پاکستان کا یومِ آزادی: قومی پرچم کو لہرانے کے قواعد اور ضوابط

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر پاکستان 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پر مناتا ہے تو انڈیا 15 اگست کی تیاری میں رہتا ہے

کسی زمانے میں جب منجنیق سب سے بڑا جنگی ہتھیار تھا تو اس سے حریف کی اہم تنصیبات کو تباہ کرنے کے بعد سب سے اہم ہدف دشمن کے پرچم کو گرانا ہوتا تھا۔

جنگ کے دوران جو فریق اپنے پرچم کی حفاظت یقینی نہ بنا سکے تو پھر اس کا مطلب اُس کی شکست سمجھا جاتا تھا۔

تاریخ میں ایسی بھی مثالیں ملتی ہیں کہ جب کوئی جنگ کے دوران شدید زخمی ہوجاتا تھا تو وہ اپنا ’علم‘ یعنی پرچم اپنے ساتھ لڑنے والے سپاہی کے سپرد کردیتا تھا تاکہ برسرِ جنگ فوج کو لہراتا ہوا پرچم دور سے نظر آتا رہے اور وہ حوصلہ نہ ہاریں۔

عسکری اتحاد کی علامت یہ پرچم جدید دور میں قوموں کو اپنے سائے تلے متحد رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ایک جانور قومی پرچم کی جگہ کیسے لے سکتا ہے؟‘

چینی پرچم اور ترانے کی توہین پر سخت سزا کی تجویز

انڈین جھنڈے کے ڈور میٹ پر ایمازون کی معذرت

پرچم کے رنگ کسی ملک کے نظریے اور وہاں رہنے والوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جیسے پاکستان کے پرچم میں سبز رنگ یہاں بسنے والوں مسلمانوں کے بارے میں ہے جبکہ سفید رنگ بتاتا ہے کہ ملک میں دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی امن اور آشتی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

اگر آپ امریکہ میں ہیں تو 50 ریاستوں میں جو قدر مشترک ہے وہ امریکہ کا قومی پرچم ہے جو ہر ریاست کے پرچم پر مقدم سمجھا جاتا ہے اور عمارتوں اور گھروں پر لہراتا دور سے نظر آتا ہے۔ دنیا بھر سے امریکہ میں مقیم شہری اس پرچم تلے ایک قوم بن جاتے ہیں۔

تفریح بھی، سبق بھی

اگر برازیل اور جرمنی کی فٹ بال ٹیموں کا میچ ہو رہا ہو تو پھر قومی پرچم ہر دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر ہاتھ میں ایک پرچم ہے جو چارسُو لہراتا نظر آتا ہے۔

میچ کے دن خاص طور پر سٹیڈیم میں پرچم اپنے رنگ بکھیر رہا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کے مناظر، تفریح بھی اور سبق بھی

یا پھر اگر اس کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنا نہ بھولیں۔ اگر کرکٹ سیزن نہ بھی چل رہا ہو تو کسی شام واہگہ بارڈر پر جا کر پرچم کشائی کے مناظر دیکھ لیجئے۔ تفریح بھی اور سبق بھی۔

خاص طور پر جب دونوں ممالک کے درمیان کشمیر پر کشیدگی میں اضافہ ہوجائے تو پرچم زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ انڈیا ترنگا لہرانے کی فکر میں رہتا ہے تو پاکستان سبز ہلالی پرچم۔

اگست کا مہینہ دونوں ممالک کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اگر پاکستان 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پر مناتا ہے تو انڈیا 15 اگست کی تیاری میں رہتا ہے۔

یوم آزادی سے کچھ دن قبل جب انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام جموں اور کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی تو دونوں ممالک ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے۔

Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتِحال کے پیش نظر پاکستان میں یوم آزادی کے موقعے پر کشمیری پرچم کی مانگ بڑھ گئی ہے

پاکستان میں ہر جگہ جہاں یوم آزادی کی مناسبت سے قومی پرچم کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے وہیں ہر جگہ، ہر سٹال پر کشمیر کے پرچم کی بھی طلب میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

اب جو پاکستان کا پرچم خریدنے جاتا ہے تو ساتھ کشمیر کے پرچم کی زیادہ قیمت کی پرواہ نہیں کرتا۔

اپنے ملک کے ساتھ بے مثال محبت کا اظہار اپنے ہاتھ اور گھروں کی چھتوں پر پرچم لہرا کر کیا جاتا ہے۔ اب تو سوشل میڈیا پر بھی حب وطنی کا اظہار پرچم لہرا کر کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین میں قومی پرچم کی سرعام توہین پر حال ہی میں 15 دن پولیس حراست کی سزا نافذ کی گئی ہے

توہین پرچم کا قانون

پاکستان اور انڈیا میں قومی پرچم کی توہین ایک ایسا جرم ہے جس پر ملزم کا قصور ثابت ہونے پر جرمانے سمیت قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ ایسی ہی صورتحال چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ہے جہاں پرچم کی توہین پر قید بھی ہو جاتی ہے۔

