پنجاب پولیس: کیا پی ایس پی اور رینکر افسران کے درمیان طبقاتی فرق کارکردگی میں رکاوٹ ہے؟

پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1988 میں جب صوبہ پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے تو اس وقت پنجاب پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پروموشن کا قانون متعارف کروایا گیا تھا

پنجاب کے مختلف شہروں سے حالیہ دنوں میں پولیس تحویل میں ملزمان کی ہلاکت اور شہریوں سے پولیس کے خراب رویے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن سے پولیس اصلاحات کے تمام تر وعدوں اور دعووں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ریٹائرڈ پولیس افسران کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں موجودہ امن وامان کی صورتحال اور پولیس کی تحویل میں ملزمان کی ہلاکت کے واقعات کی ایک وجہ پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے افسران اور رینکر افسران کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات کا فقدان ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کے موجودہ پولیس نظام میں نقائص موجود ہیں جس کی وجہ سے پولیس میں دو طبقے پیدا ہوگئے ہیں، یعنی ایلیٹ کلاس پی ایس پی اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے رینکر۔

یہ بھی پڑھیے

کیا عدالتی کمیشن سے صلاح الدین کو انصاف مل سکتا ہے؟

کیا عقوبت خانے تھانوں سے باہر منتقل ہو رہے ہیں؟

کیا یہ نیا تفتیشی سکول پولیس تشدد ختم کر پائے گا؟

پاکستان میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک بھرتی کا طریقہ کار مختلف ہے جبکہ پولیس سروس گروپ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس برطانیہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پولیس میں بھرتی ہونے کا ایک ہی طریقہ کار ہے اور وہاں پر لوگ کانسٹیل بھرتی ہوتے ہیں اور چیف کانسٹیبل کے عہدے تک پہنچ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کے مطابق پنجاب پولیس میں پی ایس پی اور رینکر افسران کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات کا فقدان ہے

پنجاب پولیس کے سابق ایس ایس پی چوہدری سلمان کا کہنا ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی تھانے میں تعینات رینکر اہلکار اگر کوئی غیر قانونی حرکت کرے یا تفتیش کے دوران کسی ملزم کی ہلاکت ہو جائے تو اس کے انچارج اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی)، جو کہ ایک پی ایس پی افسر ہوتا ہے، کو اس بارے میں علم نہ ہو۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ جب وہ سروس کے دوران مختلف تھانوں میں تعینات تھے تو ان کے سرکل کے ایس پی نے تھانے میں ہونے والی کارروائیوں کی مخبری کے لیے اپنے کارندے تھانوں میں چھوڑ رکھے تھے جو دن بھر تھانے کے معاملات کے بارے میں اے ایس پی کو آگاہ کرتے تھے۔

خود بھی رینکر کیڈر سے تعلق رکھنے والے چوہدری سلمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں ملزمان پر تشدد کے واقعات میں پانچ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور ان واقعات کے جو مقدمات درج کیے گئے ہیں، ان میں کسی ایک مقدمے میں بھی کسی پی ایس پی افسر کو نامزد نہیں کیا گیا جبکہ ان مقدمات میں نامزد رینکرز چار سے پانچ سال تک جیلوں میں رہے اور بعد ازاں مقتول کے ورثا سے معاملات طے ہونے کے بعد وہ ضمانتوں پر رہا ہوئے۔

چوہدری سلمان کا کہنا تھا کہ ان کے تجربے کے مطابق پی ایس پی افسران میں احساس برتری پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی رینکر کی تجویز کو سننا اپنی توہین سمجھتے ہیں جبکہ اس کے برعکس متعدد پی ایس پی افسران اپنا پراپرٹی کا کاروبار انھی رینکرز کی مدد سے ہی کرتے ہیں اور اس ضمن میں اُنھیں ان رینکرز سے زیادہ کوئی بھی ایماندار دکھائی نہیں دیتا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی رینکر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کا کریڈٹ بھی پی ایس پی افسران لے لیتے ہیں۔ پر اگر وہ کوئی غلط کام کرے جس پر انگلیاں پی ایس پی افسر پر بھی اُٹھ رہی ہوں تو وہ فوری طور پر اس رینکر کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے جس نے اپنے افسر کے لیے غیر قانونی کام بھی کیے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک بھرتی کا طریقہ کار مختلف ہے

اُنھوں نے کہا کہ پی ایس پی افسران کے پاس پولیسنگ کا زیادہ تجربہ نہیں ہوتا اور پاکستان میں 90 فیصد جرائم نان پی ایس پی افسران دیکھتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ عوام کو بھی ڈیل کرتے ہیں جن میں کانسٹیبل سے لے کر انسپیکٹر رینک کے پولیس اہلکار شامل ہوتے ہیں۔

چوہدری سلمان کے مطابق پولیس آرڈینینس سنہ 2002 ہو یا پولیس میں اصلاحات لانے کا عمل، اس معاملے میں کبھی بھی رینکرز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی رائے طلب کی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے سابق ایس ایس پی راجہ ناصر نواز کے مطابق پی ایس پی افسران کا رینکرز افسران کے ساتھ رویہ ان دو طبقوں کے درمیان ایک بہتر پیشہ ورانہ تعلق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں جس میں پی ایس پی افسران نے اپنے ماتحتوں کے ساتھ بدکلامی کی جسے رینکر افسر برداشت نہ کرسکے اور اُنھوں نے نوکری کی پروا کیے پی ایس پی افسران پر حملہ کردیا اور وہاں پر موجود پولیس افسران نے بیچ بچاؤ کروایا۔

اُنھوں نے کہا کہ ساہیوال میں ایلیٹ فورس کے محکمے کے اہلکاروں کے ہاتھوں چار افراد کی ہلاکت کا مقدمہ بھی رینکرز کے خلاف ہی درج کیا گیا تھا جبکہ اس ایس پی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا جس کے حکم پر ان پولیس اہلکاروں نے ان کار سوار افراد کا پیچھا کیا تھا۔

پنجاب کی حکومت نے اس واقعے میں پی ایس پی افسر کے خلاف صرف یہی کارروائی کی تھی کہ اس محکمے کے ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر کو کچھ عرصے کے لیے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور پھر اُنھیں دوبارہ اسی عہدے پر تعینات کردیا گیا تھا۔

Image caption صوبہ پنجاب کے36 اضلاع میں سے 34 اضلاع میں پولیس سروسز گروپ کے افسران کو بطور ڈسٹرکٹ پولیس افسر تعینات کیا گیا ہے

اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی رینکر ایس پی کے عہدے پر پہنچ جائے تو اس کا ماتحت اے ایس پی اسے کسی طور پر بھی اپنا افسر تسلیم نہیں کرتا۔

ناصر نواز کا کہنا تھا کہ اگرچہ ماتحت اے ایس پی یہ بات اپنی زبان سے تو نہیں کہتا لیکن اس کے رویے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نے ایک رینکر کو اپنا باس تسلیم نہیں کیا۔

صوبہ پنجاب کے36 اضلاع ہیں جن میں سے 34 اضلاع میں پولیس سروسز گروپ کے افسران کو بطور ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) تعینات کیا گیا ہے جبکہ صرف تین اضلاع میں رینکرز کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں بھکر کے ڈی پی او فیصل گلزار، بہاولپور کے امیر تیمور اور منڈی بہاؤالدین کے ڈی پی او ناصر سیال شامل ہیں۔

پنجاب پولیس میں ایک بھی نان پی ایس پی افسر نہیں ہے جسے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہو۔ تین سال قبل آخری مرتبہ ایک نان پی ایس پی افسر اختر لالیکا کو راولپنڈی رینج میں آر پی او تعینات کیا گیا تھا۔

اختر لالیکا کو ایسے حالات میں آر پی او لگایا گیا تھا جب راولپنڈی میں یومِ عاشور کے جلوس کے دوران شیعہ سنی فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے راولپنڈی کے کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور فوج طلب کرلی گئی تھی۔ ایسے حالات میں کوئی بھی پی ایس پی افسر اس عہدے پر تعینات ہونے پر راضی نہیں تھا۔

لیکن پنجاب پولیس کے سابق ایڈیشنل آئی جی رائے الطاف اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں کہ پی ایس پی اور رینکرز کے درمیان پیشہ ورانہ تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری جتنی رینکرز پر آتی ہے، اتنی ہی پی ایس پی افسران پر بھی ہوتی ہے اور اگر پی ایس پی افسر اپنے ماتحت رینکرز کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرے گا تو پھر وہ اس سے امن وامان قائم رکھنے کے حوالے سے کسی کام کی امید بھی نہ رکھے۔

رائے الطاف اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پولیس میں انسپکٹر رینک تک کا افسر کسی بھی پی ایس پی افسر سے زیادہ پولیس کو جانتا ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے رضا خان کا کہنا ہے کہ پولیس رولز میں ایس پی اور اس کے اوپر والے رینک میں ترقی کے لیے پی ایس پی اور نان پی ایس پی میں ترقی کی شرح 60 فیصد اور 40 فیصد ہے۔

خود بھی نان پی ایس پی افسر رہنے والے رضا خان کا کہنا ہے کہ ایک سازش کے تحت پروونشل پولیس اہلکار یعنی رینکرز کو آگے نہیں آنے دیا جا رہا۔

واضح رہے کہ سنہ 1988 میں جب صوبہ پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے تو اس وقت پنجاب پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پروموشن کا قانون متعارف کروایا گیا تھا، جس کا مقصد ان فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے والے پولیس اہلکاروں کو انعام کے طور پر اگلے رینک میں ترقیاں دینا تھا۔

یہ قانون سنہ 2006 تک جاری رہا اور اس عرصے کے دوران 21 انسپکٹروں کو ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ بات پی ایس پی افسران کو ناگوار گزری تھی جنھوں نے اس اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کردیا تھا۔

اسی بارے میں