جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس: پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کر دی

قاضی فائز عیسیٰ تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN
Image caption آئینی پٹیشن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ سماعت صدارتی ریفرنس کو 'بدنیتی' پر مبنی قرار دیا گیا ہے

پاکستان میں وکلاء کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد علی شاہ کے توسط سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اس آئینی پٹیشن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ سماعت صدارتی ریفرنس کو ’بدنیتی‘ پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان بار کونسل اہمیت کی حامل تنظیم ہے اور جب ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جج تعینات کیے جاتے ہیں ان کی تعیناتی کے لیے بننے والے جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کونسل کا بھی ایک نمائندہ شریک ہوتا ہے جس کی سفارشات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صدر کو خط: جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس خارج

فائز عیسیٰ: ’میرے خلاف مخصوص مواد پھیلایا جا رہا ہے‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون اور ان کے فیصلوں پر تنازعے کیا؟

اس پٹیشن میں صدرِ مملکت کے علاوہ وفاقی حکومت، وزیرِ اعظم اور وزیرِ قانون کے علاوہ وزیرِ اعظم کے مشیر برائے احتساب کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

بدھ کے روز دائر ہونے والی اس پٹیشن میں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ ٹیکس گوشواروں میں اثاثوں کی تفصیلات نہ بتانے سے متعلق فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کیسے کر سکتی ہے۔

اس آئینی پٹیشن میں یہ کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنہ 2017 میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے مقام پر ایک سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے دیے گئے دھرنے سے متعلق جو فیصلہ دیا تھا اس سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کافی ناراض تھی۔

اس فیصلے کے خلاف حکمراں جماعت کی طرف سے جو پہلی نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی گئی اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ذات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس آئینی پٹیشن میں فیض آباد دھرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چند پیراگراف بھی شامل کیے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی سیاسی معاملات میں ملوث ہیں اور اس تاثر کو اس بات سے بھی تقویت ملی جب وردی میں ملبوس ایک فوجی افسر مظاہرین میں پیسے تقسیم کر رہے تھے۔

اس آئینی پٹیشن میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ فوجی اور سویلین خفیہ اداروں کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ میڈیا کے معلامات اور اظہار رائے میں مداخلت کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک رکن جج کے خلاف شکایات عرصہ دراز سے کونسل میں پڑی ہوئی ہیں لیکن اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی

اس آئینی پٹیشن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت میں غیر معمولی تیزی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ متعدد ججز کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل کو موصول ہوئی تھیں لیکن ان کی ریٹائرمنٹ تک ان شکایات پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

پٹیشن میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک رکن جج کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن ان سے متعلق یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایات عرصہ دراز سے پڑی ہوئی ہیں لیکن اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اس پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن ججوں کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے سے ہی موجود ہیں ان کو اخلاقی طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود بھی ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ہونے والی کاروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں