آرٹیکل 370 کا خاتمہ: پاکستان نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا لے

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ PMO
Image caption اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال پر قانونی، سیاسی، سفارتی ردعمل سے متعلق تجاویز پر غور کیا

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لیے گئے فیصلے کے بعد پاکستان نے باضابطہ طور پر انڈین حکومت سے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد سے اپنا ہائی کمشنر واپس بلا لیں اور ساتھ ساتھ انھیں اطلاع دی ہے کہ پاکستان اپنا نامزد ہائی کمشنر اب انڈیا نہیں بھیجے گا۔

اس سے قبل بدھ کی شام قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستان نے انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثییت ختم کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے پر انڈیا سے سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دو طرفہ تجارت کا عمل معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے پانچ نکاتی اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پرائم منسٹر آفس میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے کے علاوہ تمام دو طرفہ معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں بھی اٹھائے گا جبکہ 14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا جبکہ 15 اگست کو انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر یوم سیاہ منانے کا فیصلے بھی کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی: پاکستان اب کیا کر سکتا ہے؟

کشمیر کی صورتحال: ردعمل ترتیب دینے کے لیے کمیٹی قائم

کشمیر میں سکیورٹی لاک ڈاؤن کے باوجود مظاہرے

قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ، آئی ایس آئی کےسربراہ، وزیر قانون اور دیگر افراد شریک ہوئے۔

اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال پر قانونی، سیاسی، سفارتی ردعمل سے متعلق تجاویز پر غور کیا اور انڈین حکومت کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور ایل او سی کے حالات پر مشاورت کی۔

واضح رہے کہ منگل کو پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر بحث کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال پر ردعمل ترتیب دینے کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اُس اعلان کے مطابق اس کمیٹی میں وزیر خارجہ، سیکریٹری خارجہ، اٹارنی جنرل، عالمی قوانین کے ماہر وکیل اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور ڈی جی آئی ایس پی آر شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

محدود سفارتی تعلقات کا مطلب کیا ہے؟

سفارتی تعلقات محدود کیے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے سابق سفارت کار سلمان بشیر کا، جو کہ انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہ چکے ہیں، کہنا تھا کہ کسی ملک کے ساتھ سفارتی عمل کو محدود کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں سے اپنے ملک کے سفیر کو واپس طلب کر لیا جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ سفارتی تعلقات مکمل منقطع ہو جائیں گے بلکہ پاکستان انڈیا میں متعین اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا لے گا اور انڈیا اپنے ہائی کمشنر کو۔‘

سابق سفارت کار قاضی ہمایوں نے بی بی سی کو بتایا کہ محدود تعلقات کے تحت پاکستان انڈیا سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا لے گا اور ان کی غیر موجودگی ان کے نائب (چارج ڈی افئیرز) ہائی کمیشن کے معاملات کو دیکھیں گے۔

’اس کا مقصد انڈیا اور بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم ان کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اعلان کے مطابق پاکستان اپنا نامزد ہائی کمشنر اب انڈیا نہیں بھیجے گا

قاضی ہمایوں کا کہنا تھا کہ سفارتی اقدامات میں عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور اگر پاکستان کا ہائی کمشنر واپس آئے گا تو انڈیا کے ہائی کمشنر کو بھی لازماً جانا ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین حالات پہلے ہی کشیدہ چل رہے ہیں اور یہ اقدام کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔

قاضی ہمایوں کا کہنا ہے کہ فی الحال انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر تعینات نہیں کیے گئے ہیں اور یہ تعیناتی ہونا باقی تھی۔ تاہم اب اس فیصلے کے تحت پاکستان انڈیا میں اپنا ہائی کمشنر نہیں بھیجے گا جب تک کے حالات معمول پر نہیں آتے اور اس معاملے پر بات چیت نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا میں پاکستانی ہائی کمشنر کی غیر موجودگی میں اب بھی معاملات چارج ڈی افئیرز ہی عارضی طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ماضی کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب روسی افواج نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو پاکستان نے روس میں اپنے متعین سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور جب تک روسی افواج واپس نہیں گئیں اور طالبان کی حکومت نہیں آئی تو سفیر کی غیر موجودگی میں ایک مستقل چارج ڈی افئیرز نے معاملات سنبھالے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی نوعیت کا معاملہ اس وقت پیش آیا تھا جب افغانستان میں پاکستان کے سفارت خانے پر حملہ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: اقوام متحدہ کی قرارداوں کی حیثیت کیا ہے؟

’کیا میں حملہ کر دوں ہندوستان پر۔۔۔؟‘

’اب کشمیریوں کا انڈیا سے اعتبار اٹھ گیا ہے‘

محبوبہ مفتی:’پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

متفقہ مذمتی قرارداد منظور

پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بدھ کو بھی جاری رہا اور شام گئے اس میں کشمیر کے معاملے پر مذمتی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے۔

قرارداد میں انڈین حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرنے اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

  • قرارداد میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو انڈین آئین کے آرٹیکل 35 اے کے خاتمے کے ذریعے تبدیل کرنے کی مذمت کی گئی۔
  • قراداد میں انڈین حکومت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) میں بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ کے ذریعے ایل او سی کے ساتھ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نہتے شہریوں پر کلسٹر بم استعمال کرنا اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور دیگر حالیہ اقدامات کی مذمت کی گئی۔
  • قرار داد میں زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ جموں و کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایجنڈا ہے اور انڈیا کے غیر قانونی اقدامات جموں اور کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔
  • انڈیا کی جانب سے زیر انتظام کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی اس کے ساتھ کشمیریوں سے متعلقہ آرٹیکل 35 A کے تحت مستقل شہریت، جائیداد کے حصول، روزگار تعلیم سمیت دیگر انسانی حقوق کو دبانے کے اقدامات کی مخالفت کی جاتی ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟

خیال رہے کہ انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیر کو راجیہ سبھا میں اعلان کیا تھا کہ انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیا جا رہا ہے اور اب جموں و کشمیر اور لداخ مرکز کے زیرِ انتظام دو علاقے ہوں گے۔

اس شق کے خاتمے کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے عوام کو حاصل خصوصی حقوق بھی ختم ہو گئے ہیں جو اس شق کے تحت انھیں دیے گئے تھے۔

انڈین حکومت نے اس اعلان سے قبل کشمیر میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کر کے کرفیو لگا دیا تھا اور وادی میں ٹیلی فون سروس، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی معطل کر دی گئی تھی۔

ان اقدامات کی وجہ سے کشمیر کا علاقہ تین دن سے باقی دنیا سے کٹا ہوا ہے اور وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق مقامی آبادی میں انڈین حکومت کے اس فیصلے کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

انڈیا کی طرف سے کشمیر کی ریاست کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے دو روز بعد بدھ کو وادی کے چند حصوں میں پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق سری نگر اس وقت کسی بھی جنگی علاقے سے مختلف نظر نہیں آتا۔ دکانیں اور بازار بند ہیں، سکول اور کالج بھی بند ہیں۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں راشن اور دیگر اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ تو کیا ہے لیکن اگر مزید کچھ دن دکانیں نہ کھلیں تو شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں