سرینگر سے مظفر آباد آنے والے کشمیری: ’لائن آف کنٹرول پار کرنے کے بعد موت کا خوف نہیں تھا‘

مظفرآباد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مظفر آباد میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے لیے الگ آبادی موجود ہے

انڈیا کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی خوف اور بے یقینی موجود ہے اور لائن آف کنٹرول پار کر کے مظفر آباد میں بسنے والے کشمیری سرحد کے اُس پار اپنے پیاروں کے لیے پریشان ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف تو نجانے اس نئی صورتحال کو پہلے دن کیسے دیکھا گیا، لیکن کم از کم پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ انھیں یہ خبر ملے گی کہ انڈیا میں کشمیر کا خصوصی ریاستی درجہ ختم کر دیا جائے گا۔

یہاں کے لوگوں کے لیے یہ ایک حیران کن بات تھی، ایک دھچکا تھا۔

پاکستان میں کشمیر دو دِن پہلے سے ہی خبروں میں تھا۔ تین اگست کو پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے یہاں کلسٹر بموں سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

الزامات کے مطابق یہ بم جب بچوں کے ہاتھ لگے تو ان میں سے ایک ہلاک ہو گیا اور ایک ہی خاندان کے دس افراد زخمی ہوئے۔ ایک اور بم جب چند نوجوانوں کے ہاتھ میں پھٹا تو دو ہلاکتیں ہوئیں۔ تاہم انڈیا کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں کلسٹر بم: ’ہماری جان، مال کچھ محفوظ نہیں‘

’کشمیر کی تحریک پہلی ترجیح، تجارت دوسرے نمبر پر‘

ایل او سی پر کشیدگی: ’مودی آرٹیکل 35 اے سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں‘

’میرا بچہ کہتا ہے بنکر میں دم گھٹتا ہے‘

لیکن اس موقع پر کسی کو یہ اُمید نہیں تھی کہ آئندہ دو دن کے اندر ایک نیا بحران پیدا ہو جائے گا۔

میں اپنی ٹیم کے ہمراہ کلسٹر بموں سے جڑی اسی خبر کی تحقیق کے لیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ پہنچی۔ یہاں خبر ملی کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کر دیا گیا ہے۔

یہ خبر سنتے ہی مظفر آباد اور دیگر علاقوں میں موجود شہریوں نے لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف مقیم اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، لیکن کہیں سے کوئی خبر نہیں آ رہی تھی۔

یہاں کے مقامی افراد کے لیے یہ اتنی مشکل اور جذباتی صورتحال تھی کہ ایک رپورٹ کی تیاری کے دوران میں نے جب ایک خاتون سے اس بارے میں بات کی تو اس گھر کے کچھ افراد رو پڑے۔ انھیں پریشانی تھی کیونکہ وہ اپنے بہن بھائیوں سے رابطہ نہیں کر پا رہی تھیں اور انھیں ڈر تھا کہ انڈیا کی سکیورٹی فورسز ان کے اہلخانہ کو مار دیں گی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لائن آف کنٹرول پس بسنے والے لوگ: ’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ مزید فائرنگ ہو گی‘

ان کے خوف کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ ان کے شوہر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزادی یا علیحدگی پسندوں کی تحریک سے منسلک تھے اور 90 کی دہائی کے آغاز میں ہی ایک مقابلے میں ان کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ان کی بیوہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ گرفتاری کے خوف سے اپنے نومولود بچے کے ہمراہ لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر منتقل ہو گئیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ لائن آف کنٹرول پار کرنے میں کیسے کامیاب ہوئیں تو انھوں نے بس یہی جواب دیا 'وہ ایک خوفناک دن تھا۔'

سرینگر سے مظفر آباد آنے والے کشمیری

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے شہریوں کی ہے جو یا تو حالات خراب ہونے کے باعث لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے یہاں منتقل ہوئے یا ان کے آباؤ اجداد 1947 اور 1948 کے درمیان اس وقت جدا ہو گئے جب دونوں ملکوں میں کشمیر کے معاملے پر پہلی جنگ ہوئی تھی۔

اس طرح یہاں بازاروں میں چلتے پھرتے آپ کو ہر دو قدم پر کوئی ایسا شخص ضرور ملے گا جس کے خاندان کے کچھ افراد انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم ہیں اور ان میں زیادہ تر کشمیر کے شورش زدہ علاقوں میں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران رابطے منقطع ہونا ان کے لیے ایک بڑی پریشانی تھی۔ انھیں اپنے رشتے داروں کی فکر تھی کہ نجانے وہ کس حال میں ہوں گے۔

Image caption پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب ایک گاؤں سے ملنے والا ایک کلسٹر بم جو ابھی تک نہیں پھٹا

مظفر آباد میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے لیے الگ آبادی موجود ہے۔ دریا کے کنارے ان تنگ گلیوں میں درجنوں گھر بنے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک گھر میں ہماری ملاقات صغیر (فرضی نام) سے بھی ہوئی۔

وہ بھی 1990 کی دہائی کے آغاز میں سرینگر سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس وقت منتقل ہوئے جب انڈین انٹیلی جنس اداروں نے انھیں ایک بار گرفتار کیا اور پھر چھوڑ دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے آخر ایسا کیا کیا تھا کہ انڈین سیکیورٹی ادارے ان کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں اس وقت حالات خراب تھے۔

'لوگ انڈیا سے آزادی چاہتے تھے، نوجوان بھی آگے آگے تھے۔ انڈین سیکیورٹی اداروں کو مجھ پر شک تھا کہ میں مجاہدین کی مدد کرتا ہوں، انھیں پناہ دیتا ہوں اور پاکستان میں ٹریننگ لیتا ہوں۔ انھیں مجھ پر شک تھا کہ میرے پاس اسلحہ ہے اور میں اسے ان کے خلاف استعمال کرتا ہوں۔‘

تو کیا واقعی ایسا تھا؟ اس سوال پر صغیر نے کہا ’نہیں، اور اگر ہم ان کو کہتے بھی کہ ہمارے پاس کوئی اسلحہ نہیں، تب بھی وہ ہم پر یقین تو نہیں کرتے تھے۔ بہرحال ہم نے انھیں کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں، نہ ہمارے پاس اسلحہ ہے نہ ہم پناہ دیتے ہیں۔ مگر ہاں ہم آزادی چاہتے ہیں، ہم اس کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ پھر انھوں نے فرار کی راہ کیوں اختیار کی؟

’میرے ارد گرد لوگ گرفتار ہو رہے تھے تو میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں یہاں سے کچھ عرصے کے لیے چلا جاؤں۔ تو میں مظفر آباد کی طرف نکل آیا۔‘

Image caption ایل او سی کے قریب بسنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ’بچپن سے بڑھاپے تک ہم گولیوں اور نقل مکانی کے بیچ ہی زندگی گزارتے ہیں‘

ایل او سی پار کرنا کتنا مشکل تھا؟

صغیر کا اپنا تجربہ یہ کہتا ہے کہ وہ رات ان کی زندگی کی ’سب سے مشکل رات تھی‘۔

انھوں نے بتایا ’ہم نے چھپ کر یہ لائن کراس کرنا تھی۔ لیکن ہم بھٹک گئے۔ ہمیں لگا کہ ہم چلتے چلتے انڈین فورسز کے پاس ہی پہنچ جائیں گے۔ سو ہم وہیں درختوں کے گرد اُگی جھاڑیوں میں بیٹھ گئے۔‘

صغیر ایل او سی پار کرتے وقت اکیلے نہیں تھے۔ انھوں نے بتایا ’میرے ساتھی نے میرے منع کرنے کے باوجود سگریٹ سلگایا۔ اندھیرے میں جلتا سگریٹ تو نظر آ گیا، اور پھر ایک منٹ کے اندر اندر فائرنگ شروع ہو گئی۔ ہم دونوں ایک ہی درخت کے پیچھے چھپے تھے۔ گولیاں مجھے چھو کر گزر رہی تھیں۔‘

موت کو قریب سے دیکھنے کے اس واقعہ پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیسی جگہ موت آ رہی ہے جہاں میرا جسم جانور اور پرندے نوچ کھائیں گے اور مجھے دفن ہونے کے لیے زمین بھی نہیں ملے گی۔ موت میرے سامنے تھی۔‘

لیکن صغیر کہتے ہیں کہ وہ ان مشکل حالات میں بچ نکلے۔ ’پھر گولیاں رک گئیں۔ یہاں تک کہ انڈین بارڈر فورس کی ایک پیٹرولنگ ٹیم ہمارے قریب سے ہی گزر گئی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں پتا چل گیا کہ ہم نے کس سمت میں نہیں جانا۔ سو ہم نے صبح فجر کی اذان کے وقت ایک نالے کے ساتھ رینگتے رینگتے اسے پار کیا۔‘

مگر اتنا سب ہونے کے بعد اگر انھیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گولی مار دی جاتی تو کیا ہوتا؟ اس کے جواب میں انھوں نے بتایا ’جب ہم لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی حد سے باہر نکلے تو پھر موت کا خوف نہیں تھا۔ پاکستانی فوج کی گولی کا دکھ نہ ہوتا'۔

ایل او سی کے اس پار مزاحمت کرنے والوں کے کشمیر کے اس حصے میں آنے کی کہانی کم و بیش ایک سی ہی ہے۔ ان کے مطابق ان کے اہلخانہ کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے کے لیے سرکاری دستاویزات اور پاسپورٹ وغیرہ نہیں دیا جاتا جبکہ ان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ یوں تحریک کا حصہ رہنے والے جب ایل او سی کے اس جانب پناہ کے لیے آتے تھے تو ان پر واپسی کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے۔

صغیر اب مظفر آباد میں کشمیر کی انڈیا سے آزادی کے لیے ہونے والے جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

ایل او سی پر اس وقت انڈیا کی جانب سے باڑ نصب کی جا چکی تھی جبکہ یہاں دونوں اطراف کی افواج کی سخت نگرانی بھی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہاں سے غیرقانونی کراسنگ ناممکن ہو چکی ہے۔ تاہم انڈیا کی جانب سے پاکستان پر اب بھی یہ الزامات لگتے ہیں جنھیں پاکستان سختی سے مسترد کرتا رہتا ہے۔

خوف کا عالم

علاقے میں کشیدہ صورت حال کے پیشِ نظر جب ہم نے مظفر آباد کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں ایک نوجوان سے پوچھا کہ کیا انھیں علم ہے کہ آج کل وادی کشمیر میں کیا ہوا ہے۔ ان کی عمر لگ بھگ اٹھارہ سال ہو گی اور ان کا ساتھی اس سے بھی کم عمر تھے۔ وہ کہنے لگے 'ظاہر ہے ہمیں پتا نہیں ہو گا تو اور کس کو پتا ہوگا؟'۔

’انڈیا نے ایسا کیوں کیا؟‘ کے سوال پر وہ ہنس پڑے اور یہی کہا کہ 'یہ تو ہم نہیں جانتے'، مگر پھر ان میں سے ایک نے کہہ دیا کہ 'یہ اس لیے کیا ہے کہ کشمیری قوم ختم ہو سکے'۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بے یقینی کی فضا غالب ہے۔ یہاں کے پرانے بازار میں ایک دکاندار نے کہا کہ 'ہم نے تو گھر میں راشن جمع کر لیا ہے، کچھ پتا نہیں کل کیا ہو جایے، اس بار حالات خراب ہوئے تو انڈین گولے یہاں شہر میں بھی آئیں گے، پھر ہم کہاں جائیں گے؟'

دونوں ملکوں کے بیچ حالات خراب ہونے کے اندیشوں سے تو یہاں کی عوام پہلے بھی کئی بار گزر چکے ہیں۔ لیکن اس بار انھیں دُکھ بھی ہے کہ اب شاید وہ ہونے جا رہا ہے جس کا خوف تو رہتا تھا مگر یہ یقین تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ یعنی کشمیر میں کشمیری عوام کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا۔ انھیں ڈر ہے کہ اب شناخت اور تشخص چھیننے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

تو کیا اب حکومتِ پاکستان اپنے زیرِ انتظام کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر دے گی؟

ایک دن یہاں جب یہ افواہ اڑی کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان جلد از جلد مظفر آباد پہنچ رہے ہیں تو یہاں قوم پرست جماعتوں کا ایک ٹولہ علی الصبح سرخ رنگ کے بینرز اٹھائے یہاں مرکزی چوک پر پہنچ گیا۔ ان کے بینرز پر 'کشمیر بنے گا خود مختار' اور 'نیلم جہلم پر تمہارا قبضہ نامنظور' جیسے نعرے درج تھے۔

Image caption وزیراعظم پاکستان عمران خان کی مظفرآباد آمد اور کشمیری رہنماؤں سے ملاقات

ان کا ارادہ تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی آمد کے موقع پر وہ ان کی توجہ حاصل کرنے اور انھیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے جلوس نکالیں گے۔ عمران خان تو نہیں آئے البتہ یہ درجن بھر افراد چوک کا ایک چکر لگا کر چلے گئے۔

میں نے ایک مقامی صحافی سے پوچھا کہ کشمیر کی بطور ایک علیحدہ ریاست کی حمایت یہاں کس قدر ہے، تو انھوں نے کہا کہ 'یہاں کے سکولوں میں بچپن سے ہی بتایا جاتا ہے کہ ہم پاکستان کا حصہ ہیں۔ تو یہاں سب ’پرو پاکستانی‘ ہی ملیں گے، کوئی اور سوچ دماغ میں آتی ہی نہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’لیکن یہ گروہ یہاں بالکل موجود ہے اور خاص طور پر سوشل میڈیا وغیرہ کے بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو کشمیر کے انڈیا اور پاکستان دونوں ہی کے ساتھ الحاق کے مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ کشمیر کو الگ ریاست کے طور پر الگ کر دیا جائے۔‘

اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے یہاں کے سابق چیف جسٹس سید منظور حسین گیلانی نے کہا کہ 'اس میں کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کشمیری عوام نے کس کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا علیحدہ ہونا ہے۔ یہ ان کی مرضی ہے۔ اور اس فیصلے کا حق صرف کشمیری عوام کو ہی ہے۔‘

’لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اکثریت پاکستان کے ساتھ ہے، اور جو پاکستان کے ساتھ نہیں وہ بھی انڈیا کی حمایت نہیں کرتے'۔

دونوں ملکوں کے بیچ کشمیر کا سیاسی حل نجانے کب اور کیا نکلے گا۔ لیکن یہاں کی نئی نسل سمجھتی ہے کہ یہ حل اب کافی قریب ہے۔ مگر بزرگ کہتے ہیں 'ابھی یہ جنگ کچھ اور نسلیں لے گی'۔

اسی بارے میں