قندیل بلوچ کے والدین کی بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست مسترد

قندیل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کی ماڈل عدالت نے ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں مقتولہ کے دو بھائیوں کو معاف کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

یہ درخواست مقتولہ کے والد اور اس مقدمے کے مدعی محمد عظیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں صلح یا مدعی مقدمہ کی طرف سے معاف کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کی ماڈل عدالت نے ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں مقتولہ کے دو بھائیوں کو معاف کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

یہ درخواست مقتولہ کے والد اور اس مقدمے کے مدعی محمد عظیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

قندیل بلوچ کے والدین کے ساتھ بی بی سی اردو کی خصوصی گفتگو

’قندیل بلوچ جو کرتی تھی دل سے کرتی تھی‘

’میں اب ہاتھ سے نکل چکی ہوں!‘

خوابوں کی تلاش میں موت سے جا ملی

عدالت کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں صلح یا مدعی مقدمہ کی طرف سے معاف کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج عمران شفیع نے مقتولہ کے والد اور اس مقدمے کے مدعی محمد عظیم سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے عدالت میں جو بیان حلفی جمع کروایا ہے جس میں اُنھوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کردیا ہے، اس کے اس مقدمے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

جواب میں محمد عظیم نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں قانون کا تو زیادہ علم نہیں ہے لیکن وہ اپنے بیٹوں محمد وسیم اور شاہین اسلم کو معاف کرتے ہیں۔

عدالت نے مدعی مقدمہ سے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر افراد کو بھی معاف کردیا ہے جس پر قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم نے برملا کہا کہ نہیں جج صاحب میں نے صرف اپنے بیٹوں کو معاف کیا ہے، باقی ملزمان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ عدالت خود کرے گی۔

واضح رہے کہ جب قندیل بلوچ کو تین سال قبل قتل کیا گیا تھا تو اس وقت مقتولہ کے والد اور مقدمے کے مدعی محمد عظیم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ قطعی طور پر ملزمان کو معاف نہیں کریں گے۔

قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں مفتی عبدالقوی ، وسیم ،اور ضمانت پر عبدالباسط، ظفر اقبال، اسلم شاہین اور حق نواز نامزد ملزمان ہیں اور ان ملزمان پر فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔

محمد وسیم اور اسلم شاہین مقتولہ کے سگے بھائی ہیں جبکہ حق نواز ملزمان کا قریبی رشتہ دار ہے۔ محمد وسیم اور حق نواز اس مقدمے کے مرکزی ملزمان میں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قندیل بلوچ کے والدین جن کی جانب سے اپنے بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی تھی

اس مقدمے میں ایک اور ملزم محمد عارف اشتہاری بھی ہے جس کے بارے میں مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بھی مقتولہ کا بھائی ہے۔

قندیل بلوچ کے مقدمے کو ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے ماڈل کورٹ میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ اس مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد کیا جاسکے۔

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملک بھر میں ماڈل کورٹس قائم کی ہیں تاکہ قتل کے مقدمات جو کہ عرصہ دارز سے زیر التوا ہیں ان کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے اُنھیں منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ قتل کے مقدمے میں التوا صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے کہ جج فوت ہو جائے اور یا پھر اس مقدمے کی پیروی کرنے والا وکیل۔

قندیل بلوچ کے مقدمے کے ملزمان کے وکلا نے بھی مدعی مقدمہ کے بیان حلفی کی تائید کی اور کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کیے جانے والے مقدمات پر قانون میں ترمیم قندیل بلوچ کے قتل کے بعد کی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ 16 جولائی 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر 2016 میں ہوئی تھی اس لیے نئی قانون سازی کا اطلاق اس مقدمے پر نہیں ہوتا۔

اس سے قبل سرکاری وکیل نے متعلقہ عدالت میں تحریری دلائل جمع کروائے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ311 میں ترمیم کے بعد اب مدعی مقدمہ چاہے بھی تو ملزمان کو معاف نہیں کرسکتا۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ ایسے موقع پر جب یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے قریب ہے، ایسی درخواست کا آنا بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔

اُنھوں نے عدالت سے استدعا کہ صرف دو ملزمان کو معاف کرنے کی درخواست کو خارج کیا جائے۔ عدالت نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں مزید گواہان کو 24 اگست کو طلب کرلیا ہے۔

والدین کی جانب سے بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست دائر

پاکستان کے شہر ملتان میں سوشل میڈیا سیلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کے الزام میں گرفتار ان کے دو سگے بھائیوں کو ان کے والدین نے ایک مرتبہ پھر معاف کرنے کے لیے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا ہے۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ مدعی کے طور پر انھوں نے قندیل بلوچ کے قتل میں نامزد ان کے دونوں بھائیوں وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی استدعا کی گئی ہے کہ عدالت قندیل کے والدین اور دونوں ملزمان بھائیوں کے درمیان راضی نامے کی اجازت دے۔

تاہم ریاست کی جانب سے مقدمے کی پیروی کرنے والے استغاثہ نے ملتان کی ماڈل عدالت میں جمع کرائے جانے والے اپنے بیان میں ایسی اجازت دینے کی مخالفت کی ہے۔

قندیل کے والدین کا موقف کیا ہے؟

استغاثہ کی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ قندیل بلوچ کے والدین کی جانب سے جمع کروائے جانے والے حلف نامے میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 'قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ 16 جولائی سنہ 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر سنہ 2016 میں آئی۔'

’لہذا غیرت کے نام پر قتل کے ترمیمی قانون دفعہ 311 کا اطلاق قندیل کے قتل کے مقدمے پر نہیں ہوتا اس لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 345 زیلی دفعہ 2 کے مطابق ان کے دونوں بھائیوں کو والدین کی طرف سے معاف کیے جانے کے بعد رہا کر دیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

استغاثہ کا موقف

استغاثہ کے رکن کے مطابق انھوں نے عدالت میں اپنے جواب میں جو موقف اپنایا ہے اس میں کہا گیا ہے غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانونِ فوجداری میں ترامیمی ایکٹ سنہ 2005 میں منظور ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترامیمی ایکٹ کے مطابق 'غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ نہیں ہو سکتا خصوصاً اس وقت جب مدعی اور ملزمان مرنے والے کے قانونی وارث ہوں۔'

تاہم اس قانون میں یہ جج کی صوابدید پر ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ قتل کا واقعہ غیرت کے نام پر قتل کے زمرے میں آتا ہے۔

استغاثہ نے عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے اختلافی بیان میں مزید کہا ہے کہ ’موقع کے شواہد اور 19 گواہان کے بیانات کے علاوہ دونوں ملزمان کے اعترافی بیانات موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انھوں نے قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔‘

استغاثہ نے عدالت میں یہ بھی موقف اختیار کیا کہ قندیل بلوچ کے والدین جو قانونی وارث ہونے کے ناتے ان کے قتل کے مقدمے کے مدعی ہیں اس سے قبل بھی ایک مرتبہ ملزمان سے صلح کرنے کی غرض سے حلف نامہ جمع کروا چکے ہیں۔

اس کے بعد ان پر ملزمان کے خلاف اپنے بیان حلفی سے مکرنے اور منحرف ہونے پر مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیے

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا پہلا حصہ

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا دوسرا حصہ

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا آخری حصہ

Image caption قندیل بلوچ نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ملاقات کے دوران کئی سیلفیاں کھینچی تھیں جو وائرل ہوگئی تھیں

غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم

یاد رہے کہ سنہ 2016 میں پاکستان کی پارلیمان نے قندیل بلوچ کے قتل ہی کے ردِ عمل میں شروع ہونے والی مہم کے بعد غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم منظور کی تھی جس کے مطابق مرنے والے کے لواحقین کی جانب سے معاف کیے جانے کے باوجود قتل کرنے والے کو عمر قید یا 25 برس قید کی سزا ہوگی۔

اس سے قبل پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر مقدمات میں یہ دیکھنے میں آیا تھا کہ مدعی قتل کرنے والے کے ماں باپ یا بہن بھائی ہوتے تھے جو انھیں معاف کر دیتے تھے جس کے بعد ان پر مقدمہ ختم ہو جاتا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد اسے سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث لایا گیا اور یہ واقعہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی آیا اور پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافے کی وجہ اس ضمن میں مناسب قانون سازی نہ ہونے کو قرار دیا گیا۔

قندیل بلوچ کا قتل

15 جولائی 2016 کو قندیل بلوچ کو سوتے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ انھیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔

قندیل کے بھائی وسیم نے شروع میں گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ یہ جرم انھوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ’قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھیں‘ لیکن بعد میں جب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تو انھوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزمان

قندیل بلوچ کے قتل کے کیس میں ان کے بھائی محمد وسیم مرکزی ملزم ہیں جبکہ بعدازاں مدعی مقدمہ نے اس قتل کے مقدمے میں اپنے ایک اور بیٹے اسلم شاہین کا نام بھی درج کروایا تھا جو مقامی پولیس کے مطابق فوج میں ملازم ہے۔

قندیل بلوچ کے مقدمے میں مذہبی سکالر اور پاکستان تحریک انصاف کے علما ونگ کے سابق رکن مفتی قوی سمیت محمد وسیم، عبدالباسط، ظفر اقبال، اسلم شاہین اور حق نواز کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم مفتی قوی اور محمد وسیم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ باقی ماندہ ملزمان اس وقت جیل میں ہیں۔

اسی بارے میں