عمران خان نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر کی صورتحال پر ردعمل ترتیب دینے کے لیے کمیٹی قائم

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں بشکیک میں اندازہ ہوگیا تھا کہ انڈیا کو پاکستان سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں

پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بحث کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال پر ردعمل ترتیب دینے کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

منگل کی شام وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹی انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال پر قانونی، سیاسی، سفارتی ردعمل سے متعلق تجاویز تیار کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

اس کمیٹی میں وزیر خارجہ، سیکریٹری خارجہ، اٹارنی جنرل، عالمی قوانین کے ماہر وکیل اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور ڈی جی آئی ایس پی آر شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی بدھ کو طلب کیا گیا ہے۔ یہ ایک ہفتے کے دوران اس کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہے۔ اس سے قبل یہ کمیٹی لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کے بعد ملی تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنانے کی کوشش ان کے نسل پرستانہ رویے کا مظہر ہے۔

عمران خان نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس: کب کیا ہوا

محبوبہ مفتی:’پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے‘

آرٹیکل 370 تھا کیا اور اس کے خاتمے سے کیا بدلے گا؟

’اب کشمیریوں کا انڈیا سے اعتبار اٹھ گیا ہے‘

یہ اجلاس انڈیا کی جانب سے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئینی شق ختم کرنے اور اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

یہ مشترکہ اجلاس منگل کی صبح شروع ہونا تھا تاہم اس میں حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن کے احتجاج کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔

منگل کی شام جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اس میں ترمیم شدہ قرارداد پیش کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ رواں برس جون میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں انڈیا کا رویہ دیکھ کر انھیں احساس ہو گیا تھا کہ ’وہ ہماری امن کی کوششوں کو غلط سمجھ رہے ہیں۔ اسے ہماری کمزوری سمجھ رہے ہیں، اس لیے ہم نے مزید بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

’بشکیک میں اندازہ ہوگیا تھا کہ انڈیا کو ہم سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس حوالے سے مجھے جو شبہ تھا وہ کل سامنے آ گیا۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’ہمارا مقابلہ نسل پرست نظریے سے ہے۔ کشمیر کے بارے میں انھوں نے اپنے نظریے کے مطابق (فیصلہ) کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا جو فیصلہ کیا وہ ’اچانک نہیں کیا گیا بلکہ یہ ان کے انتخابات کا منشور تھا اور یہ ان کا بنیادی نظریہ ہے جو آر ایس ایس کے نظریے پر مبنی ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیں گے، یہ صرف ہندوؤں کا ملک ہو گا۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ اپنے ملک کے آئین، اپنی سپریم کورٹ، جموں و کشمیر کی عدالتِ عالیہ کے فیصلوں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی 17 قراردادوں اور شملہ معاہدے کے خلاف جا کر کیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا ’انڈین حکومت کشمیر کی آبادیاتی شکل تبدیل کرنا چاہتی ہے جو کہ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کے خلاف ہے، اسے جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے اپنے نظریے کے لیے اپنے آئین، قوانین اور تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ کشمیری عوام جو ظلم کا سامنا کر رہے ہیں وہ اس قانون کی وجہ سے غلامی کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کشمیری مزاحمت مزید شدت پکڑے گی اور ’ہم سب کو سمجھنا ہے کہ اب یہ مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔

’انڈیا نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو مزید دبانا ہے، وہ انھیں اپنے برابر نہیں سمجھتے کیونکہ اگر وہ کشمیریوں کو اپنے برابر سمجھتے تو وہ جمہوری طور پر کوئی کوشش کرتے۔‘

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ انڈین حکومت جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے خیال پر عمل پیرا ہیں۔ وہ کشمیریوں کو طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کرے گی اور جب وہ ایسا کرے گی تو ردعمل آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں آج پیش گوئی کرتا ہوں کہ پھر پلوامہ کی طرز کا واقعہ ہو گا اور انڈیا پھر پاکستان پر الزام دھرے گا کہ پاکستان سے دہشت گرد آئے جبکہ اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ انھیں ’خدشہ ہے کہ انڈین حکومت نے ’کشمیر میں نسل کشی کرنی ہے۔ اور جب یہ سب چیزیں کریں گے تو اس خوفناک نتائج برآمد ہوں گے۔‘

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 'ہم امن کی بات اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مذہب ہمیں انسانیت کی تعلیم دیتا ہے اور اسی لیے ہمیں انسانوں کی فکر ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم آخری قطرے تک لڑیں گے تو یہ ایک ایسی جنگ ہو گی جس کو کوئی نہیں جیت پائے گا، جو کبھی ختم نہیں ہو گی اور اس میں سب ہاریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ نیوکلیئر بلیک میل نہیں کر رہے بلکہ عام فہم بات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہباز شریف نے کہا کہ واحد موقع ہے کہ چین اور سعودی عرب کی طرف سے کوئی ایک مذمتی لفظ پاکستان کی حمایت میں نہیں آیا

'ہم دنیا کو اپیل کرتے ہیں کہ ایک ملک جو بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے اس سے اس حوالے سے پوچھا جائے۔ اگر اب دنیا نے کچھ نہیں کیا تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے اور بات وہاں جائے گی جس کو کوئی سنبھال نہیں پائے گا۔'

عمران خان نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے اس اقدام کو عالی سطح پر اٹھائے گا۔ ’ہم ہر فورم میں جائیں گے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی کریمینل کورٹ جائیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مسئلہ کیا ہے۔‘

فیصلہ کر لیں کہ کام صرف باتوں سے نہیں چلے گا

وزیراعظم عمران خان کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مودی حکومت نے پاکستان کی عزت کو للکارا ہے اور اقوام متحدہ کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمان میں اس حوالے سے کافی گفتگو ہو گی، تقریریں کی جائیں گی اور تجاویز آئیں گی لیکن اب صرف پارلیمان کی ایک متفقہ قرارداد سے کام نہیں چلے گا بلکہ جرات مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم امن ضرور چاہتے ہیں مگر وقار کے ساتھ بےتوقیری کے ساتھ نہیں۔ ہم افغانستان میں امن کے لیے کوشش کریں اور سٹیج سجائیں مگر دوسری طرف ہماری اس کوشش کا بدلہ اس طرح دیا جائے۔ کیا یہ صدر ٹرمپ کا ٹرمپ کارڈ تھا یا ٹریپ کارڈ تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption کورکمانڈرز کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے انڈین اقدامات کو مسترد کیے جانے کی مکمل حمایت کی گئی

شہباز شریف نے کہا کہ 'میں پورے پارلیمان اور پاکستان کی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہم دو راہے پر کھڑے ہیں۔ جھکنا ہمارا آپشن یقینا نہیں اور اگر ایسا نہیں تو فیصلہ کر لیں کہ کام صرف باتوں سے نہیں چلے گا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاریخ کبھی حقائق مسخ نہیں کرتی۔ کوئی ایک مثال دیں کہ پاکستان کو کوئی مسئلہ درپیش ہوا ہو اور چین مدد کے لیے نہ آیا ہو۔ مگر ’یہ واحد موقع ہے کہ چین اور سعودی عرب کی طرف سے کوئی ایک مذمتی لفظ پاکستان کی حمایت میں نہیں آیا۔ کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے یا ہم دنیا میں اکیلے ہونے جا رہے ہیں؟‘

’پاکستانی فوج کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے‘

منگل کو ہی راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے کورکمانڈرز کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر پیغام میں بتایا کہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے انڈین اقدامات کو مسترد کیے جانے کی مکمل حمایت کی گئی۔

انھوں نے ٹویٹ میں مزید کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی انڈیا کی جانب سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-A کی مدد سے کشمیر پر قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ 'پاکستانی فوج کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ آخری وقت تک کھڑی ہے۔ ہم اس بارے میں مکمل طور پر تیار ہیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔'

اسی بارے میں