کوئٹہ کی مسجد میں دھماکہ، کم از کم 4 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Allah Baksh

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں بم دھماکے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے۔

دھماکہ کچلاک ٹاﺅن میں کلی قاسم میں واقع مسجد میں ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں قاری احمد اللہ بھی شامل ہے جو کہ مسجد میں دھماکہ کے وقت خطبہ دے رہے تھے۔

دھماکے زخمی ہونے والے ایک شخص حکمت اللہ نے سول ہسپتال کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ خطبے کے دوران آگے کی صفوں میں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ساتھ شعلہ بلند ہوا جس کے بعد دھویں اور گردوغبار کے باعث مسجد کے اندر اندھیرا چھا گیا۔

بعض دیگر عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ مسجد کے ممبر کے قریب ہوا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس دھماکے کے لیے دو سے تین کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک جو شواہد ملے ہیں ان کے مطابق یہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا اور دھماکہ خیز مواد مسجد کے محراب کے قریب رکھا گیا تھا ۔

مجسد میں سیکورٹی کا انتظام

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ کے مطابق مسجد کی سیکورٹی کی ذمہ داری پولیس اور مسجد کی انتظامیہ مل کر سرانجام دیتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے ایک اے ایس آئی اور دو اہلکار تعینات ہوتے تھے جبکہ مدرسے رضاکار بھی کافی تربیت یافتہ ہیں۔

ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ مدرسے کے مہتمم محمد عالم محمد حسنی ہیں جو اس وقت پاکستان میں موجود نہیں بلکہ سعودی عرب فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد یہ پتہ چل سکے گا کہ اس دھماکے کے ذریعے کسی کو ہدف بنایا گیا یا نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کو لینے کے لیے جو بھی لوگ آئے وہ سارے مقامی لوگ تھے اور ابھی تک جو شناخت سامنے آیا ہے اس کے مطابق یہ سارے مقامی افراد تھے ۔

کچلاک کہاں واقع ہے ؟

کچلاک کوئٹہ شہر سے 25کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے ۔

یہاں سے دو اہم شاہراہیں نکلتی ہیں جن میں سے ایک شمال کی جانب پشین اور افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کی جانب جاتی ہے جبکہ دوسری شاہراہ شمال مشرق میں ژوب اور خیبر پشتونخواہ کے علاقے جنوبی وزیرستان کی جانب نکلتی ہے ۔

اس علاقے کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے تاہم ان میں اکثریت کاکڑ قبائل کی ہے ۔

گزشتہ دو دہائی سے افغان مہاجرین کی بھی ایک بڑی آبادی کچلاک میں مقیم ہے ۔

جمعہ کومسجد میں بم دھماکہ کچلاک کے ایک مرتبہ پھر منظر عام پر آنے کا باعث بنا تاہم اس سے قبل بھی اس علاقے کا تذکرہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں آتا رہا ہے ۔

کچلاک کا بین الاقوامی میڈیا میں ذکر کیوں آتا رہا؟

چند سال قبل امریکی سمیت نیٹو ممالک کے حکام کی جانب سے جب افغان طالبان کی قیادت کی پاکستان میں موجودگی کا الزاما عائد کیا جاتا رہا تو اس حوالے سے کوئٹہ شوریٰ کا ذکر بھی بہت آتا رہا ۔

نیٹوممالک کے حکام کی جانب سے یہ الزامات سامنے آتے رہے کہ کوئٹہ شوریٰ سے منسلک لوگ کوئٹہ بالخصوص کچلاک میں ہیں ۔

تاہم پاکستان حکام ایسے تمام الزامات کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں ۔

متعلقہ عنوانات