خوبصورتی کا پیغام دنیا کو دینا چاہیے۔

مولہ چٹوک

ہم نے وہاں تفریح کے لیے آئے ان سیاحوں کو پانی میں ڈبکی لگاتے، پہاڑوں سے بہتے جھرنے اور آبشاروں تلے اٹکھلیاں کرتے اور موسیقی کی دھن پر بلوچستان کا روائیتی رقص کرتے بھی دیکھا۔

سیاحوں کی اس ٹولی میں شامل زیادہ تر لوگوں کی یہ رائے تھی کہ یہاں آنے کے بعد واپس جانے کو جی نہیں چاہتا ہے۔

۔

اسی بارے میں