کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ: ’چین نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے‘

چین تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@SMQURESHIPTI
Image caption ’چین کا ردعمل پاکستان کی توقعات کے عین مطابق ہے‘

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جانے کی صورت میں چین نے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

اتوار کی شام وزارت خارجہ میں صحافیوں کو اپنے حالیہ ہنگامی دورہ چین کے حوالے سے دی گئی ایک بریفنگ میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر چین کا ردعمل پاکستان کی توقعات کے 'عین مطابق' ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چین میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کے دوران انھوں نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی پارلیمان سے حال ہی میں پاس ہونے والی متفقہ قرارداد اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے چین کی قیادت کو آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’کشمیر کی تحریک پہلی ترجیح، تجارت دوسرے نمبر پر‘

’میں اپنے بیٹے کو بھی بندوق اٹھانے کے لیے تیار کروں گا`

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

انھوں نے کہا کہ چین کی قیادت کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہاں پاکستان کو چین کی مدد درکار ہو گی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مرکزی قومی مسئلے پر چین نے بلاجھجک ساتھ دینے کا یقین دلایا، بالکل اسی طرح جس طرح ہم ان کے قومی سلامتی کے مسئلوں پر ان کا ساتھ دیتے ہیں۔

'چین نے نہ صرف اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے بلکہ انھوں نے نیو یارک میں اپنے نمائندے کو ہدایات دیں ہیں کہ وہ پاکستان کے نمائندے سے رابطے میں رہیں اور اس معاملے پر مشاورت جاری رکھیں۔'

شاہ محمود قریشی کے مطابق پاکستان اور چین نے اپنے اپنے ممالک کی وزارت خارجہ میں ایک، ایک فوکل پرسن نامزد کیا ہے جو کہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت میں رابطہ کار کے فرائص سرانجام دیں گے تاکہ ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@SMQURESHIPTI
Image caption ’پاکستان اس مسئلے پر شور شرابہ کرنے کا استحقاق رکھتا ہے‘

'چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو ایک متنازع علاقہ سمجھتے ہیں اور اس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ انڈیا دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ فکر کی بات نہیں کیونکہ یہ انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے مگر پاکستان اس مسئلے پر شور شرابہ کرنے کا استحقاق رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل جانے کا مسئلہ کافی تیکنیکی نوعیت کا ہے اور اس کے اپنے طریقہ کار ہیں جو کافی پیچیدہ ہیں۔ 'مختلف آپشنز ہیں، اس پر تبادلہ خیال اور مشاورت کی ضرورت ہے جو کہ جاری ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر میں تشدد کا زیادہ استعمال کیا گیا تو پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھی جا سکتا ہے۔

انڈیا کا پاکستان پر دنیا کو گمراہ کرنے کا الزام

اس سے قبل انڈیا نے پاکستان پر دنیا کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اپنی ایک حالیہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق انڈیا کے فیصلے کی حقیقت کو تسلیم کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد انڈیا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں کمی کا اعلان کیا ہے اور انڈیا کے سفیر کو ملک سے چلے جانے اور اپنے نامزد سفیر کو دلی نہ بھیجنے کے علاوہ دونوں ملکوں کے ٹرین رابطوں اور تجارت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے نیوز کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت نے دنیا کے کئی ملکوں کے سفیروں اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں کو انڈیا کی پوزیشن سے روشناس کروایا ہے اور بتایا ہے کہ شق 370 سے متعلق تبدیلی انڈیا کا مکمل طور پر اندرونی معاملہ ہے اور اس کا تعلق انڈیا کے آئین سے ہے جو انڈیا کے اقتدار اعلیٰ کے دائرے میں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان یکطرفہ قدم اٹھا کر اس اندرونی معاملے کو دنیا کے سامنے باہمی رشتے کی پریشان کن صورتحال کے طور پر پیش کر رہا ہے لیکن اسے ہر جگہ ناکامی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں