سماحہ جہانگیر: سڑک پر فوٹوگرافی پاکستان میں لڑکیوں کے لیے آسان نہیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سماحہ جہانگیر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ایک شوقیہ فوٹوگرافر ہیں

’میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جو بہت اچھے آرٹسٹ ہوتے ہیں مگر میڈیکل میں آ کر اپنے شوق سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے لیے اب وقت نہیں ملتا لیکن میں فوٹوگرافی کو آج بھی خصوصی وقت دیتی ہوں تاکہ جو چیز مجھے ذہنی طور پر سکون دیتی ہے وہ مجھ سے دور نہ چلی جائے۔‘

یہ الفاظ ہیں سماحہ جہانگیر کے جو کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ایک فوٹوگرافر ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے امراضِ چشم کی تشخیص کے شعبے اوپٹومیٹری سے تعلق رکھتی ہیں مگر انھوں نے اسے اپنے شوق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا ہے۔

حال ہی میں سماحہ کی نیشنل جیوگرافک میگزین کو بھیجی گئی ایک تصویر اس عالمی شہرت یافتہ جریدے نے جولائی 2019 کے شمارے میں شائع کی ہے۔ حیرت انگیز تصاویر اور ویڈیوز کے لیے مشہور اس میگزین میں جگہ بنانا ایک مشکل کام ہے اور انھیں اس اعزاز کو حاصل کرنے پر بہت خوشی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’فوٹوگرافی اور پولیس میں مہم جوئی مشترک‘

ہمارے ارد گرد کی دنیا کیمرے کی نظر سے

’انجیر لگی بندر کے ہاتھ‘

انھوں نے ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی کی تصویر دبئی میں قائم دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ میں ڈوبتے سورج کے سامنے لی تھی۔

'میں وہاں گذشتہ سال سیر کے لیے گئی تھی جہاں ہم آرام کرنے کے لیے بیٹھے تھے کہ میں نے انھیں دیکھا۔ ڈوبتے سورج، شیشے کی کرسیوں، اور منعکس ہوتی نارنجی روشنی کے درمیان مجھے محسوس ہوا کہ ان کی تصویر بہت اچھی آ سکتی ہے۔'

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے یہ تصویر چند ماہ بعد نیشنل جیوگرافک کے پورٹل پر اپ لوڈ کی جہاں سے انھیں ایک ماہ بعد ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ان کی تصویر اپنے میگزین میں شائع کرنا چاہتے ہیں۔

'پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میں سمجھی کہ یہ کوئی فیک ای میل ہے اور کسی نے میرے ساتھ مذاق کیا ہے۔ بعد میں میں نے ان کے تصاویر شائع کرنے کے طریقہ کار اور ای میل بھیجنے والے ایڈیٹر کا نام سرچ کیا تو مجھے یقین ہوا کہ میری لی گئی فوٹو واقعی نیشنل جیوگرافک میں شائع ہونے والی ہے۔'

فوٹوگرافی کا شوق اور ابتدا

اس حوالے سے سماحہ بتاتی ہیں کہ انھیں آرٹسٹ بننے کا شوق بچپن سے ہی تھا اور وہ خاکہ نگاری اور مصوری کرتی رہتی تھیں، لیکن بڑے ہونے پر انھوں نے اوپٹومیٹری میں داخلہ لیا۔

انھوں نے فوٹوگرافی کی ابتدا سمارٹ فون کیمرا سے کی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے شوق میں آگے بڑھنے کے لیے ایک کیمرا حاصل کیا۔

'میرے پاس فوٹوگرافی کی کوئی اکیڈمی نہیں تھی، سیکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، چنانچہ میں نے خود ہی آہستہ آہستہ سیکھنا شروع کیا۔ میں نے فریمنگ اور فوٹوگرافی مختلف سینسز کے بارے میں پڑھنا شروع کیا اور وقت کے ساتھ اپنی غلطیوں سے سیکھا۔'

اپنے خاندان کی خواہش کے مطابق طب کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انھوں نے اپنے شوق کو جاری رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Smaha Jahangir
Image caption سماحہ کی کھینچی گئی وہ تصویر جو نیشنل جیوگرافک میگزین میں شائع ہوئی ہے

وہ کہتی ہیں کہ 'میڈیکل کی پڑھائی کی وجہ سے وقت تو کم ملتا ہے لیکن میں نے فوٹوگرافی کو جاری رکھا ہے کیونکہ اس سے میرا ایک جذباتی تعلق ہے۔ یہ میرے لیے دنیا کی مشکلات سے بھاگنے کا ایک طریقہ ہے۔'

’لڑکیوں کے لیے فوٹوگرافی کوئی آسان کام نہیں‘

فوٹوگرافی میں انھیں سٹریٹ اور پورٹریٹ فوٹوگرافی میں دلچسپی ہے۔ اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ پورٹریٹ میں لوگوں کے چہرے پر جو تاثرات نظر آتے ہیں وہ ان کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ پورٹریٹ بنانا یا سڑک پر شوٹ کرنا پاکستان میں لڑکیوں کے لیے کوئی آسان کام نہیں۔

'شوٹنگ کے لیے جہاں کہیں بھی جا کر کیمرا نکالیں تو لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ آپ کا کیمرا سبجیکٹ کی جانب ہوتا ہے اور پورے مجمعے کی نظریں آپ کی طرف۔'

'اسی طرح اکثر لوگوں کو ان کی پورٹریٹ تصویر لینے کے لیے قائل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔'

یہاں پر وہ کہتی ہیں کہ ان کی میڈیکل کی تعلیم کام آتی ہے۔ 'بحیثیت طبی پروفیشنل، ہمیں لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے اور انھیں کیسے قائل کرنا ہے، اس کی تربیت دی جاتی ہے اور یہ چیز فوٹوگرافی میں کام آ جاتی ہے۔'

سماحہ کا کہنا ہے کہ جب وہ مرد سینیئر فوٹوگرافرز سے مدد لینے کی کوشش کرتیں تو اکثر طنزیہ کہا جاتا کہ 'آپ تو لڑکی ہیں، آپ سے یہ نہیں ہوگا۔'

'مجھ سے اکثر لڑکیاں پوچھتی ہیں کہ آپ اس شعبے میں کیسے آگے آ سکتے ہیں۔ میں ان سے یہی کہوں گی کہ 'آپ اگر اس کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس میں آگے آنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں