پاکستان انڈیا کشیدگی: ’ساری تیاری مکمل تھی پھر علم ہوا ٹرین جا ہی نہیں رہی`

سمجھوتا ایکسپریس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرین سروس پاکستان اور انڈیا کے درمیان شہریوں کے رابطے کا بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے اور دونوں ممالک کے شہری اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی غمی، خوشی کے موقعوں پر پہنچنے کے لیے اسی کا سہارا لیتے ہیں

انڈیا کی جانب سے پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں آنے والی تلخی کا اثر دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والوں پر بھی پڑا ہے۔

انڈیا کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی ٹرینوں سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسرپیس کو معطل کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انڈین شہری پاکستان میں پھنس کر رہ گئے ہیں جبکہ انڈیا جانے والے پاکستانی بھی کئی گنا زیادہ اخرجات کر کے متبادل ذریعوں سے واپسی پر مجبور ہیں۔

ٹرین سروس پاکستان اور انڈیا کے درمیان شہریوں کے رابطے کا بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے اور دونوں ممالک کے شہری اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے میل ملاقات، غمی، خوشی کے موقعوں پر پہنچنے کے لیے اسی کا سہارا لیتے ہیں۔

ٹرین سروس کی اچانک بندش سے سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے ہیں جن کے ویزوں کی معیاد ختم ہونے کو تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پانچ ہزار سکھ یاتری روزانہ کرتارپور آ سکیں گے

’نزلہ سفارت خانوں پر گرتا ہے‘

سمجھوتہ ایکسپریس بحال، لائن آف کنٹرول پرکشیدگی

سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں پاکستانی ویزے کی مدت میں توسیع کے لیے موجود انڈین شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چار سو کے قریب افراد نے اس سلسلے میں درخواستیں جمع کروائی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرین سروس کی اچانک بندش سے سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے ہیں جن کے ویزوں کی معیاد ختم ہونے کو تھی

ایسے ہی ایک انڈین شہری محمد افضل کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے آٹھ افراد جن میں ان کے پانچ بچے، والدہ اور بیگم شامل ہیں ایک ماہ پہلے اپنی دو بہنوں اور رشتہ داروں سے ملاقات اور شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے اور انھیں نو اگست کو واپس جانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس روز جب ہم لوگوں نے اپنی ساری تیاریاں مکمل کر لیں تھیں تو اطلاع ملی کہ ٹرین تو جا ہی نہیں رہی ہے۔‘

محمد افضل کے مطابق اگر ٹرین سروس کو معطل ہی کرنا تھا تو شہریوں کو واپس اپنے ممالک میں پہچنے کا کچھ وقت فراہم کر دیتے۔ کوئی نوٹس جاری کر دیتے کہ فلاں تاریخ سے ٹرین سروس کو معطل کیا جا رہا ہے تاکہ شہری پہلے ہی سفر کر لیتے مگر یکدم اور اچانک اس کو معطل کرنے سے ہمارے لیے بہت مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔‘

دوسری جانب جمعہ کو انڈیا سے واہگہ کے راستے پاکستان پہچنے والے پاکستانی شہری حسین علی نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ نو اگست کو دلی سے ٹرین پر بیٹھے تھے جو اٹاری ریلوے اسٹیشن پر معمول کے مطابق کھڑی ہوئی مگر ’پاکستان کی جانب سے انجن نہیں بھجوائے گے اور کئی گھنٹوں کے بعد ہمیں واپس دلی ریلوے سٹیشن پہنچا دیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ٹرین میں تقریباً دو سو کے قریب مسافر موجود تھے۔ یہ بچوں کے ساتھ کی وجہ سے انتہائی پریشان کن صورتحال تھی مگر پھر دہلی میں ہمارے رشتہ دار دوبارہ ہمیں لینے پہنچ گئے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کی جانب سے تو واپسی کے منتظر پاکستانیوں کو روٹ میں تبدیلی کی آپشن دی جا رہی ہے تاہم پاکستان میں پھنس جانے والے انڈین شہریوں کے مطابق اس سلسلے میں ان کی مدد نہیں کی جا رہی

