ہیپنوسس: کیا کسی کے دماغ پر اثر انداز ہو کر اسے لوٹا جا سکتا ہے؟

سلیم اور ندیم

’پاکستان میں دکانداروں کے پاس کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں، دن میں سات، آٹھ ہزار ہی ہاتھ آتے ہیں۔ سنگاپور میں 200 سے 300 ڈالر مل جاتے ہیں۔‘

یہ الفاظ کراچی میں پولیس کی حراست میں موجود سلیم کے ہیں۔

انھیں اور ان کے بیٹے ندیم کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو ’ہپنوٹائز‘ کر کے ان سے لاکھوں روپے لوٹ چکے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پولیس کو شکایت ملی کہ ایک گروہ دکان پر آتا ہے اور لوگوں کو ذہنی طور پر الجھا کر پیسے لے کر فرار ہو جاتا ہے۔

پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اور خاتون بغیر کسی اسلحے کے مختلف دکانوں میں موجود ہیں۔ وہ دکاندار کو پانچ ہزار کا نوٹ دیتے ہیں اور اس کے بعد خود ہی دکاندار کی دراز میں سے پیسے نکال لیتے ہیں۔

یہ سب دکاندار کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور وہ کچھ بھی نہیں کر پاتا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ہم اپنا دماغ بدل سکتے ہیں؟

’وہ کچھ عجیب ضرور ہے مگر‘

مرتے وقت دماغ میں کیا ہوتا ہے؟

تاہم سلیم کا کہنا ہے کہ وہ ہاتھ کی صفائی دکھاتا ہے، کوئی جادو وغیرہ نہیں کرتا۔

اس نے ہم سے پچاس پچاس کے چار نوٹ لیے اور واپس کیے اور کہا دیکھو، تو اس میں پچاس کا ایک نوٹ کم تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ یہ صفائی کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کراچی کے ایس ایس پی شرقی غلام اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ یہ گروہ لوگوں کو باتوں میں لگاتا تھا اور اسی دوران ان کا ذہن کسی اور جانب راغب کر کے ہاتھ کی صفائی سے پیسے اور باقی اشیا چرا لیتا تھا۔ ان کے مطابق اس گینگ میں ایک عورت بھی شامل تھی۔ جب وہ کسی سنار کی دکان پر جاتے تو وہ خاتون آگے آگے ہوتی اور دونوں باپ بیٹا اپنا کام کرتے تھے۔

فیروز آباد پولیس نے سلیم اور ان کے بیٹے ندیم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ان کے ساتھ دیکھی جانے والی خاتون سلیم کی بہو بتائی جاتی ہیں، جو کہ اطلاعات کے مطابق ایران چلی گئی ہیں۔ سلیم نے بتایا کہ ان کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گروہ کے ممبران کے پاس پاکستان اور ایران کی دوہری شہریت ہے۔ ان کی آٹھ سے نو وارداتیں سامنے آئی ہیں جن میں ان پر 44 ہزار سے لے کر تین لاکھ روپے چوری کرنے کا الزام ہے۔

ایس ایس پی غلام اظفر نے بتایا کہ پاکستان کے علاوہ انڈونیشیا، سعودی عرب اور دبئی میں بھی یہ گروہ وارداتوں میں ملوث تھا۔

ہیپنوسس کیا ہے؟

مائینڈ سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر معیظ حسین کا کہنا ہے کہ ہیپ نوسز ایک مکمل سائنس ہے اس کو مختلف نام دیے گئے ہیں جن میں آرٹ آف پرسوئیشن (قائل کرنے کا فن)، آرٹ آف ڈسٹریکشن (چکمہ دینے کا طریقہ) اور نیورو لینگوسٹک پروگرام شامل ہیں۔

’دنیا کے نامور جادوگر کرس اینجل اور ڈیوڈ کاپرفیلڈ نے اس فن کی آبیاری کی ہے۔ اس میں آپ کی توجہ کسی اور چیز پر لے جائی جاتی ہے اور اس دوران وہ کام کر لیا جاتا ہے جس پر آپ کا شعور اور توجہ نہیں ہوتی۔ اس آرٹ کو نیورو لینگوسٹک پروگرام کہتے ہیں جو ہیپنوسس ہی کی ایک قسم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نامور امریکی فنکار کرس اینجل بھی ایسے ہی کرتب دکھاتے ہیں

امریکہ، جکارتہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک میں ایسے حربوں کے ذریعے دکانوں سے لوٹ مار کے علاوہ خواتین کے جنسی استحصال کے بھی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر معیظ حسین کا کہنا ہے کہ نیورو لینگوسٹک پروگرام کا کئی ممالک میں منفی استعمال ہو رہا ہے۔

’آپ کسی شخص کے ذہن میں اپنی بات ڈال دیں گے اس کو محسوس ہو گا کہ یہ بات اس کی اپنی ہے۔ مثلا آپ نے پیسے اٹھا کر دے دیے اس شخص کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ میں نے پیسے دینے ہیں اور وہ خود ہی پیسے دے دیتا ہے۔‘

نیورو لینگوسٹک پروگرام کا مثبت استعمال

نیورو لینگوسٹک پروگرام کا استعمال دماغی اور اعصابی امراض کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر معیظ حسین کا کہنا ہے کہ درد سے نجات، کسی فوبیا سے چھٹکارے، خوف، اضطراب، بے چینی اور اعتماد کی کمی کا علاج اس تکینک سے کیا جاتا ہے۔

اگر ذاتی طور پر کوئی شخص سیکھتا ہے تو وہ کسی سے اپنی بات منوانے میں آسانی ہوتی ہے جیسے ماں باپ بچوں کو کوئی بات کہیں تو وہ مان جائیں۔

نیورو لینگوسٹک پروگرام اور جرائم

امریکی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی نیورو لینگوسٹک پروگرام کا استعمال کرتا ہے۔

قانون ایف بی آئی کو بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان اور ہنگامہ آرائی کے واقعات میں گواہوں اور متاثرین پر یہ تکنیک استعمال کرنے کی مشروط اجازت دیتا ہے۔

پاکستان میں پولیس سمیت کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ اس کا استعمال نہیں کرتا کیونکہ ملکی قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔

نیورو لینگوسٹک پروگرام سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟

کئی کمپنیاں اپنے کلائینٹ پر اثر انداز ہونے کے لیے نیورو لینگوسٹک پروگرام کا استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی بعض ادارے اس کی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر معیظ حسین کا کہنا ہے کہ اس میں پوری باڈی لینگوئیج شامل ہوتی ہے۔ اس میں کچھ ایسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جس سے سننے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ میرے اپنے ذہن کے الفاظ ہیں۔

’جیسے کسی دوسری زبان کی فلم پر وائس اوور کی جاتی ہے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے لب و لہجہ اسی کا ہے۔‘

نیورو لینگوسٹک پروگرام سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیکھنے والا شخص تعلیم یافتہ ہو۔ اسے سیکھنے کے لیے ایک ہفتے کی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا اس سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے؟

پاکستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں خواتین گھروں میں آ کر گھر والوں کے سامنے پیسے یا زیوارات لے جا چکی ہیں۔

ڈاکٹر معیظ حسین کا کہنا ہے کہ اس آرٹ سے بچا جاسکتا ہے۔

جب بازار یا دکان میں کوئی اجنبی شخص آپ سے بات چیت کر رہا ہو تو آپ اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملیں جیسے کہ سردی میں ہاتھوں کو گرمائش کے لیے ملا جاتا ہے تو ایسا کرنے سے نیورو لینگوسٹک پروگرام کا اثر نہیں ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں