سی ویو: کراچی میں کلفٹن کا ساحل سرنجوں اور طبی فضلے کی آماجگاہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کراچی کے ساحل سمندر پر بکھرا طبی فضلہ

یہ پاکستان کے سب سے پیارے ساحلوں میں سے ایک پر صبح کی ایک پرسکون چہل قدمی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن یہ ساحل سمندر پر پھیلے ہوئے کچرے جن میں استعمال شدہ سرنجیں، خون کی شیشیاں اور دیگر طبی فضلے سے کسی کو شدید نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے وقت کے ساتھ مقابلے کی ایک دوڑ بن گئی تھی۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ مجھے ساحل پر جانے والے لوگوں کو بچانا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت چونکا دینے والی بات تھی۔'

واضح رہے کہ شنیرا اکرم نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر چند تصاویر شیئر کیں جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کلفٹن کے ساحل پر بڑی تعداد میں استعمال شدہ سرنجیں اور اسپتال کا فضلہ بکھرا ہوا تھا۔

جس کے بعد انھوں نے کراچی کے ساحل سمندر کلفٹن کو عوام کے لیے خطرناک اور غیر محفوظ قرار دہتے ہوئے اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’مصطفیٰ کمال نے تو انیل کپور کی طرح چیلنج قبول کر لیا‘

کراچی کا ’قیمتی‘ کچرا

’کراچی جہاں بارش اور آتش بازی ایک ساتھ ممکن ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@IAMSHANIERA
Image caption شنیرا اکرم کی جانب سے ٹویٹر پر شیئر کی گئی کلفٹن ساحل کی تصاویر

جنوبی شہر کراچی میں کلفٹن سی ویو بیچ، مقامی افراد کا پسندیدہ ہے۔ لیکن حالیہ شدید بارشوں کے باعث اس کا چار سے پانچ کلومیٹر کا رقبہ جہاں عمومی طور پر ریت ہوتی ہے خطرناک طبی فضلے اور کچرے سے ڈھک گیا تھا۔

منگل کی صبح انھوں نے ساحل سمندر کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا' میں گذشتہ چار برس سے روزانہ ساحل سمندر پر چہل قدمی کے لیے جا رہی ہوں لیکن میں آج سے پہلے اتنی خوفزدہ کبھی نہیں ہوئی۔'

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ 'دس منٹ کی چہل قدمی کے دوران انھیں ساحل سمندر پر چار درجن سے زائد سرنجیں ملی ہیں جبکہ سرنجوں کی موجودگی حفظان صحت کے مطابق نہیں۔ لہذا کلفٹن ساحل اس وقت انتہائی خطرناک اور غیر محفوظ ہے اور اسے فوری عوام کے لیے بند کر دینا چاہیے۔'

آسٹریلوی نژاد شنیرا اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کسی اسپتال کو ہمارے ساحل سمندر پر دھویا گیا ہو۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میرے یہاں گزرے وقت میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں نے ایسا کچھ سنا ہو۔'

درحقیقت، تمام تر باتوں کے باوجود ساحل سمندر پر طبی فضلے کا بکھرا ہونا انتہائی غیر معمولی ہے۔ لیکن کراچی جو تقریباً 14 ملین سے زیادہ آبادی والا شہر ہے ، کچھ عرصے سے شہر سے کچرا صاف کرنے اور مناسب طریقے سے اسے ٹھکانے لگانے میں مشکلات کا شکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم

پاکستان کے مقامی اخبار ڈان کے مطابق کراچی کے شہریوں کی جانب سے ہر روز پھینکے جانے والا 13000 ٹن کچرے کا تقریبًا ایک تہائی حصہ شہر کےگندے نالوں اور ڈرینج نظام میں جاتا ہے۔

اسی طرح الجزیرہ نیوز چینل کی جانب سے دکھائی گئی ایک رپورٹ میں شہر کے قریب کچرے کے ڈھیروں کی طرف اشارہ کیا گیا جہاں فضلہ 'کئی منزلہ اونچا' لگا ہوا تھا، جبکہ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح شہر کے کھلے سیوریج نالوں کو جو کچرے سے اٹے پڑے ہیں بحیرہ عرب میں بہایا جارہا ہے ۔ یہ وہی سمندر ہے جہاں کلفٹن بیچ موجود ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے سمندری امور ، جمیل احمد خان نے الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ میں یہ تسلیم کیا کہ صوبائی حکومت گذشتہ ایک دہائی میں اس معاملے سے نمٹنے میں 'ناکام' رہی ہے۔

لیکن محکمہ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے تکنیکی مشیر کے طور پر کام کرنے والے محمد معظم خان کے لیے یہ طبی فضلہ خاص طور پریشان کن ہے۔ محمد خان کا کہنا تھا 'ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ 'بیس برس قبل جب ماحولیات کے بارے میں شعور اور آگاہی زیادہ نہیں تھا تب ہسپتال کا فضلہ عام کچرے دانوں سے ملنا غیر معمولی نہیں تھا۔لیکن پھر اس ضمن میں بڑھتے ہوئے کنٹرول تھے اور اسپتال کےفضلے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام اور منظم ہوگیا۔'

کلفٹن کے ساحل پر یہ طبی فضلہ کیسے پھیلا اس کی اصل وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو اس فضلے کے ساحل پر آنے کا علم نہیں ہے۔ لیکن محمد خان کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ فضلہ کیسے ساحل پر آیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایسا لگتا ہے کہ ساحل سمندر پر پائے جانے والا طبی فضلہ بنیادی طور پر ایسے ڈمپ سے باہر آیا ہے جو گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کراچی میں ہونے والی غیر معمولی تیز بارش کی وجہ سے سمندر میں بہہ گیا تھا۔'

وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم کے ٹویٹر پر مدد کی کال کے چند ہی گھنٹوں میں شہر کے متعلقہ عملہ نے متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے کر صفائی کا کام شروع کر دیا۔

مگر وہ امید کرتی ہیں کہ چونکا دینے والی تصاویر اور ان کی جانب سے اور ان کے ساتھ کراچی کے رہائشیوں کی جانب سے دیا گیا حیران کن ردعمل حکام کو کام کرنے پر آمادہ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ’ یہاں کے لوگ بہت برسوں سے مشکل حالات میں ہیں کچرے کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگانے جیسے اقدام جنھیں مغرب میں لوگ عام سمجھتے ہیں وہ یہاں کی عوام کو میسر نہیں ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم بھی وہاں پہنچ رہے ہیں، لیکن ایک وقت میں ایک مسئلہ، مجھے خوشی ہے کہ میں نے جو کیا مجھے اس کا مثبت جواب ملا، مجھے امید ہے کہ اس سے کچھ مثبت ہوگا۔ ہم سب اکٹھے ہو رہے ہیں، لوگ کوشش کر رہے ہیں۔'

بی بی سی کے نامہ نگار ایم الیاس خان نے بھی اس کے لیے اضافی رپورٹنگ کی ہے۔

اسی بارے میں