روشنیوں کا شہر کراچی آج کل مکھیوں کے شہر میں کیوں تبدیل ہوچکا ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
روشنیوں کا شہر کراچی آج کل مکھیوں کے شہر میں کیوں تبدیل ہوچکا ہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مون سون کی حالیہ بارشوں اور عیدالاضحیٰ کے بعد مکھیوں کی آبادی میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے اور گلی محلوں، گھروں، دفاتر اور ریسٹورنٹس، غرض یہ کہ انسانوں کے زیرِ استعمال ہر جگہ پر مکھیوں کا راج ہے۔

ویسے تو ہم سبھی اپنے اردگرد مکھیاں دیکھنے کے عادی ہیں مگر اس مرتبہ یہ مسئلہ اتنا سنگین ہوچکا ہے کہ اس پر شہریوں کی طرف سے جہاں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے تو وہیں دلچسپ میمز بھی بنائے جا رہے ہیں جن میں لوگوں نے شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال اور حکومت کی بدانتظامی پر طنزیہ فقرے کسے۔

ایک صارف گوہر حسن نے تحریر کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ مکھیاں کراچی میں چھٹیاں گذارنے آئی ہیں۔

نامور آر جے عدیل اظہر نے لکھا کہ اُنھیں نہیں معلوم تھا کہ کراچی میں مکھیوں کی عالمی کانفرنس ہو رہی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے پھبتی کسی کے روشنیوں کا شہر اِن دنوں مکھیوں کے شہر میں بدل چکا ہے۔

’صفائی کا نظام ویسا نہیں جیسا ہونا چاہیے‘

ایک اندازے کے مطابق کراچی کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ شہر سے روزانہ 15 ہزار ٹن کچرا نکلتا ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر روز صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی میں صفائی کا سنگین مسئلہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ شہر میں پیدا ہونے والے کچرے کو تلف کرنے کا کوئی مربوط مرکزی نظام موجود نہیں ہے۔ شہر بھر سے نکلنے والے فضلے میں سے کچھ سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ جبکہ بقیہ ڈی ایم سیز، کنٹونمنٹ بورڈز اور دیگر شہری ادارے ٹھکانے لگاتے ہیں۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر اے ڈی سنجنانی کا کہنا ہے کہ کراچی کا موسم مکھیوں کی نشونما کے لیے انتہائی سازگار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مصطفیٰ کمال نے تو انیل کپور کی طرح چیلنج قبول کر لیا‘

کراچی کا ’قیمتی‘ کچرا

’صاف پانی آتا تو بچوں کو سکول بھیجتی‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ مکھیوں کے انڈے کچرے کے ڈھیروں اور زمین کے اندر موجود ہوتے ہیں اور جب اُنھیں مناسب نمی اور درجہ حرارت ملتا ہے تو وہ افزائش کے بعد باہر آ جاتے ہیں۔

مگر ڈاکٹر سنجنانی اعتراف کرتے ہیں کہ شہر میں مکھیوں کی بہتات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کراچی میں صفائی کا نظام ویسا نہیں ہے جیسا ہونا چاہیے۔

ان کا ماننا ہے کہ تمام شہری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ جو کچرا اُن کے دائرہِ اختیار میں پیدا ہو رہا ہے اُس کو جتنا جلد ہو سکے جمع کریں اور لینڈ فِل سائٹس تک پہنچا دیں۔

بیماریوں سے کیسے بچا جائے؟

معروف معالج ڈاکٹر شیر شاہ سید بتاتے ہیں کہ جگہ جگہ بکھرے کچرے اور گٹر کے پانی میں مکھیوں کی افزائش ہوتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ 'جب مکھیاں کچرے پر بیٹھتی ہیں تو وہ جراثیم اپنے پروں میں جمع کر لیتی ہیں۔ پھر وہ اِن جراثیم کو دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں۔ مثلاً جب وہ کھانے پر بیٹھتی ہیں تو جراثیم کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔'

ڈاکٹر سید کے مطابق مکھیاں انسانوں خاص طور پر بچوں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ’آج کل ڈائریا اور پیچش بہت عام ہیں۔ اِس کے علاوہ ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس ای اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریاں بھی مکھیوں کے ذریعے پھیلنے والے وائرس سے ہوتی ہیں۔‘

ڈاکٹر سید بتاتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر باسی اور ٹھنڈا کھانا ہرگز نہ کھایا جائے بلکہ تازہ تیار کیا گیا گرم کھانا کھایا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اگر سبزیاں اور پھل استعمال کیے جائیں تو اُنھیں اچھی طرح دھویا جائے اور پھر صاف ہاتھوں سے کاٹ کر اُسی وقت ختم کر لیا جائے تاکہ مکھیوں کو ان پر بیٹھنے کا موقع نہ ملے۔'

Image caption ایک اندازے کے مطابق شہر سے روزانہ 15 ہزار ٹن کچرا نکلتا ہے تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر روز صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جا رہا ہے

بچوں کے حوالے سے وہ بنیادی احتیاط یہ بتاتے ہیں کہ اُنھیں پانی اُبال کر دیا جائے اور اگر اُنھیں دست ہو جائیں تو فوراً نمکیات دیے جائیں اور ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے۔

ڈاکٹر سید کے مطابق مکھیوں پر قابو پانے کے لیے کچرے سے نجات ضروری ہے اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہر شخص اپنے فضلے کی ذمہ داری خود لے۔

’لوگوں کو چاہیے کہ وہ کچرے کو کھُلا نہ چھوڑیں بلکہ اُسے کسی تھیلے یا کوڑے دان میں ڈال کر بند کر دیں تاکہ مکھیاں اُن سے جراثیم نہ اکھٹے کر سکیں۔ اِس کے علاوہ اپنے اردگرد بھی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے اور گھر کے چاروں اطراف چُونا چِھڑکنا چاہیے۔ گھر کے اندر بھی مکھیوں سے بچنے کے لیے جالیاں لگوانی چاہئیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں