عمران خان کا مسئلہ کشمیر پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب: ’کیا میں حملہ کر دوں ہندوستان پر؟‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپوزیشن کا تیسرا اہم مطالبہ وزیر اعظم عمران خان کی اجلاس میں حاضری سے متعلق تھا

گھر سے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی کوریج کے لیے روانہ ہوا تو ذہن میں یہی خیال تھا کہ آج ایک ایسا دن ہو گا جب اتنی بڑی بیٹھک میں سب ایک ہی صفحے پر ہوں گے اور شاید ہی کوئی رکنِ پارلیمان ایسا ہو گا جو آج اس اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔

ایوان میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نظر پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے سبز اور سفید غباروں سے تیار کیے جانے والے قومی پرچم پر پڑی جو سب ہی کی توجہ کا مرکز تھا۔

اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن، نعت اور قومی ترانے سے ہوا۔

اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعظم سواتی کو قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی۔ قرارداد میں انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا ذکر نہ سن کر حزبِ اختلاف کے اراکین نے احتجاج شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

’کشمیریوں کو دبایا جائے گا تو پلوامہ جیسا ردعمل آئے گا‘

کشمیر: اقوام متحدہ کی قرارداوں کی حیثیت کیا ہے؟

’اب کشمیریوں کا انڈیا سے اعتبار اٹھ گیا ہے‘

احتجاج کی شدت دیکھ کر اعظم سواتی کو قریب ہی بیٹھے ساتھیوں، جن میں وزیر قانون فروغ نسیم بھی شامل تھے، نے قرارداد میں ترمیم پر آمادہ کر لیا لیکن اب کوئی کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

اس شور شرابے اور احتجاج میں سب سے نمایاں نعرے ’کشمیر کا سودا کرنے والے حاضر ہوں، سلیکٹڈ وزیر اعظم حاضر ہوں’ تھے۔

سپیکر نے اپوزیشن کے ارادے بھانپ لیے اور اجلاس 20 منٹ تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ شیریں مزاری کی آواز گونجی ’لگتا ہے کہ آج اپوزیشن شور کرنے آئی ہے۔‘

تاہم بعد ازاں یہ 20 منٹ پورے ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

Image caption پاکستان ہندو کونسل کا غباروں سے بنا قومی پرچم قومی اسمبلی میں آویزاں کردیا گیا

جب حکومت نے اپوزیشن کے بات مان لی تو پھر اجلاس تاخیر کا شکار کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب کی تلاش میں پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر چیمبرز کے سامنے صحافیوں اور مہمانوں کا تانتا بندھ گیا۔ اپنے کام کے دوران سب سے زیادہ اگر صحافیوں نے واک کی تو وہ شاید آج کا ہی دن تھا۔

وزیر اعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے درمیان چیمبرز سے ہی مذاکرات ہوتے رہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے ایک بار میسنجر کے طور پر تحریک انصاف کے دو ایم این ایز آئے اور دوسری بار خود قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر اعظم سواتی شہباز شریف کے چیمبر میں حاضر ہوئے۔

شہباز شریف نے مختصر مذاکرات کے بعد اعظم سواتی کو روانہ کیا تو خود اپنے چیمبر کے دروازے تک ان کے ساتھ بھی آئے۔ لیکن دروازے پر میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد دیکھ کر وہ کچھ دیر کے لیے واپس چیمبر کے اندر چلے گئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور صدر سردار مسعود خان ایسے خاص مہمان تھے کہ جن کی رسائی ہر چیمبر تک تھی اور ہر جگہ انھیں خوش آمدید کہا گیا۔

صورتحال کو بہتر کرنے میں انھوں نے اپنا کردار بھی ادا کیا۔

اپوزیشن نے حکومت کے سامنے تین مطالبات رکھے جنھیں کچھ شرائط کے ساتھ تسلیم کر لیا گیا۔

حکومت نے اپوزیشن کے مطالبے پر قرارداد میں من و عن ترمیم کر ڈالی اور قومی احتساب بیورو کی قید میں سابق صدر آصف زرداری اور نون لیگ کے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کر دیے۔

تاہم سپیکر نے مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ اور پشتون تحفظ موومنٹ کے ہمدرد سمجھے جانے والے آزاد ایم این ایز علی محمد وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جس پر بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں ان اراکین کے لیے بھی سپیکر سے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اپوزیشن کا تیسرا اہم مطالبہ وزیر اعظم عمران خان کی اجلاس میں حاضری سے متعلق تھا۔

پارلیمنٹ میں یہ بازگشت بھی سنائی دی گئی کہ حکومت اپوزیشن سے یہ یقین دہانی چاہتی ہے کہ جب عمران خان ایوان میں آئیں تو ان کے خلاف نعرے نہ لگائے جائیں اور انھیں تقریر کرنے دی جائے۔

Image caption اعظم سواتی وزیر اعظم عمران خان کا پیغام لے کر شہباز شریف کے چیمبر جا رہے ہیں

اس طویل وقفے کے دوران مسئلہ کشمیر سے متعلق راولپنڈی میں ہونے والے کور کمانڈرز اجلاس کے بعد افواج پاکستان کے ترجمان کے ٹویٹس بھی سامنے آئے تو چیمبرز میں یہ موضوع بھی زیر بحث رہا۔

تین گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد جب اجلاس شروع ہوا تو عمران خان متعدد اپوزیشن رہنماؤں سے پہلے ایوان میں موجود تھے۔

سپیکر نے انھیں پالیسی بیان دینے کے لیے کہا تو عمران خان نے تقریر شروع کردی۔ اپوزیشن نے ایک موقع پر شور شرابا کرنے کی کوشش کی تو عمران خان نے اس پر احتجاج کیا اور اپنے دائیں جانب تھوڑے فاصلے پر بیٹھے شہباز شریف کی طرف دیکھا تو شہباز شریف ان کا اشارہ بھانپ گئے۔

انھوں نے فوراً اپوزیشن اراکین کو یہ ہدایات دیں کہ خاموشی سے تقریر سنیں بعد میں ہم اس کا جواب دیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے دوران اکثر نشستیں خالی نظر آئیں۔ اس اجلاس کے لیے کم از کم چھ کیمروں سے کوریج کی جا رہی تھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر اعظم کے معاونین خصوصی فردوس عاشق اعوان اور نعیم الحق خاص مہمانوں کی گیلری میں براجمان تھے۔

بلاول بھٹو اپنے والد آصف زرداری کے ساتھ بیٹھے توجہ سے یہ تقریر سن رہے تھے جبکہ شہباز شریف اس دوران نوٹس لے رہے تھے۔ ایوان میں غیر معمولی رش کی وجہ سے کچھ اراکین قرارداد کو ’ہاتھ والے پنکھے‘ کے طور پر استعمال کرتے بھی نظر آئے۔

خاص رنگ کے لباس میں ملبوس اسمبلی اہلکار وزیر اعظم کی تقریر کے دوران ہی اجلاس کا ترمیم شدہ ایجنڈا (آرڈر آف دی ڈے) تقسیم کرتے نظر آئے۔ شہباز شریف کے علاوہ عمران خان کی تقریر کے نوٹس ان کی اطلاعات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے لیے۔

جب عمران خان نے تقریر کے دوران انڈین وزیر اعظم مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے‘ تو اس پر ایوان میں کچھ اراکین کی ہنسی کی آوازیں بھی نمایاں ہو گئیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہباز شریف نے عمران خان کو جواب الجواب میں کہا کہ وہ آئندہ وزیر اعظم کا پورا نام لیں گے

عمران خان کی تقریر کے بعد خاکی پینٹ اور کالے کوٹ میں ملبوس شہباز شریف تقریر کے لیے اٹھے۔ ایک ہی وقت میں حکومتی اراکین عمران خان کی تقریر پر داد دینے کے لیے جبکہ اپوزیشن اراکین شہباز شریف کو خوش آمدید کہنے کے لیے ڈیسک بجا رہے تھے جو قائد ایون اور قائد حزب اختلاف کا ایک ہی وقت میں خوشی کا سبب بن گیا۔

شہباز شریف بار بار عمران خان کو ان کے آخری نام ’نیازی‘ سے مخاطب کر رہے تھے۔ البتہ ان کی تقریر سے لفظ سلیکٹڈ غائب تھا جو ان کے بعد بلاول نے اپنی تقریر کے آغاز میں یاد دلایا۔

جیسے ہی شہباز شریف نے اپنی تقریر کے دوران کہا ’نیازی صاحب ہمیں ہندوستان کے تاریخی مظالم کے بارے میں بتا رہے تھے‘ اس دوران اپوزیشن سے کچھ اراکین کی ’ہُوٹنگ‘ کی آواز بھی نمایاں ہوئی۔

شہبازشریف کی تقریر کے دوران جب عمران خان کی پچھلی نشست پر براجمان وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کوئی جملہ کسا تو اپوزیشن لیڈر غصے میں آ گئے اور کہا کہ پھر ہم بھی آپ کو بولنے نہیں دیں گے۔ اس دوران شہباز شریف اپنی نشست پر ناراض ہو کر براجمان ہو گئے۔

عمران خان نے اشارہ کرکے فواد چوہدری کو شہباز شریف کی تقریر کے دوران نہ بولنے کی ہدایت کی تو سپیکر نے بھی اپوزیشن لیڈر کو تقریر جاری رکھنے سے متعلق درخواست کی۔

اس دوران اپوزیشن کے کچھ اراکین نے فواد چوہدری پر’ہُوٹنگ‘ بھی کی۔

سپیکر نے شہباز شریف کو یہ یقین دہانی کرائی کہ آج اہم دن ہے ہم سب آپ کو غور سے سنیں گے تو شہباز شریف نے بھی غصہ پی لیا اور کہا کہ آج وہ صرف ایک پاکستانی ہیں۔ شہباز شریف کے نیازی کہنے پر عمران خان کچھ بے چین دکھائی دے رہے تھے۔ کبھی مسکرا دیتے تو کبھی فواد چوہدری اور قریب براجمان دیگر اراکین سے بات چیت کرتے نظر آئے۔

شہباز شریف کی تقریر طویل ہوگئی تو سپیکر نے انھیں جی جی کہنا شروع کردیا جس کا مطلب شاید یہ تھا کہ بہت ہو گیا اب بیٹھ جایے۔ شہباز شریف نے سپیکر سے شکوہ کیا کہ آپ تو ڈنڈا لے کر میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اس دوران اپوزیشن بینچز سے سپیکر پر’ہُوٹنگ‘ بھی ہوئی۔

شہباز شریف کی تقریر کے بعد عمران خان دوبارہ کھڑے ہوگئے اور کہا کہ وہ دو باتیں کریں گے اور پھر ایک سوال چھوڑ دیں گے جس کا یہ (شہباز شریف) لمبی تقریر سے نہیں بلکہ دو منٹ میں جواب دیں۔

عمران نے شہباز شریف کی لمبی تقریر کا لفظ بار بار دہرانے کے بعد کہا ’میرا پورا نام عمران احمد خان نیازی ہے۔ اچھا ہے کہ آپ میرا پورا نام لیا کریں۔‘

Image caption پارلیمنٹ کی کارروائی کی کوریج پر مامور صحافی

عمران خان نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا ’یہ مجھے بتا دیں کہ میں اور کیا کروں؟ کیا میں حملہ کردوں ہندوستان پر`۔

شہباز شریف نے عمران خان کو جواب الجواب میں کہا کہ وہ آئندہ وزیر اعظم کا پورا نام لیں گے لیکن انھوں نے پورا نام غلط پکارا تو درستگی خود عمران خان نے کرائی۔ دوسری بار عمران خان اور شہباز شریف میں کراس ٹاک بڑھ گئی تو سپیکر کو بھی کہنا پڑا ’نو کراس ٹاک پلیز‘۔

اس دوران جیسے ہی سپیکر نے تقریر کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو تقریر کے لیے دعوت دی تو عمران خان ایوان سے اٹھ کر چلے گئے اور ان کے ساتھ اراکین کی بڑی تعداد بھی باہر نکل گئی جس سے ایوان میں خالی کرسیوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔

بلاول بھٹو نے شکوہ کیا کہ اتنے ’اہم اجلاس میں حاضری کیوں کم ہے۔ (آج) ہاؤس ان آرڈر کیوں نہیں ہے۔‘

بلاول کی تقریر عمران خان نے پارلیمنٹ میں موجود اپنے چیمبر میں بیٹھ کر سنی جہاں سے انھوں نے اپوزیشن سے کامیاب مذاکرات بھی کیے تھے۔

یہ مناظر دیکھتے ہوئے اراکین کی اکثریت کی طرح میں بھی ادھورے اجلاس سے باہر نکل آیا۔ گیٹ پر موجود سیکورٹی اہلکار نے باہر بارش کی خبر سنائی۔ اس بارش میں جب کوئی اور آواز سنائی نہیں دے رہی تھی تو میں یہی سوچتے ہوئے اپنے دفتر پہنچ گیا کہ کشمیر پر ہونے والے اس مشترکہ اجلاس میں مشترکہ کیا تھا؟

اسی بارے میں