عامر مسیح کی مبینہ پولیس تشدد سے ہلاکت: ’جس نے بیٹے کا نام رکھنا تھا وہ اس دنیا ہی میں نہیں رہا‘

عامر مسیح تصویر کے کاپی رائٹ Aamir Masih Family
Image caption لاہور میں پولیس کے تشدد سے ہلاک ہونے والے عامر مسیح کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا کیونکہ اب تک کوئی بھی ملزم گرفتار نہیں ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ چند دنوں سے پے در پے پولیس تشدد کے واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں جن کی وجہ سے پورے ملک میں تشویش کی ایک لہر دوڑی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ چند دن قبل لاہور کے تھانہ شمالی چھاؤنی میں مبینہ طور پر پیش آیا ہے جس میں دو بچوں کے باپ عامر مسیح کی مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ہلاکت ہوئی ہے۔

ہلاک شدہ شخص عامر مسیح کے ورثا نے موقف اپنایا ہے کہ عامر لاہور کی پی ایف کالونی میں ایک شخص کے گھر مالی کا کام کرتے تھے اور اس گھر میں ہونے والی ایک مبینہ چوری کے شبے میں پولیس نے انھیں حراست میں لیا تھا۔

تھانہ شمالی چھاؤنی میں درج مقدمے میں مقتول عامر مسیح کے بھائی سنی اقبال کا موقف ہے کہ ان کا بھائی 28 اگست سے لاپتہ تھا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تلاش میں پی ایف کالونی گئے جہاں پر انھیں ایک سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ تھانہ شمالی چھاؤنی کے سب انسپکٹر ذیشان نے ان کے بھائی عامر مسیح کو فون کر کے تھانے بلایا تھا جہاں سے انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

ان کے مطابق جب وہ تھانے گئے تو تھانے والوں نے ان کے بھائی کی موجودگی سے انکار کیا جس کے بعد 31 اگست کو انھوں نے تھانہ ڈیفینس میں اپنے بھائی کی گمشدگی کی اطلاع دی۔

Image caption عامر مسیح کے بھائی سنی مسیح کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کا عکس

ایف آئی آر میں سنی مسیح نے کہا ہے کہ ان کے بھائی پی ایف کالونی میں جس شخص کے ہاں کام کرتے تھے انھوں نے پولیس سے مبینہ طور پر ملی بھگت کر کے پکڑوایا، ان پر تشدد کیا اور حبس بے جا میں رکھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول عامر مسیح کے برادر نسبتی منیر بھٹی نے بتایا کہ 2 ستمبر کی شام انھیں تھانہ شمالی چھاؤنی سے فون آیا کہ ’ہم تمہارا بندہ تمہارے حوالے کرتے ہیں‘ تو وہ اپنے دیگر رشتے داروں کے ساتھ پہنچے جہاں سب انسپکٹر ذیشان نے کہا کہ ’تمہارا بندہ (عامر) بے گناہ ثابت ہوا ہے اس کو تم لوگ لے جاؤ۔‘

درخواست کے مطابق جب وہ اپنے دیگر رشتے داروں کے ہمراہ تھانے پہنچے تو سب انسپکٹر ذیشان اور دو نامعلوم افراد نے عامر کو ان کے حوالے کیا اور انھیں لے جانے کے لیے کہا۔

'سب انسپکٹر ذیشان ہمیں لے کر تھانے سے باہر آیا تو ہم نے دیکھا کہ عامر مسیح کو اس وقت انھوں نے ایک اوبر ٹیکسی میں ڈالا ہوا تھا اور اس کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔ اس پر ہم سب لوگ غصے میں آ گئے اور احتجاج شروع کیا تو تفتیشی انچارج ناصر بیگ نے ہمیں اندر بلایا اور کہا کہ شور شرابا نہ کرو، اس (عامر) کو گھر لے کر جاؤ، اس کو ویسے ہی کچھ بخار وخار ہوا ہے۔ اس کی دوائی کا جو خرچہ ہو مجھ سے لے لینا۔'

