کشمیر میں لائن آف کنٹرول: ’پاکستان کے چار، انڈیا کے پانچ فوجی ہلاک‘

فوجی تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کے نام بھی بتائے ہیں

پاکستانی فوج کے مطابق جمعرات کے روز کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے ترجمان جنرل آصف غفور نے جمعے کے روز ایک ٹویٹ میں بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر بٹل سیکٹر پر فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی محمد شیراز بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

جمعرات کے روز ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ کشمیر میں صورتِ حال سے توجہ ہٹانے کے لیے انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ میں اضافہ کر دیا ہے جس سے تین پاکستان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ساتھ ہی انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں پانچ انڈین فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔

ادھر انڈین میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں میں انڈین فوج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ’پونچھ سیکٹر میں پاکستانی فوج نے فائر بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کے تنازع پر لندن میں مودی حکومت کے خلاف مظاہرہ

سلامتی کونسل کا اجلاس اور فیصلے کیسے ہوتے ہیں؟

عمران خان: ’ہم مودی کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے‘

نریندر مودی: ’ہم مسئلے ٹالتے ہیں، نہ پالتے ہیں‘

جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نائیک تنویر، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شامل ہیں۔

ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ ارشد جرال کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے بٹل سیکٹر دو افراد ہلاک جبکہ ایک شخس زخمی ہوا ہے۔ ان کے مطابق وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے.

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تازہ ترین واقعہ کے بعد اسلام آباد میں انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ڈاکٹر محمد فیصل نے ڈپٹی ہائی کمشنر مسٹر گوروو آلہووالیا کو طلب کر کے انڈیا کی جانب سے لیپہ اور بٹل سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا، جس میں پاکستان کے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔

بیان کے مطابق انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر سے یہ بھی کہا گیا کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کو لائن آف کنٹرول تک رسائی فراہم کرے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔

اسی بارے میں