قومی پرچم، قومی نشان کی توہین، اس کے نذر آتش کیے جانے یا اسے مسخ کیے جانے یا سر عام اسے پاؤں سے کچلنے کے خلاف بھی سخت قوانین موجود ہیں۔

کچھ عرصہ قبل پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کے حکام کو جہازوں پر مارخور کی تصویر لگانے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ ایک جانور قومی پرچم کی جگہ کیسے لے سکتا ہے؟

Image caption حال ہی میں پی آئی اے نے اپنے جہازوں کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے ہوئے مارخور کی تصویر والا نیا ڈیزائن متعارف کروایا تھا

سرنگوں پرچم

جب کسی ملک میں کوئی بڑا سانحہ ہو جاتا ہے تو پھر ایسے میں سوگ کے طور پر قومی پرچم کو مکمل بلندی پر نہیں لہرایا جاتا ہے اسے کم بلندی کے لہرانے کے عمل کو سرنگوں کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں دسمبر 2016 میں جب پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا تو اس میں 150 کے قریب بچے اور دیگر افرد مارے گئے۔ یہ ایک بڑا سانحہ تھا جس پر سوگ میں قومی پرچم کو سرنگوں کیا گیا۔

پرچم الٹا کب اور کیوں لہرایا جاتا ہے؟

اس موقع پر اہم سوال یہ ہے کہ کیا جشن آزادی مناتے ہوئے آپ پرچم لہرانے کے قواعد سے واقف بھی ہیں کہ نہیں؟

اگر آپ اپنے ہاتھ میں یا گھر پر الٹا پرچم لہرا رہے ہیں تو آپ شدید خطرے میں ہیں۔

جی ہاں۔۔۔ پرچم الٹا لہرانے کا مطلب یہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@AnsarAAbbasi
Image caption شاید اس کار میں بیٹھے شخص کو یہ معلوم ہی نہیں کہ پرچم کی سمت تبدیل کرنے سے صورتحال کتنی تبدیل ہوجاتی ہے۔۔۔

جھنڈا الٹا لہرانے پر آپ کی مدد کو اگر کوئی پڑوسی آئے اور آپ حیرت میں مبتلا ہو جائیں تو پھر صاف ظاہر ہے کہ آپ پرچم کے کوڈ یا پروٹوکول سے واقف ہی نہیں۔

جب جنگی صورتحال ہو یا ڈر ہو کہ دشمن حملہ کرکے شدید نقصان پہنچائے گا تو ایسی صورت میں الٹا پرچم لہرا کر ہنگامی بنیادوں پر مدد طلب کی جاتی ہے۔

لیکن یہ کار الٹا پرچم لہرا کر اتنی تیز رفتاری سے کدھر جا رہی ہے؟

شاید اس کار میں بیٹھے شخص کو یہ معلوم ہی نہیں کہ پرچم کی سمت تبدیل کرنے سے صورتحال کتنی تبدیل ہوجاتی ہے ورنہ یہ رک کر کُمک کا انتظار کرتا۔

سیاسی مبصرین کی رائے

پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا کہ پرچم کی قدیم تاریخ ہے۔ یونان اور قدیم فارس کے علاقوں میں بادشاہ اپنا پرچم رکھتے تھے۔ یہ عسکری اتحاد کی علامت کے بعد قومی اتحاد کی صورت اختیار کر گیا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پرچم کی بھی ایک زبان ہوتی ہے اور اس سے متعلق جو ضوابط ہوتے ہیں ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا اور نہ عام آدمی ان ضابطوں سے واقفیت رکھتا ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کے پروفیسر تیمور رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ قدیم زمانے میں جنگوں کے دوران مختلف رنگ کے پرچم پیغامات کے لیے تیار کیے جاتے تھے۔

’کچھ پرچم اپنی فوج کے لیے پیغام رسانی کے طور پر استعمال ہوتے تھے جبکہ مخالف فوج کی طرف سفید رنگ کا پرچم لہرانے کا مطلب امن کی آفر ہوتی تھی۔‘

پروفسر رئیس کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے جھنڈے میں سبز رنگ جہاں تقدس اور مذہب کے ساتھ جڑ گیا تو وہیں انڈین پرچم میں زعفرانی رنگ راشٹریہ سویم سیوک جیسی ہندو انتہا پسند تنظیموں کی سوچ کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔‘

تیمور رحمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پرچم کے ساتھ جڑے قومی اور مذہبی تقدس کو تنقید کا رستہ روکنے کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔

پروفیسر رئیس کا کہنا ہے کہ روس کی افغانستان میں جنگ کے بعد پاکستان میں پرچم کی اہمیت میں زیادہ اضافہ ہوا اور اب یہ موجوہ صورتحال میں ایک اچھے کاروبار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اسی بارے میں