شہزادی علشبہ خان کیس: تشدد کے کیس میں ساس زیرِحراست اور شوہر علی جابر موتی مفرور

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ItalyinKarachi
Image caption علشبہ کی ویڈیو سامنے آنے پر کراچی میں اطالوی سفارتخانے کے حکام نے بھی ان سے رابطہ کیا اور معاملے کو فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ 19 سالہ پاکستانی نژاد اطالوی خاتون کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے معاملے میں مذکورہ خاتون کی ساس کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ ان پر مبینہ طور پر تشدد کرنے والے ان کے شوہر علی جابر موتی کی تلاش جاری ہے۔

پاکستان میں دو روز سے شہزادی علشبہ خان نامی ایک خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں ایک شخص کی آواز سنی جاسکتی ہے جو علشبہ پر تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں گالیاں دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ 'زنا کرنے والی عورتوں کا انجام یہی ہوتا ہے۔۔۔'

اس ویڈیو میں علشبہ روتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں اور ان کے جسم پر جگہ جگہ تشدد کے نشانات بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ علشبہ کی ایک اور ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں وہ خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بیان دے رہی ہیں۔

پاکستان میں گھریلو تشدد کے حوالے سے مزید پڑھیے

گھریلو تشدد: ’فون کی سکرین ٹوٹی تو بہت مار پڑی‘

پاکستان میں گھریلو تشدد کی پردہ پوشی کیوں؟

گھریلو تشدد سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

محسن حیدر پر اہلیہ کے گھریلو تشدد کے الزامات، گلوکار کا انکار

اب تک اس ویڈیو کو ایک ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

کراچی پولیس کے مطابق پاکستانی نژاد اطالوی شہری پر تشدد کے واقعے کی ایف آئی آر کراچی کے درخشاں تھانے میں درج ہوچکی ہے اور ایس پی سوہائی عزیز تالپور اس واقعے کی جانچ کر رہی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس پی سوہائی عزیز نے بتایا کہ 'لڑکے کی ماں زیرِ حراست ہے اور لڑکا اس وقت فرار ہے۔ جب تک وہ پکڑا نہیں جاتا تب تک میڈیا پر کوئی بیان دینا مناسب نہیں ہو گا۔'

علشبہ کی ویڈیو سامنے آنے پر ٹوئٹر پر صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’علشبہ کا سُسرال خاصا بااثر ہے۔‘

اس معاملے کی ایف آئی آر کے مطابق تقریباً سات ماہ پہلے علشبہ کی شادی علی جابر موتی سے دونوں خاندانوں کی رضامندی کے بعد ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Karachi Police
Image caption کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم علی جابر موتی مفرور ہیں

خیال رہے کہ علی جابر موتی ’ڈرگ لارڈ‘ جابر موتی کے بیٹے ہیں جو اس وقت انڈیا اور پاکستان دونوں کو مطلوب ہیں اور فی الوقت برطانیہ میں زیرِ حراست ہیں۔

جابر موتی مبینہ طور پر مافیا ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔

ایف آئی آر میں درج علشبہ کے بیان کے مطابق ’علی جابر موتی نے شادی کے فوراً بعد انھیں ذہنی اذیت دینا شروع کر دی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کئی ماہ تک جسمانی و جنسی تشدد کا بھی شکار ہوتی رہیں۔‘

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ اُن پر ’تشدد کرنے میں اُن کے خاوند کے ساتھ اُن کی ساس بھی شامل رہی ہیں۔‘

علشبہ نے پولیس کو بتایا کہ جب انھوں نے اپنے گھر والوں کو خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا تو انھوں نے علشبہ کو اپنے گھر بلالیا اور واپس جانے نہیں دیا۔

ایف آئی آر کے مطابق چاند رات کو علی جابر موتی ان کے گھر آئے اور انھیں واپس لے جانے کی ضد کرنے لگے جس پر علشبہ کے خاندان نے انھیں بھیجنے سے انکار کر دیا۔

اس پر علی جابر موتی نے کہا کہ ’میں انھیں باہر گھمانے لے جانا چاہتا ہوں اور اسی بہانے وہ علشبہ کو واپس اپنے گھر لے گئے اور دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق اس دوران علشبہ نے اپنے فون سے اپنی والدہ کا نمبر ملا کر رکھا تاکہ انھیں ساری آواز جاتی رہے۔ علشبہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ علی جابر موتی نے عید کے روز فون پر انھیں طلاق دے دی تھی۔

علشبہ کی ویڈیو سامنے آنے پر پاکستان میں اٹلی کے سفیر سٹیفانو پونٹیکاروہ نے بھی اس معاملے پر اپنے عملے کو مذکورہ خاتون سے رابطے کی ہدایت کی جس کے بعد ٹوئٹر پر انھوں نے بتایا کہ کراچی میں اٹلی کا سفارتخانہ اپنی شہری اور ان کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’علشبہ اب پہلے سے بہتر ہیں لیکن ان پر تشدد کرنے والوں کی گرفتاری کو بھی ممکن بنایا جائے۔‘

اس معاملے پر نظر رکھنے والے صحافی راجہ مطلوب کے مطابق ’علشبہ کے سسرال کے اثرو رسوخ کی وجہ سے خدشہ ہے کہ پولیس اس معاملے کو آگے نہیں لے جائے گی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہسپتال میں میڈیکولیگل کرنے کے دوران جب ڈاکٹروں کو اس بات کا علم ہوا کہ علشبہ جابر موتی کی بہُو ہیں تو وہ کیس کو لٹکانے لگ گئے۔‘

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 'بیان ریکارڈ کرنے پولیس فوراً ہسپتال پہنچی لیکن وہ اس معاملے کی تفتیش کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے جبکہ اب صلح صفائی کے لیے بھی مختلف حلقوں سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘

تاہم ایس پی سوہائی عزیز نے ان خدشات کو مسترد کر دیا اور ان کا کہنا ہے کہ معاملے کو دبانے کی کوشش نہیں کی جا رہی اور پولیس تمام تر قانونی تقاضے پورے کر رہی ہے۔

اسی بارے میں