پولیس تشدد: کیا محکمہ پولیس کا سکول آف انویسٹیگیشن اس کا خاتمہ کر پائے گا؟

سکول آف انویسٹیگیشن
Image caption لاہور میں محکمہ پولیس کے زیرِ انتظام پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ میں انویسٹیگیشن سکول قائم کیا گیا ہے، جس میں پولیس اہکاروں کو ماہر تفتیشی افسر بنایا جائے گا

عام طور پر ملزم سے اعترافِ جرم کروانے کے لیے پولیس بدترین تشدد کرتی ہے۔ لیکن اب تفتیشی افسر کو تفتیش کرنے کے ایسے طریقے سیکھائے جائیں گے جن کی مدد سے وہ ثبوت اکٹھے کرنے کے بعد جرم کی کڑیاں باآسانی جوڑ پائے گا اور ایسا کرتے ہوئے اسے ملزم پر بدترین تشدد کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں پولیس کی جانب سے تشدد اور زیرِ حراست ملزمان کی ہلاکتوں کے بیشتر واقعات سامنے آئے ہیں جس کے باعث پولیس کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس صورتحال کے پیشِ نظرحکومت کی جانب سے بھی محکمہ پولیس کو خاطرخواہ حکمت عملی تیار کر کے پولیس اصلاحات لانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اسی سلسلے میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں محکمہ پولیس کے زیرِ انتظام پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ میں نئے طرز کا انویسٹیگیشن سکول قائم کیا گیا ہے۔ جس میں پولیس اہکاروں کو ماہر تفتیشی افسر بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

عامر مسیح پر ’تھانے، ہسپتال دونوں میں تشدد ہوا‘

کیا عقوبت خانے تھانوں سے باہر منتقل ہو رہے ہیں؟

کیا عدالتی کمیشن سے صلاح الدین کو انصاف مل سکتا ہے؟

تشدد کیوں ہوتا ہے؟

پاکستان میں کئی برسوں سے ملزم کو مجرم تک کا سفر طے کروانے کے لیے تفتیش کے روائیتی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔

آئی جی پنجاب عارف نواز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ’پولیس کے ہاتھوں تشدد اور اموات کے واقعات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تفتیش کے طریقوں کو بہتر نہیں بنائیں گے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پولیس کا سکول آف انویسٹیگیشن

حال ہی میں ادارہ انسدادِ کرپشن نے لاہور میں پولیس کا غیر قانونی عقوبت خانہ پکڑا تھا اور وہاں موجود افراد پر تشدد اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے صلاح الدین نامی شخص کی پولیس حراست میں موت کی خبر سامنے آئی۔ صلاح الدین اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس تشدد سے عامر مسیح نامی شخص کی مبینہ ہلاکت کا ایسا ہی ایک واقعہ چند روز قبل لاہور کے تھانہ شمالی چھاؤنی میں پیش آیا۔

ان تمام واقعات میں پکڑے جانے والے افراد کو اعترافِ جرم کروانے کے لیے پولیس نے تفتیش کے روائیتی طریقہ کار یعنی تشدد کا سہارا لیا۔

عموماً جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو عدالت میں ملزم کو گواہوں اور ثبوتوں کی روشنی میں مجرم ثابت کیا جاتا ہے جبکہ مختلف اقسام کے ثبوتوں کی اہمیت بھی مختلف ہوتی ہے۔

جیسا کہ ’بلاواسطہ ثبوت‘ یعنی وہ شواہد جو کسی کے آنکھوں دیکھے ہوں، عینی شاہدین، گواہان وغیرہ۔

’سرکمٹینشل یا فرانزک ثبوت‘ وہ ثبوت جن کو سائنسی طریقوں سے ثابت کیا جائے۔

تاہم پاکستان میں زیادہ تر بلاواسطہ ثبوتوں کی روشنی میں کیسز کے فیصلے کیے جاتے ہیں کیونکہ اکثر یہ عدالتی اعتراض لگایا جاتا تھا کہ پولیس کے پاس ایسے ماہرین اور سائنسی طریقے موجود ہی نہیں ہیں جن کے ذریعے یہ سرکمٹینشل ثبوت ثابت کر سکیں۔ جس کے باعث پولیس کی جانب سے اعتراف جرم یا پھر بلاواسطہ ثبوت حاصل کرنے کے لیے زور دیا جاتا ہے۔

جبکہ کچھ عرصہ قبل عدالت نے قصور میں پیش آنے والے واقعے زینب کیس کا فیصلہ سرکمٹینشل ثبوتوں پر دیا تھا۔

آئی جی پنجاب عارف نواز نے کہا ’پنجاب میں تفتیش کے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہمارا ویژن ہے۔ دنیا بھر میں ایسے ہی سائنسی طریقوں کو اپنا کر مجرم تک پہنچا جاتا ہے۔‘

سکول آف انویسٹیگیشن ہے کیا؟

پولیس ٹرینگ کالج لاہور کے کمانڈنٹ فیاض احمد نے بی بی سی کو بتایا ’محکمہ پولیس میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ ہم پولیس اہلکاروں کو منظر نامے پر مبنی ٹریننگ دے رہے ہیں اور ان کے لیے ہم ایسی منظر کشی کریں گے جس سے اسی صورتحال پیدا ہو گی کہ پولیس اہلکاروں کو حقیقت کا تاثر ملے۔‘

کمانڈنٹ پولیس کالج لاہور فیاض احمد نے بی بی سی کی ٹیم کو سکول آف انوسٹیگیشن کا دورہ کرواتے ہوئے مختلف اقسام کی لیبز اور ان میں موجود تفتیش کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور سامان کے حوالے سے بتایا۔

Image caption ہر کلاس روم کو مختلف رنگ دینے کا مقصد یہاں ٹریننگ کے لیے آنے والے کے لیے مختلف موضوعات میں دلچسپی پیدا کرنا ہے

کلاس رومز

سکول آف انویسٹیگیشن میں بنائے جانے والے تمام کلاس رومز کو مختلف رنگ دیا گیا ہے۔ کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہور فیاض احمد کا کہنا ہے کہ ہر کلاس روم کو مختلف رنگ دینے کا مقصد یہاں ٹریننگ کے لیے آنے والے کے لیے مختلف موضوعات میں دلچسپی پیدا کرنا ہے۔

ہر کلاس روم میں تقریبا 30 سے 40 طالب علموں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے جہاں تفتیشی افسر تفتیش کرنے کے طریقوں کے متعلق علم حاصل کریں گے۔

آئی ٹی لیب

سکول آف انویسٹیگیشن میں قائم آئی ٹی لیب جدید سہولیات سے لیس ہے۔

کمانڈنٹ پولیس ٹرینگ کالج فیاض احد نے کے مطابق اس لیب میں تفتیشی افسر کو مجرم کا سارا ڈیٹا اکھٹا اور ریکارڈ کرنا، کیس کو اپ ڈیٹ کرنا، کیس ڈائری اور ایف آئی آر لکھنی سکھائی جائے گی۔

Image caption سکول آف انویسٹیگیشن میں قائم آئی ٹی لیب جدید سہولیات سے لیس ہے

کمانڈنٹ فیاض احمد نے مزید بتایا کہ ڈیجیٹل تفتیش کے حوالے سے سی ڈی آر (کال ڈیٹا ریکارڈ) کہ واردات کے وقت جائے وقوعہ پر کتنے موبائل فون موجود تھے اور جیو فینسنگ کا تجزیہ کرنا بھی تفتیشی افسر کو مختلف سافٹ وئیر کے ذریعے آئی ٹی لیب میں سکھایا جائے گا۔

سمیلیٹر رومز

سکول میں مختلف اقسام کے سمیلیٹر لگائے گئے ہیں، جن میں فائرنگ سمیلیٹر اور ڈرائیونگ سمیلیٹر شامل ہیں۔

فائرنگ سمیلیٹر پولیس اہلکار کے لیے بنیادی چیز ہے جو پولیس افسر کو اسلحے کا استعمال کرنا سکھاتی ہے۔ سکول میں موجود سمیلیٹر پر ٹارگٹ با آسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے جس کی رینج 30 میٹر سے 300 میٹر تک ہے۔

اس کے علاوہ تفتیشی افسر کو یہ بھی سکھایا جائے گا کہ کتنے فاصلے سے فائر کی جانے والی گولی کا نشان کیسا ہو گا۔ تفتیشی افسر جوں ہی کسی سطح کو دیکھے گا تو اس کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ گولی کس سمت سے فائر کی گئی ہے۔

Image caption تفتیشی افسر کو یہ بھی سکھایا جائے گا کہ کتنے فاصلے سے فائر کی جانے والی گولی کا نشان کیسا ہو گا

ڈرائیونگ سمیلیٹر کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو یہ سکھایا جائے گا کہ اگر انھیں کسی مجرم کا پیچھا کرنا پڑے تو وہ کیسے کریں گے۔

جدید طرز کے ڈرائیونگ سمیلیٹر کی اسپیڈ بھی بدلتی ہے اور مختلف سڑکیں بھی تبدیل ہوتی ہیں۔

ليبارٹریاں

سکول میں بنائی گئی کرائم سین لیبز میں جرم کے واقعات کے فرضی منظر بنائے گئے ہیں۔ جس کے ذریعے یہ سکھایا جائے گا کہ اگر کوئی جرم کسی گھر، مارکیٹ، بینک یا کہیں بھی ہو جاتا ہے تو تفتیشی افسر کو یہ معلوم ہو کہ اس نے جائے وقوعہ سے کیا کیا شواہد اکھٹے کرنے ہوں گے۔

