پاکستان کے صدر کا خطاب اور حزبِ اختلاف کے احتجاج کی گونج

عارف علوی تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
Image caption صدرِ پاکستان عارف علوی نے کہا ہے کہ ملکی خزانے کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری رہے گا

پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملکی خزانے کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج اسلام آباد میں صدرِ پاکستان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران حزبِ اختلاف نے زبردست احتجاج کیا۔

دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں آج صدرِ پاکستان کا خطاب پاکستان تحریکِ انصاف کی ایک سالہ کارکردگی، پاکستان کے چین، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات اور ملک میں معاشی و سیاسی اقدامات سے متعلق تھا۔

اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے حزبِ اختلاف کی تمام جماعتیں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھنے لگیں۔ ان میں سے چند ارکان اپنے ہاتھوں میں اپنی اپنی جماعت کے زیرِ حراست ارکان کی تصاویر اٹھائے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

پارلیمان کا ایک برس: کون کتنی بار ایوان میں آیا؟

نئی پارلیمان میں فرینڈلی یا ایک منقسم حزب اختلاف؟

’انھی سے مشورہ لیں جن کے مشوروں پر چلتے آ رہے ہیں‘

ان میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک رکن سابق صدر اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی تصویر لیے راجہ پرویز اشرف کی نشست کے برابر اسے رکھنے پہنچیں۔ لیکن راجہ پرویز اشرف نے انھیں ایسا کرنے سے روکا۔

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ نون کے ممبران بھی رانا ثنااللہ اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی تصویر اٹھا کر ان کی خالی نشستوں پر رکھنے پہنچے۔ یاد رہے کہ یہ ممبران اس وقت مختلف مقدمات میں زیرِ حراست ہیں اور ان کے پروڈکشن آرڈرز تاحال جاری نہیں ہوئے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے داخل ہوتے ہی حکومتی جماعتیں اپنی نشستوں کے سامنے کھڑی ہوگئیں جبکہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے بات کرتے وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ اور شیخ رشید بھی راستے سے ہٹ گئے اور ان کو جانے کی جگہ دی۔

تلاوتِ قرآن ختم ہوتے ہی، جیسے ہی مسلم لیگ نواز کے شہباز شریف ایوان میں داخل ہوئے تو مسلم لیگ نواز کی طرف سے ’دیکھو، دیکھو کون آیا، شیر آیا، شیر آیا‘ کے نعرے بلند ہوئے۔ اسی وقت سپیکر اسد قیصر نے صدرِ پاکستان عارف علوی کو ڈائس پر آکر اپنا خطاب شروع کرنے کی دعوت دی۔ اسی وقت زبردست شور شرابا شروع ہو گیا۔ حزبِ اختلاف کی تمام جماعتیں نعرے لگاتے ہوئے عارف علوی کے ڈائس کے بالکل سامنے پہنچ گئیں۔

ان احتجاج کرتی جماعتوں میں مسلم لیگ نواز کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کی آواز سب سے اونچی گونج رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

احتجاج کرتی جماعتوں کے شور کے بیچ عارف علوی کی تقریر کے چند الفاظ سنائی دیے جن میں ’بانیانِ پاکستان کے نظریے کو اجاگر کرنے‘ سے لے کر ’ریاستِ مدینہ انھیں اصولوں پر بنی ہے‘ کی آواز آئی۔ اسی بیچ "کشمیر کا سودا نا منظور" اور ‘گو نیازی گو‘ کے نعرے ایوان میں گونجتے رہے۔

ان سب آوازوں کے بیچ میں عمران خان کانوں میں ہیڈفون لگائے تقریر سنتے اور سر ہلاتے رہے۔ اسی دوران کبھی عارف علوی کی طرف اور کبھی ایوان کی چھت کی طرف نظر دوڑاتے رہے۔

عارف علوی نے کچھ سیکنڈ پانی پینے کے بعد اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس حکومت کے دوران کابینہ کے پچاس سے زائد اجلاس ہوئے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے فرائض کو انجام دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔`

انھوں نے کہا کہ ’اس حکومت نے اظہارِ رائے کو فروغ دیا`، جس پر احتجاج کرتی جماعتوں کی جانب سے ’سلیکٹڈ حکومت نا منظور` کے نعرے مزید بلند ہوئے۔

اس کے بعد انھوں نے خواتین کے وقار کو بلند کرنے کی بات کی اور اسمبلی کی خواتین کی جانب رُخ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر بات سنیں گی نہیں تو یہ کیسے ہو گا‘۔

اس وقت تک تمام اراکین ڈائس کے سامنے بینر اٹھائے موجود رہے جبکہ چند اراکین کی سامنے کی نشست پر بیٹھی شیریں مزاری کے ساتھ تلخ کلامی بھی جاری رہی۔ جس پر بات اس نہج تک پہنچ گئی کہ سارجنٹ اِن آرمز کو بلا لیا گیا جو نشستوں کے سامنے احتجاج کرتے اراکین کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

عارف علوی نے کہا کہ ’ہم نے ملکی خزانے کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔` جس پر دوسری جانب سے ’لاٹھی، گولی کی سرکار نہیں چلے گی` کے نعرے بلند ہوئے۔ انھوں نے اپنا خطاب جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’امید کرتا ہوں کہ یہ سنیں گے اور عمل کریں گے۔`

عارف علوی نے کہا کہ ’افغانستان میں ہمارے بیانیے کو تسلیم کیا گیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔`

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی جو کچھ ہفتوں پہلے تک اسی قسم کے احتجاج کے نرغے میں تھے تمام صورتحال اور نعروں سے بخوبی لطف اندوز ہوتے ہوئے نظر آئے۔ جبکہ اس وقت تک حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اراکین اب سپیکر اسد قیصر کی آزادی کے نعرے لگانا شروع کر چکے تھے۔

لیکن شاہد خاقان عباسی، آصف علی زرداری اور رانا ثنااللہ کی تصاویر میں نیشنل اسمبلی کے دو ممبران علی وزیر اور محسن داوڑ کی تصویر کہیں نظر نہیں آئی اور نہ ہی تین ماہ سے ان کی خالی نشستوں پر نظر دوڑانے پر ان کی تصویر یا ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے کوئی بینر رکھا ہوا نظر آیا۔

اسی بارے میں