ایشز سیریز: سٹیو سمتھ کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے

سمتھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سمتھ نے اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں 65 کی اوسط سے 6788 رنز بنائے ہیں اور کرکٹ کی تاریخ میں 20 سے زیادہ میچ کھیلنے والوں میں صرف عظیم ترین بلے باز ڈان بریڈ مین کی 99 کی اوسط کو ان پر سبقت ہے

144، 142، 92 اور 211۔ یہ آسٹریلوی بلے باز سٹیو سمتھ کی جانب سے حالیہ چار اننگز میں بنائے جانے والے سکور ہیں۔ وہ آئی سی سی کی موجودہ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں تاہم جمعرات سے ایک سال پہلے تک پابندی کے باعث ان کی انگلینڈ میں جاری ایشز سیریز میں شرکت بھی مشکوک تھی۔

اس وقت انھیں آؤٹ کرنا شاید دنیائے کرکٹ کا سب سے مشکل کام ہے اور اس بات کا یقین کرنا بھی کہ چند ماہ قبل ہی ان پر لگی ایک سالہ پابندی ختم ہوئی تھی۔

سمتھ کی ٹیسٹ میچوں میں مہارت کا سفر گذشتہ برس مارچ میں اس وقت تھما جب آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلے جانے والے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران بال ٹیمپرنگ تنازع پیدا ہوا۔

سمتھ نے اس اقدام کی ذمہ داری قبول کی جس کے بعد آسٹریلیا اور دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین کی جانب سے اس حوالے سے شدید ردِعمل سامنے آئے جس نے آسٹریلوی کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس تنازع کی لپیٹ میں جہاں آسٹریلوی اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکروفٹ آئے وہیں سٹیو سمتھ پر بطور کھلاڑی ایک برس جبکہ بطور کپتان دو برس کی پابندی عائد کر دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ اور سمتھ کی پریم کہانی

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے سمتھ اور ان کے ساتھیوں پر جنوبی افریقہ میں کھیلے جانے والی اس سیریز کے دوران ہی آسٹریلیا واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ان کی وطن واپسی پر انھیں اور ان کی اہلیہ کو ہوائی اڈے پر ہی منفی جملے سننے کو ملے اور مختلف جریدوں میں انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

وطن واپسی کے کچھ عرصہ بعد سمتھ نے ایک پریس کانفرنس میں شائقین سے معافی مانگی اور کہا کہ وہ یہ ایک سال کیسے گزاریں گے انھیں نہیں معلوم لیکن ان کے اس اقدام کے باعث کرکٹ کو جس بدنامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کے باعث انھیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔

اس پریس کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے وہ بارہا روئے جس پر اس وقت کچھ لوگوں کی جانب سے طنز بھی کیا گیا، لیکن ایک سال بعد جب لارڈز کے میدان پر پابندی سے واپسی پر اپنی پہلی ہی اننگز میں سنچری بنا کر بلا لہرایا، تو اندازا ہوا کہ انھیں کرٹ کے کھیل سے کتنا لگاؤ ہے۔

اس میچ میں سمتھ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ایک دیوار بن گئے اور دونوں اننگز میں لگاتار سنچریاں بنا کر آسٹریلیا کو فتح سے ہمکنار کیا۔

پابندی کے بعد واپسی پر اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میں انگلش بولر جوفرا آرچر کی گیند سر پر لگنے کے باعث وہ تیسرے ٹیسٹ میں شرکت نہیں کر سکے۔

البتہ چوتھے ٹیسٹ میں ڈبل سنچری سکور کر کے انھوں نے یہ باور کرایا کہ نہ پابندی نہ آرچر، انھیں رنز بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سمتھ کی بیٹنگ دکھنے میں تو سٹائلش نہیں ہے لیکن ان کا بلا آئے دن رنز کے انبار اگلتا رہتا ہے

سمتھ کا اچھوتا انداز

سمتھ محنت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرنے کی ایک لازوال مثال ہیں۔ کبھی آپ سمتھ پر گیند کا سامنا کرنے سے پہلے غور کریں تو وہ آپ کو اپنی کلاس کے اس پڑھاکو دوست کے جیسے لگیں گے جو ہمیشہ اپنی کتابیں بستے میں سلیقے سے رکھتے تھے اور کسی کو ان کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔

وہ ہر گیند کھیلنے سے قبل کبھی اپنے پیڈز پر ہاتھ مار کر انھیں ترتیب دیتے ہیں تو کبھی اپنے گلوّز پر پھونکیں مار کر انھیں سکھاتے ہیں۔ یہی نہیں اپنے ہیلمٹ پر ہاتھ تو وہ ضرور مارتے ہیں۔

البتہ اس تیاری کے بعد جب وہ گیند کھیلتے ہیں تو آپ کو اپنے اس دوست کی یاد آتی ہے جس کی لکھائی تو بہت بھدی ہوتی ہے لیکن اس کے نمبر شاندار ہوتے ہیں۔

یعنی ان کی بیٹنگ دکھنے میں تو سٹائلش نہیں ہے لیکن ان کا بلا آئے دن رنز کے انبار اگلتا رہتا ہے۔

ایسے ہی کچھ موازنے حالیہ دنوں میں سمتھ اور انڈین ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کے درمیان ہو رہے تھے۔

کوہلی کے سٹائل کا موازنہ حالیہ بلے بازوں میں شاید ہی کسی سے کیا جا سکے لیکن وہ بھی ٹیسٹ میچوں میں سمتھ کے قریب بھی نہیں آ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سمتھ ٹیسٹ میچوں کے عظیم کھلاڑی

سمتھ نے اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں 65 کی اوسط سے 6788 رنز بنائے ہیں اور کرکٹ کی تاریخ میں 20 سے زیادہ میچ کھیلنے والوں میں صرف عظیم ترین بلے باز ڈان بریڈ مین کی 99 کی اوسط ان پر سبقت لیتی ہے۔

سمتھ کی تیز گیند بازوں کے خلاف بیٹنگ اوسط 75 جبکہ سپنرز کے خلاف 45 ہے۔ انھیں آؤٹ کرنے کے لیے ہی انگینڈ نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں لیفٹ آرم آف سپنر جیک لیچ کو ٹیم میں شامل کیا۔

سمتھ 26 سنچریاں بنانے والے دوسرے تیز ترین بلے باز ہیں اور یہاں بھی ان پر سر ڈان بریڈ مین کو ہی سبقت حاصل ہے۔

سمتھ کے بارے میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے اور ہر لفظ ناکافی ہے۔ وہ بطور ٹیسٹ بلے باز ایک منفرد لیجینڈ ہیں۔ انھیں کھیلتے دیکھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا انھیں آؤٹ کرنا ہے۔

اسی بارے میں