Image caption سکول آف انوسٹیگیشن میں ایک وقت میں 120 تفتیشی افسران کو کورس کروایا جائے گا جو کہ تین ہفتوں پر محیط ہو گا

فرانزک لیب میں تفتیشی افسر کو قبضے میں لیے گئے شواہد کی پیکنگ کرنا اور انھیں نقصان سے محفوظ رکھنے کے طریقے سکھائے جائیں گے۔ جبکہ جائے وقوعہ سے انگلیوں کے نشانات، بندوق کی گولی کے باقیات، ڈی این اے، پاؤں کے نشانات، گاڑی کے ٹائر کے نشانات اور بلیسٹک نشانات کو جمع کرنا بھی سکھایا جائے گا۔

فرضی عدالت

اس سکول میں ایک فرضی عدالت بھی قائم کی گئی ہے جس میں تفتیشی افسر کو سکھایا جائے گا کہ انوسٹیگیشن مکمل ہونے کے بعد ثبوتوں کو کس انداز میں عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے۔

کمانڈنٹ فیاض احمد نے بتایا ’اس فرضی عدالت میں ہم افسر کو یہ سکھائیں گے آپ نے عدالت میں کیسے اور کہاں کھڑے ہونا ہے، کیس کے حوالے سے کیسے بات کرنی ہے اور کیسے اپنا بیان ریکارڈ کروانا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اس کام کے لیے ہم ماہر وکلا اور اس شبعے سے وابسطہ افراد کی خدمات حاصل کریں گے جو تفتیشی افسر کو سکھائیں گے کہ جج اور وکلا کے ساتھ کس طریقے سے پیش آنا ہے۔

Image caption فرضی عدالت میں تفتیشی افسر کو سکھایا جائے گا کہ انوسٹیگیشن مکمل ہونے کے بعد ثبوتوں کو کس انداز میں عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے

سکول آف انوسٹیگیشن میں ایک وقت میں 120 تفتیشی افسران کو کورس کروایا جائے گا جو کہ تین ہفتوں پر محیط ہو گا۔

پرنسپل پولیس ٹریننگ کالج خالد سعید کے مطابق تقریبا ایک سال میں 17 بیجز سکول آف انوسٹیگیشن سے پاس آؤٹ ہوں گے۔

کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہور فیاض احمد کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر میں ہم امید کر رہے ہیں کہ ہر تھانے میں اس سکول سے تعلیم یافتہ دو یا تین سند شدہ تفتیشی افسر تعینات ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ہمارے پاس بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو تفتیش کے شبعے میں ماہر ہیں۔ اس سکول میں سیف سٹی اتھارٹی اور پنجاب فرانزک ایجنسی کی معاونت بھی شامل ہو گی۔

پولیس کیوں اور کیسے تشدد سے اجتناب کرے گی؟

کمانڈنٹ پولیس کالج لاہور فیاض احمد نے بی بی سی کو بتایا ’پہلے ملزم کو یا تو شک کی بنیاد پر پکڑا جاتا تھا یا پھر مدعی مقدمہ ملزم کو نامزد کرتا تھا۔ لیکن اب یہ نہیں ہو گا کیونکہ ہم ملزم کے بجائے کرائم سین پر توجہ دیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہم جائے وقوعہ کو مؤثر انداز میں دیکھیں گے اور کرائم سین پر موجود شواہد، جن کو فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کہا جاتا ہے، کو احتیاط کے ساتھ جائے وقوعہ سے اکھٹا کریں گے۔ شواہد اکٹھا کیے جانے کے بعد انھیں محفوظ کیا جائے گا اور انہیں فرانزک ایجنسی تک پہنچایا جائے گا۔

کمانڈنٹ فیاض احمد کے مطابق اس اقدام سے سزا کی شرح بڑھے گی۔ تاہم تفتیش کا سائنٹیفک طریقہ کار کے ذریعے اعتراف جرم کے لیے روائتی تشدد کا راستہ نہیں اپنانا پڑے گا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جس میں ملزم موقع واردات سے پکڑا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں عدالت میں اسکے جرم کو ثابت کرنے کے لیے ان ثبوتوں کو بنیاد بنانا پڑے گا جو ہم نے جائے وقوعہ سے جمع کیے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا تفتیشی افسر آج تک صحیح انداز میں سائنٹیفک تربیت سے مزین نہیں ہے۔ اس لیے تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اب اس سکول میں ہم اپنے تفتیشی افسر کو اتنا ماہر بنا دیں گے کہ وہ ثبوتوں کی بنیاد پر کیسز کی تفتیش کرے گا جس کے بعد اعتراف جرم کروانے کے لیے تشدد کا سہارا نہیں لیا جائے گا۔

اسی بارے میں