منیر بھٹی کے مطابق ناصر بیگ کا کہنا تھا کہ 'اس کو ہسپتال لے چلو، ہم بھی وہاں آتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی رپورٹر کی وائرل ویڈیو پر پولیس اہلکار گرفتار

’پنجاب پولیس کو آپ کی اشد ضرورت ہے‘

’ہم عادی معاشرے کے باسی ہیں، محض تماشائی‘

ان کے مطابق جب عامر مسیح کو ہسپتال پہنچایا گیا تو وہاں ڈاکٹروں نے دیکھتے ہی کہا کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے۔ منیر کے مطابق یہ سن کر موقع پر موجود پولیس اہلکار بھی غائب ہوگئے۔

سنی مسیح کی دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عامر نے انھیں ملنے کے بعد بتایا کہ تھانے میں سب انسپکٹر ذیشان اور چار نامعلوم سپاہیوں نے ان پر سخت تشدد کیا۔

ان کے مطابق عامر نے کہا کہ پولیس اہلکار انھیں 'کرنٹ دیتے رہے، لوہے کے راڈ سے مارتے رہے، جسم پر لوہے کے راڈ رکھ دیتے اور دو پولیس اہلکار ان پر کھڑے ہو جاتے تھے۔'

منیر بھٹی کا کہنا تھا کہ عامر کو جب ہسپتال لایا گیا تو اس وقت وہ ہمیں کہتا تھا کہ 'میرے جسم پر خارش کرو کیونکہ مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میرا جسم میرے ساتھ بھی ہے کہ نہیں۔'

درخواست کے مطابق عامر کو فوری طور پر سروسز ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا علاج ہوتا رہا مگر تھوڑی دیر بعد عامر ہلاک ہو گیا۔

Image caption عامر مسیح کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

’ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی تشدد واضح‘

منیر بھٹی کا دعویٰ تھا کہ انھیں اطلاع دینے سے پہلے پولیس اہلکار عامر مسیح کو لے کر تھانے کے پاس ہی موجود کنٹونمنٹ ہسپتال لے گئے تھے جنھوں نے مریض کی حالت دیکھ کر علاج کرنے سے انکار کردیا تھا، جس پر انھوں نے مجبوری کے عالم میں گھر والوں کو بلایا۔

منیر بھٹی کے مطابق کنٹونمنٹ ہسپتال میں عامر مسیح کے ساتھ کیے گئے سلوک کی سی سی ٹی وی فوٹیج انھیں ہسپتال سے دستیاب ہوئی ہے۔ بی بی سی کے پاس موجود اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو افراد عامر کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر ہسپتال لاتے ہیں اور بائیک سے اترنے کا کہتے ہیں۔

بائیک سے اترتے وقت وہ ممکنہ طور پر کمزوری کی وجہ سے فرش پر ڈھے جاتے ہیں جس پر وہ افراد عامر مسیح کو لاتوں سے مارتے ہیں۔

ایک اور کیمرے سے حاصل کی گئی فوٹیج میں کچھ افراد انھیں ویل چیئر پر بٹھا کر لے ہسپتال سے باہر لے جاتے نظر آتے ہیں جس کے بعد ایک گاڑی بلوائی جاتی ہے جس میں عامر مسیح کو ڈال کر روانہ کیا جاتا ہے اور دیگر اہلکار ان کے ساتھ موٹرسائیکل پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

سروسز ہسپتال لاہور کے ذرائع کے مطابق عامر مسیح کے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ لاہور پولیس کے ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ پوسٹ مارٹم میں تشدد کی واضح رپورٹ ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

عامر مسیح کی بیوہ سلمیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی شادی سال 2012 میں ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ برکی روڈ پر واقع ان کے علاقے میں مسیحی برادری کے 60 سے 70 خاندان ہیں جبکہ مسلمانوں کے 300 سے 400 گھرانے ہیں۔ ’سب لوگ ہمیں جانتے ہیں، مسیحی خاندانوں کو تو چھوڑیں، مسلمانوں سے ہی پوچھ لیں کہ میرا خاوند کیسا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند ایک ہسپتال میں کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے کے علاوہ بڑے لوگوں کے گھروں میں مالیوں کا کام کرکے مہینے کے 20 سے 22 ہزار روپے کماتے تھے۔ ’وہ منصوبے بنایا کرتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور وہ مستقبل میں افسر بنیں گے تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Aamir Masih Family
Image caption عامر مسیح کی اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ منصوبے بنایا کرتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور وہ مستقبل میں افسر بنیں گے تو ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے

پولیس کے نفسیاتی آڈٹ کی ضرورت ہے

انسانی حقوق کے ممتاز کارکن محمد جبران ناصر کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے پے در پے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ ضروری ہو چکا ہے کہ پولیس کے بہیمانہ تشدد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کا 'نفسیاتی آڈٹ' کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ لگتا ہے کہ کمزور پر تشدد کر کے ان اہلکاروں کو تفریح حاصل ہوتی ہے کیونکہ کوئی ذی شعور اس طرح کا تشدد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی ایک بڑی وجہ ماضی میں ایسے واقعات میں ملوث پولیس اہلکاروں کا بچ نکل جانا ہے۔ ’ساہیوال واقعہ کا کچھ نہیں بنا، نقیب اللہ محسود واقعے پر پورے ملک میں شدید احتجاج ہوا۔ اس کے علاوہ درجنوں واقعات ہیں جس کے بعد پولیس میں غالباً یہ سوچ پختہ ہوچکی ہے کہ کیا ہو گا، دو چار دن خبریں چلیں گی، کوئی انکوائری وغیرہ ہوجائے گی، پھر سب بھول جائیں گے اور کچھ بھی نہیں ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Aamir Masih Family
Image caption عامر مسیح کی اہلیہ اپنے نومولود بچے کے ساتھ

پنجاب پولیس کیا کہتی ہے؟

پنجاب پولیس کے ترجمان نایاب حیدر کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں جنھیں پیش نہیں آنا چاہیے تھا، مگر ان کے مطابق وہ قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ پنجاب پولیس نے ان واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور کئی ایک میں پولیس اہلکار گرفتار ہیں۔ لاہور میں عامر مسیح قتل واقعے میں ایس پی انوسٹی گیشن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، ڈی ایس پی کے خلاف انکوائری چل رہی ہے، تھانے کا تفتیشی انچارج گرفتار ہے جبکہ سب انسپکٹر اور کچھ اہلکار فرار ہیں مگر ان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس اصلاحات سے بے خبر نہیں بلکہ پولیس میں اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا ہے جس کے لیے جدید معیار کا سکول آف انوسٹی گیشن قائم کیا گیا جس میں تمام اہلکاروں کو جدید طریقۂ تفتیش کے مطابق تربیت دی جائے گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ اگر پولیس کو تربیت کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اور فارنسک طریقۂ تفتیش سے متعارف کروا دیا گیا تو پھر تشدد کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہ مسائل حل ہوجائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aamir Masih Family
Image caption عامر اپنے بڑے بیٹے آروان عامر کے ساتھ

’انصاف نہ ملا تو خود کو آگ لگا لوں گی‘

مگر عامر کی اہلیہ حکام کی جانب سے دی جانے والی تسلیوں کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قتل کے کچھ دن بعد تک تو شور شرابہ رہا، گورنر صاحب بھی آئے تھے، کہتے تھے کہ انصاف ہو گا مگر ابھی تک تو انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

’میں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ دسویں محرم تک میرے خاوند کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو پھر اس کے بعد اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ خود کو آئی جی دفتر کے سامنے آگ لگا لوں گی۔‘

سلمیٰ کہتی ہیں کہ جس دن ان کے شوہر غائب ہوئے، اس دن ان کا نومولود بیٹا صرف چار دن کا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس دن کام پر جانے سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ بیٹے کا نام سوچ رہا ہوں، واپس آؤں گا تو اس بارے میں بات کریں گے۔ اب بیٹا 14 روز کا ہو چکا ہے مگر ابھی تک اس کا نام نہیں رکھا گیا کیونکہ جس نے نام رکھنا تھا وہ اس دنیا ہی میں نہیں رہا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں