سی پیک: پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری پر انڈیا کے تحفظات کس نوعیت کے ہیں؟

گلگلت بلتستان

انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد ایک بار پھر پاکستان اور چین سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) منصوبے پر کام روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چین کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد انڈین میڈیا میں انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے جموں و کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دیتے ہوئے سی پیک منصوبے پرتحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انڈین ترجمان کے مطابق پاکستان نے ان علاقوں پر 1947 سے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔

انڈیا ماضی میں بھی متعدد باردونوں ممالک کے درمیان 60 بلین ڈالر کے سی پیک منصوبے پر اعتراضات اٹھا چکا ہے اور اس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقوں میں یہ منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سی پیک: انڈیا کو شمولیت کی دعوت،چین ردعمل کا منتظر

'سی پیک سے کشمیر پر چین کا موقف متاثر نہیں ہوگا'

سی پیک پر 'خاموش سفارتکاری' کا خاتمہ

قراردادوں میں گلگت بلتستان کا ذکر کیوں نہیں؟

اقوام متحدہ کی قرارداوں میں صرف ریاست جموں و کشمیر کا ہی ذکر موجود ہے۔ پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جموں و کشمیر میں رائے شماری سے متعلق 1948 میں قرارداد نمبر 47 منظور کی تو پھر پاکستان نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جب کبھی رائے شماری ہوگی تو پھر گلگت بلتستان کا علاقہ بھی اس میں حصہ لے گا۔

ریاض محمد خان کے مطابق سہولیات یا منصوبوں سے کسی علاقے کی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں سندھ طاس معاہدے کے بعد کئی منصوبے شروع کیے۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے سپیکر فدا محمد نشاد کا موقف ہے کہ گلگت کبھی بھی کشمیر کا حصہ نہیں رہا ہے۔ اس علاقے کی علیحدہ حیثیت رہی ہے۔ تاہم وہ یہ مانتے ہیں کہ کشمیر کے مہاراجہ نے برطانوی دور حکومت میں اس علاقے پر حکومت کی تھی۔

ریاض محمد خان کا کہنا ہے کہ اس بحث سے ہٹ کر کہ کشمیر کے مہاراجہ نے کتنے عرصے حکومت کی ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ علاقہ بھی برطانوی دور حکومت کے تحت شامل علاقوں میں سے ایک تھا۔

ماہرین کی رائے کیا ہے؟

ڈاکٹر فضل الرحمان پاک چین معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کا سی پیک پر اعتراض سیاسی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق انڈیا کو یہ شکایت ہے کہ ایسا بڑا منصوبہ شروع کرنے سے قبل بیجنگ نے نیو دہلی سے مشاورت کیوں نہیں کی۔

انڈین صحافی سنجیو سریواستو اس رائے سے متفق نظر نہیں آتے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا کا اعتراض سکیورٹی اور سٹریٹیجک نوعیت کا ہے۔

’انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ جس طرح کے تعلقات ہیں اس میں سی پیک جیسا بڑا منصوبہ نیو دہلی کے مفادات کے خلاف ہوگا۔ اسی وجہ سے انڈیا سی پیک کا حصہ بھی نہیں بنا۔‘

ڈاکٹر فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے لیکن پاکستان نے 1970 میں بھی شاہراہ قراقرم بنائی تو اس وقت انڈیا نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ اس کے بعد گلگت میں ایک ڈرائی پورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تب بھی اس پر کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تو اب یہ اعتراض سٹریٹیجک نوعیت کے کیسے ہو گئے؟

سنجیو شریواستو کے مطابق 1970 میں ’جیو پولٹیکل‘ حالات مختلف تھے۔ اب تعلقات کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ انڈیا کے چین کے ساتھ بھی تنازعات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا نے اعتراض نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب یہ علاقہ متنازعہ نہیں رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ دنوں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آئی ہے

’انڈیا ان علاقوں کو متنازعہ نہیں بلکہ اپنا حصہ سمجھتا ہے جسے پاکستان نے غیر قانونی طور پر قبضے میں لے رکھا ہے۔‘

ڈاکٹر فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انڈیا کو کشمیر سے متعلق تحفظات ہیں لیکن سی پیک منصوبے کا بڑا حصہ گلگت بلتستان کے علاقے سے ہی ہو کر گزرے گا جسے کشمیر سے مختلف طور پر دیکھا جاتا ہے، یہ ایک علیحدہ علاقہ ہے۔ ’اس منصوبے میں صرف ایک اکنامک زون پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور میں بنانے کی تجویز ہے۔‘

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر فدا محمد نشاد بھی ڈاکٹر فضل الرحمان کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان ہمیشہ سے ہی ایک آزاد اور مختلف علاقہ رہا ہے۔ ’کشمیر کے مہاراجہ نے اس علاقے کو 100 سال تک غلامی میں رکھا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق وہی موقف رکھتے ہیں جو پاکستان کی حکومت کا ہے اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے بھی خلاف ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کا علاقہ کسی صورت کشمیر کا حصہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطابق انڈیا کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان کو بھی پارلیمنٹ میں کشمیر کے لیے علیحدہ نشستیں رکھنی چائیں اور گللگت بلتستان کو مرکزی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ ’اس کے بعد انڈیا اور پاکستان مذاکرت کی بہتر پوزیشن پر ہونگے ورنہ انڈیا اس علاقے کو متنازعہ ہی سمجھتا رہے گا۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں میں اگرچہ ہمیشہ ریاست جموں اور کشمیر کا ہی ذکر آتا رہا لیکن جو علاقے تقسیم کے وقت کشمیر کے مہاراجہ کے قبضے یا کنٹرول میں تھے انھیں بعد میں انڈیا اور پاکستان دونوں نے جموں اور کشمیر کے تنازع کا حصہ تسلیم کیا۔ اس طرح باقاعدہ معاہدہِ کراچی کہلانے والی دستاویز میں گلگت اور بلتستان کو بھی اس متنازعہ خطے کا حصہ تسلیم کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saqlain Imam
Image caption اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان نے اس نقشے میں گلگت-بلتستان کو متنازعہ ریاست جموں اور کشمیر کا حصہ تسلیم کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 39 جو اپریل سنہ 1948 میں منظور ہوئی تھی، اس کے ذریعے اقوام متحدہ کا کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان (یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان) تشکیل دیا گیا تھا جس نے اُن نقشوں میں جموں اور کشمیر کے علاوہ گلگت اور بلتستان کو بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازعہ علاقوں میں شامل کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اس کمیشن کے زیرِ استعمال یہ نقشے اس بات کا قانونی اور دستاویزی ثبوت ہیں کہ گلگت اور بلتستان اُسی طرح پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازعہ علاقے ہیں جس طرح کہ جموں اور کشمیر ہیں۔ پاکستان گلگت اور بلتستان کو ناردرن ایجینسی بھی کہتا رہا ہے۔

اسی بارے میں