حسین علی نے بتایا کہ ’اس کے بعد ہم لوگ ویزے میں توسیع کے لیے گئے تو وہاں ہمیں بتایا گیا کہ ااگر ہم ویزے میں توسیع نہیں کروانا چاہتے تو ہمارا روٹ تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ہم اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہم نے اس پیشکش سے فائدہ اٹھایا اور اضافی رقم خرچ کر کے واپس پاکستان پہنچے ہیں۔‘

کراچی پہنچنے والے پاکستانی شہری شمشاد گل کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ انھوں نے بھی بتایا کہ ٹرین سروس کی معطلی کے بعد انھوں نے انڈین حکام سے ویزے میں توسیع کی جگہ روٹ تبدیل کرنے کی گزارش کی جو قبول کر لی گئی جس کے بعد وہ واہگہ کے راستے لاہور اور وہاں سے کراچی پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

انڈیا کی جانب سے تو واپسی کے منتظر پاکستانیوں کو روٹ میں تبدیلی کی آپشن دی جا رہی ہے تاہم پاکستان میں پھنس جانے والے انڈین شہریوں کے مطابق اس سلسلے میں ان کی مدد نہیں کی جا رہی۔

محمد افضل کے مطابق جب انھوں نے سندھ سیکریٹریٹ میں پاکستانی ویزے میں توسیع کی درخواست دی تو حکام سے یہ بھی کہا کہ انھیں لاہور واہگہ بارڈر کے راستے سفر کرنے کی اجازت دے دی جائے مگر’ہمیں بتایا گیا کہ یہ سہولت سندھ سیکرٹریٹ فراہم نہں کر سکتا۔ اس کے لیے اسلام آباد میں وفاقی وزارت داخلہ میں درخواست پہنچانا پڑے گئی اور اس سارے عمل میں کم از کم دس سے پندرہ دن لگ سکتے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی سے قبل آخری مرتبہ جب انڈیا سے کراچی آنے والی ٹرین والی میں تقریباً 700 مسافر تھے جبکہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے دونوں اطراف میں تقریباً نو سو مسافروں نے سفر کیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ اس تاخیر کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم کا بھی حرج ہو رہا ہے۔ ’میری بڑی بیٹی بچی 12ویں اور چھوٹی دسویں جماعت کی طالبہ ہے اور ان کے فرسٹ ٹرم امتحان شروع ہیں۔ اس کے علاوہ میرے کاروبار کا حرج ہو رہا ہے۔ ہوائی جہاز سے سفر کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اور ٹرین سروس شروع ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے‘۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ انڈین شہری بس واپس انڈیا جانا چاہتے ہیں اور ’اگر پاکستانی حکام ہمارے معاملے پر ہمدردانہ غور کریں اور کراچی ہی میں روٹ تبدیلی کا عمل مکمل کر دیں تو اس سے انڈین مسافروں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں‘۔

بی بی سی نے اس معاملے میں وزارت خارجہ سے رابطہ کر کے صورتحال پر موقف لینے کی بارہا کوشش کی مگر کوئی جواب نہیں ملا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کتنے لوگ سفر کرتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان ریلوے کے حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہر ہفتے تین ٹرینیں چلتی ہیں جن میں کراچی سے تھر ایکسپریس ہفتے میں ایک مرتبہ، کراچی سے موناباؤ جبکہ لاہور سے سمجھوتہ ایکسپریس ہفتے میں دو مرتبہ چلتی ہے۔

حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی سے قبل آخری مرتبہ جب انڈیا سے کراچی آنے والی ٹرین والی میں تقریباً 700 مسافر تھے جبکہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے دونوں اطراف میں تقریباً نو سو مسافروں نے سفر کیا تھا۔

پاکستان ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی فیصلے کے باعث ٹرین سروس شروع کرنے سے قاصر ہیں تاہم ایسے مسافر جنھوں نے ٹکٹ خریدے ہوئے ہیں انھیں رقم کی واپسی کی سہولت دی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں