اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس: کشمیر پر مشاورتی اجلاس کا مطلب کیا ہے؟

سلامتی کونسل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کئی دہائیوں میں پہلا موقع ہے جب سلامتی کونسل میں کسی بھی قسم کے اجلاس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا تنازعہ ایجنڈے پر تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے استدعا کی تھی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین حکومت کے جارحانہ اقدامات پر نظر ڈالی جائے۔

پاکستان اس سے پہلے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسی موضوع پر دو خط لکھ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ: بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی: پاکستان اب کیا کر سکتا ہے؟

صورہ میں احتجاج ہوا، انڈیا کی حکومت کا اعتراف

عمران خان: ’ہم مودی کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے‘

ریڈیو پاکستان کے مطابق سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر 1998 کے بعد پہلی بار بات چیت ہوئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے جوہری تجربوں کے بعد اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1172 پر بحث ہوئی تھی۔

سکیورٹی کونسل کا اجلاس کس طرح منعقد ہوتا ہے اور اس میں صورتحال کو کیسے زیر بحث لایا جاتا ہے اس پر بی بی سی اردو کے اعظم خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفارتکاورں سے تفصیلی گفتگو کی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کا طریقہ کار

سابق سفارتکار شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ کونسل کے ’پانچ بڑے‘ پہلے بند کمرے میں اکٹھے ہونگے اور صلاح مشورہ کریں گے کہ اس معاملے میں آگے کیسے بڑھنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’پہلے نتیجے پر بات ہوگی پھر بحث ہوگی۔ خفیہ طور پر پانچ ممالک مل کر صلاح مشورہ کرتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکالنا ہے۔ اسی وجہ سے ہی اسے پانچ بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کہا جاتا ہے۔‘

اس اجلاس کے بعد بھی کونسل کے صدر کی طرف سے کوئی بیان سامنے آسکتا ہے جس میں دونوں ممالک کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس صورتحال میں تحمل کا مظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کریں اور کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

’اگر اوپن ڈیبیٹ ہوتی ہے تو پھر قرارداد پر بحث شروع ہوگی جس میں اقوام متحدہ کے تمام 192 ممالک بھی حصہ لینے کے اہل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اجلاس ہفتہ کیا 20 دن تک بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔‘

سابق سفارتکار تسنیم اسلم کے مطابق کونسل ابھی ’آؤٹ کم‘ پر بھی بات کرے گی۔ اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کونسل کے سامنے قرارداد کس شق کے تحت لائی جائے۔‘

تسنیم اسلم کہتی ہیں کہ جنگی صورتحال کے خطرات کا تواتر سے جائزہ لینے کے لیے کونسل کوئی کمیشن بھی تشکیل دے سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی جب مسئلہ کشمر پر دونوں ممالک کے درمیان جنگی خطرات بڑھ گئے تھے تو کونسل نے انڈیا پاکستان کمیشن بنا دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مسئلے کے طور پر کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل غور کرتی رہتی ہے۔ لیکن ایکشن وہیں ہوتا ہے جہاں ایکشن لینا ہوتا ہے۔

جیسے ’پیس اینڈ سکیورٹی‘ کا مسئلہ بنا کر عراق کو تباہ کردیا گیا بعد میں معلوم ہوا نہ تو وہاں بڑے درجے پر تباہی کرنے والے ہتھیار تھے اور نہ ہی وہ ’پیس اور سکیورٹی‘ کا مسئلہ نکلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/Bettmann
Image caption اقوامِ متحدہ کے اس پانچ رکنی کمیشن نے 1949 میں استصوابِ رائے کی شرط رکھ کر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا تھا۔ کمیشن میں کولمبیا، چیکوسلواکیا، برما، آرجنٹینا اور بیلجیئم کے سفیر شامل تھے

سلامتی کونسل نے کشمیر پر پہلے کیسے ایکشن لیا تھا؟

شمشاد احمد خان کا کہنا ہہے کہ جب مہاراجہ کے دستخط سے انڈیا کے ساتھ الحاق سے متعلق (مبینہ طور پر) جعلی معاہدہ سامنے آیا تو کشمیر کی عوام بالکل اسی طرح اٹھ کھڑی ہوئی جس طرح اب احتجاج کر رہے ہیں۔ انڈیا نے صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں اور پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان باقاعدہ جنگ چِھڑ گئی۔

اس وقت کے انڈین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اس معاملے کو سلامتی کونسل کے سامنے لے کر گئے۔ کونسل نے سب سے پہلے دونوں ممالک کو سیز فائر کا حکم دیتے ہوئے کشمیر سے فوجیں نکالنے کا کہا۔

اس کے بعد چار سال تک استصوب رائے سے متعلق قراردادوں پر سلامتی کونسل میں بحث جاری رہی کہ کیسے اور کس طرح رائے شماری کرائی جائے۔

تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی مداخلت کے بعد انڈیا نے سری نگر سے فوجیں ہٹا دیں تھیں اور اب بھی کونسل اس قسم کا حکم دے سکتی ہے۔

شمشاد احمد خان کے مطابق انڈیا نے وعدے کے باوجود مکمل طور پر فوجیں نہیں ہٹائیں تھیں جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں بھی فوج کو رکھا۔

’انڈیا بعد میں استصواب رائے کے وعدے سے بھی مکر گیا۔‘

ایجنڈا کون تیار کرتا ہے؟

شمشاد احمد خان کے مطابق سلامتی کونسل کے پانچ رکن ممالک خود ایجنڈا تشکیل دیتے ہیں جسے کونسل کا صدر یو این کے تمام اراکین میں تقسیم کردیتا ہے۔ رکن ممالک اپنی تجاویز دیتے ہیں لیکن ہوتا پھر وہی ہے جو کونسل چاہتی ہے۔

قرارداد پاس کرنے کا طریقۂ کار بہت ہی پیچیدہ ہے۔ پہلے ڈرافٹ کی تیاری کچھ اس طریقے سے عمل میں لائی جاتی ہے کہ وہ سب کو قابل قبول بھی ہو۔

کونسل میں قرارداد پیش ہونے کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ آتا ہے جس میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دس غیر مستقل رکن ممالک بھی حصہ لیتے ہیں۔

غیر مستقل رکن ممالک بھی قرارداد پر اپنی تجاویز دیتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی ہوتا وہی ہے جو کونسل کے مستقل ارکان کی مرضی ہوتی ہے۔

جب یہ ممالک ایک حل پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر ہی کوئی نتیجہ نکلتا ہے لیکن اگر ایک رکن بھی متفق نہ ہو تو قرارداد ویٹو ہوجاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/Hulton Archive
Image caption برِ صغیر کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں سے کسی ملک کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں، یا پھر آزاد رہنا چاہیں تو آزاد رہ سکتے ہیں

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟

پاکستان، کشمیر اور خام خیالی

اقوام متحدہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کیسے کراتی ہے؟

تسنیم اسلم کہتی ہیں کہ سلامتی کونسل نے کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے دونوں ممالک میں اپنے نمائندے بھی بھیج دیے تھے۔ ’یہ نمائندے اپنی رپورٹ کونسل کو بھیجتے رہتے ہیں۔ ہر سال کونسل ان قراردادوں پربغیر بحث کے رنیو کرتی رہتی ہے۔‘

شمشاد احمد خان عملدرآمد کے پہلو پر سلامتی کونسل کو محض ایک ’ڈبیٹنگ کلب‘ ہی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ادارہ اب ایک رسمی کارروائی کے علاوہ کچھ نہیں اور انسانی حقوق پر بھی اب ملکی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔

’جب اقوام متحدہ بنی تھی اسے دنیا میں انسانیت کی بہترین امید کہا جاتا تھا لیکن اب یہ آخری بد ترین سے بھی بد ترین امید کہلائی جا سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے سامنے سینکڑوں قراردادیں پڑی ہیں لیکن نتیجہ صفر ہے۔ ’کشمیر پر بھی قراردادیں یو این آرکائیو کا حصہ ہیں۔‘

تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے بجائے انکار کیا تو بھی اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکے۔

’انڈیا نے 5 اگست کو سلامتی کونسل کے قراردادوں کو رد کر کے کشمیر کا جغرافیہ تبدیل کردیا لیکن ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے باوجود اس کے کہ آج تک کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔‘

پاکستان سلامتی کونسل سے کتنا پُرامید؟

تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
Image caption وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھا رہا ہے

تسنیم اسلم اور شمشاد احمد خان اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے لیے سلامتی کونسل کچھ زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی۔

دونوں سابق سفارتکار پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کا دفاع بھی کرتے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کسی غلط فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے، سلامتی کونسل میں کوئی ہمارے لیے پھول کے ہار لے کرے نہیں کھڑا۔

تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ ادارے اتنے آئئڈیل نہیں ہیں۔

’اس انسانی بحران میں جہاں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں دنیا میں کوئی اس پر آواز نہیں اٹھا رہا ہے۔ انسانی حقوق پر سب سے زیادہ چیمپیئن بننے والی یورپین پارلیمنٹ کشمیر کے مسئلے پر مکمل خاموش ہے۔‘

تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ بالاکوٹ حملے کے بعد فرانس نے انڈیا کی حمایت میں بیان دیا تھا کہ اسے پلوامہ کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے۔ اُدھر امریکہ ہانک کانگ کے مسئلے کو ہوا دینے میں بھی مصروف ہے۔ اب وہ انڈیا کے حق میں واضح پوزیشن لیں گے۔

’فرانس تو خود لیبیا کی تباہی میں آگے آگے تھا تو یہاں کیسے انسانی حقوق کی بات سنی جاسکے گی۔‘

شمشاد احمد خان کے مطابق انڈیا اپنی طاقت اور سائز کے بل بوتے پر مغربی ممالک پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتا ہے۔ ’بڑی طاقتوں کے مفادات دیکھ کر مجھے لگتا نہیں ہے کہ اس معاملے پر پانچ ممالک متفق ہوسکیں گے۔ ’انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اس وقت ایک ’اوپن جیل` میں بدل دیا گیا ہے لیکن کوئی نہیں ہے جو اس بات پر کان دھرے۔‘

اس کے باوجود شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہر فورم پر یہ مسئلہ لے کر جانا چائیے اور کشمیر پر عالمی ضمیر کو جنجھوڑنا چایے۔ ’اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کا ضمیر کس حد تک جاگتا ہے۔‘

اسی بارے میں