گندھارا آرٹ: خیبرپختونخوا حکومت کا دیگر صوبوں سے 3000 نوادرات واپس لینے کا فیصلہ

بدھا

خیبر پختونخوا حکومت گندھارا آرٹ سے متعلق اپنے صوبے کے تین ہزار سے زائد نوادرات واپس لانے کے لیے بین الصوبائی کمیٹی سے رجوع کر رہی ہے تاکہ صوبے میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کی تقریباً 3150 نایاب نوادرات دیگر صوبوں میں موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم فاسٹنگ بدھا بھی شامل ہے۔ یہ بدھا کا وہ مجسمہ ہے جو اس حالت میں تیار کیا گیا تھا جب وہ طویل روزے سے تھے۔ یہ مجسمہ اس وقت لاہور کے عجائب گھر میں رکھا ہوا ہے۔

صوبائی وزیر سیاحت عاطف خان نے ان نوادرات کو صوبے میں واپس لانے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ عاطف خان نے 4 سمتبر کو ایک اجلاس میں صوبائی سطح پر تمام حکام سے کہا ہے کہ اس بارے میں مکمل تیاری کی جائے تاکہ بین الصوبائی کمیٹی میں اس بارے میں پیشرفت کی جا سکے۔

عاطف خان کے مطابق صوبے میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں کیونکہ ماضی میں گندھارا ورثے کے حوالے سے یہاں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں غیر ملکی سیاح آنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہزاروں قدیم نوادرات کی بلوچستان واپسی

سوات میں گوتم بدھ کا مجسمہ

بھملا میں خوابیدہ بدھا کا نایاب مجسمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Archeology Department
Image caption فاسٹنگ بدھا کا مجسمہ خیبر پختونخوا کی ملکیت ہے لیکن اس وقت لاہور کے عجائب گھر میں موجود ہے

مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے صوبائی وزیر سیاحت نے صوبائی ترقیاتی فنڈ سے پانچ سو ملین روپے کے منصوبے منظور کروائے ہیں جن پر کام جاری ہے۔

نوادرات واپس لانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

ڈائریکٹر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد آثار قدیمہ کا محکمہ بمعہ تمام اختیارات اور وسائل صوبوں کے حوالے کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا صوبے کو واجبات اور دیگر اختیارات تو دیے گئے لیکن خیبر پختونخوا کے نوادرات جو دیگر صوبوں میں موجود ہیں وہ واپس نہیں کیے گیے۔

اٹھاوریں ترمیم کے بعد مختلف اوقات میں بین الصوبائی کمیٹی اور دیگر فورمز پر رابطہ کیا گیا ہے لیکن اس میں پیشرفت نہیں ہوئی اس لیے اب موجودہ حکومت میں ایک مرتبہ پھر اس معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے۔

کون کون سی نوادرات شامل ہیں؟

پاکستان بننے سے پہلے برطانوی دور میں بھی جو نوادرات دریافت ہوئی تھیں وہ برصغیر کے مختلف علاقوں میں رہیں اور اسی طرح پاکستان بننے کے بعد خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی یہ نوادرات یا وہ نوادرات جو خیبر پختونخوا سے دریافت ہوئی ہیں اور دیگر صوبوں میں لے جائی گئی ہیں، وہ سب شامل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق گندھارا ورثہ کی بہت سے نوادرات انڈیا میں بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Archeology Department

اٹھارویں ترمیم سے پہلے وفاقی حکومت کے تحت مختلف آثار قدیمہ کے مقامات سے جو نوادرات دریافت ہوئیں ان میں بدھا کے مجسمے اور دیگر اہم نوادرات شامل ہیں۔

ان میں فاسٹنگ بدھا اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ دنیا میں واحد ایسا مجسمہ ہے اور یہ صرف خیبر پختونخوا کی ملکیت ہے لیکن اس وقت لاہور کے عجائب گھر میں موجود ہے۔

اس طرح ٹیکسلا کے عجائب گھر میں کوئی پچاس فیصد تک نوادرات گندھارا ورثہ کی موجود ہیں جبکہ کراچی، لاہور اور دیگر علاقوں میں بھی یہ نوادرات موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Archeology Department
Image caption ٹیکسلا کے عجائب گھر میں موجود پچاس فیصد تک نوادرات گندھارا ورثہ کی ہیں

فاسٹنگ بدھا کیا ہے؟

تاریخ کے مطابق بدھا نے آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے چھ سال دورانیے کا روزہ رکھا تھا جس کے باعث وہ بہت کمزور ہو گئے تھے تو اس وقت کے آرٹسٹ نے اس مجسمے کو خوبصورتی تیار کیا تھا۔ جو دنیا میں واحد بدھا کا مجسمہ ہے جو مکمل حالت میں موجود ہے۔

بدھا کا یہ مجمسمہ مردان کے قریب سکری کے علاقے سے دریافت ہوا تھا۔ اسی طرح پشاور کے عجائب گھر میں اسی طرح کا بدھا کا ایک اور مجسمہ رکھا گیا ہے لیکن وہ تین ٹکڑوں میں دریافت ہوا تھا جسے جوڑا گیا ہے لیکن لاہور کے عجائب گھر میں رکھا ہوا مجسمہ مکمل اور صحیح حالت میں دریافت ہوا تھا۔

ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا ہے کہ جاپان حکومت نے کئی مرتبہ خواہش ظاہر کی ہے کہ فاسٹنگ بدھا قرض پر جاپان بھیجا جائے تاکہ لوگ وہاں اسے دیکھ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Archeology Department
Image caption پشاور کے عجائب گھر میں فاسٹنگ بدھا کا ایک اور مجسمہ رکھا گیا ہے لیکن وہ تین ٹکڑوں میں دریافت ہوا تھا جسے جوڑا گیا ہے

مذہبی سیاحت

خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس میں مذہبی سیاحت کو زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گندھارا ورثہ کے حوالے سے متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں بدھا کے مجسمے اور ان سے واستہ دیگر مذہبی مقامات موجود ہیں۔

تخت بھائی میں بدھ مت کے آثار قدیمہ کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔ بدھ مت کے درجنوں پیروکار کوریا اور دیگر ممالک سے چند روز پہلے خیبر پختونخوا کے دورے پر آئے تھے اور یہاں قیام کے دوران اپنی عبادات کی تھیں۔

اسی بارے میں