وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اور جوتے نے کتاب کو دھکا دے دیا

بات سے بات

بی بی سی اردو کی ایک مختصر بصری رپورٹ میں معروف بلوچی لکھاری اور دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری شکوہ کر رہے ہیں کہ کوئٹہ کی مشہور جناح روڈ کبھی کتابوں کی دکانوں اور علمی و سیاسی مباحثوں کو فروغ دینے والے ریستورانوں کا مرکز ہوا کرتی تھی ۔اب وہ چائے خانے غائب ہو گئے اور ان کے باہر چکن تکہ لٹک گیا۔

بقول شاہ محمد مری کتابوں کی دکانوں کو جوتے کے کاروبار نے دھکا دے کر میز پر خود کو سجا لیا۔ کتاب اور بحث کا کلچر ٹھکانے لگا تو سچ، رواداری اور انسانی اقدار بھی رخصت ہونے لگیں۔ انھیں واپس لانا ہے تو کتابی کلچر واپس لانا ہو گا۔

پشاور صدر میں چند برس پہلے تک کتابوں کی چار دکانیں تو میں نے گنی ہیں۔ سنا ہے اب بھی ایک باقی ہے۔

دو کروڑ سے زائد آبادی کے کراچی کے کاروباری قلب صدر میں کتابوں کی 10 دکانوں کے اندر خود میں نے قدم رکھا ہے۔ اب ریگل پر صرف ایک دکان باقی ہے جس کا محاصرہ گنے کے جوس کے ٹھیلوں اور الیکٹرانکس کی دکانوں نے کر رکھا ہے۔

وسعت اللہ خان کے دیگر کالم پڑھیے

آئین کھانستا ہوا بابا ہے

عالمِ اسلام پر رونا نہیں ہنسنا سیکھیے

عالمی برادری کس ایڈریس پر رہتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جس کتاب بین کے پاس پیسے کم ہوں اس کی رسائی ریگل کی فٹ پاتھ، فرئیر ہال کے اتوار بازار، ناظم آباد چورنگی پر ایستادہ واحد ٹھیلے اور یونیورسٹی روڈ پر ایک کھلے میدان میں غیرقانونی طور پر قائم چند کتابی کیبنوں تک ہے۔

یہاں زیادہ تر وہ پرانی کتابیں ملتی ہیں جن کے مالکوں کی اولاد، باپ کی آنکھ بند ہونے کے تیسرے دن ہی، کسی کتابی کباڑی کو فون کر دیتی ہے کہ آؤ اور سب کوڑیوں کے دام لے جاؤ۔

جس خوشحال کو پیسے کی چنتا نہ ہو اور نئی اور مہنگی کتابیں پڑھنے کا شوق بھی ہو اس کے لیے کراچی میں صرف ایک ملک گیر اشاعتی ادارے کے چند شو روم یا پھر جدید کمرشل مالز یا پنج ستارہ ہوٹل میں انگریزی کتابوں کی دو، تین دکانیں حاضر ہیں۔ وہاں ڈسکاؤنٹ نہ ملنے کی وجہ سے کنگلے کتابی کیڑوں کو گھسنے کی کم ہی جرات ہوتی ہے۔

کتابوں کو کم آمدنی والے قارئین و طلبا کے لیے بچانے کی آخری لڑائی غالباً کراچی کا اردو بازار، لاہور و اسلام آباد کے چند ناشر و کتب فروش، ایک آدھ سرکاری ادارہ اور پائریٹ پبلشرز لڑ رہے ہیں۔ مگر کب تک؟

اس حالت میں کتابی میلوں اور نمائشوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد بھی غنیمت جانیے۔

ایسے دور میں اب ہم جیسوں کو بھی کتابی نوحہ گری اور دانشورانہ ریں ریں بند کر دینی چاہیے۔ مال وہی بکتا ہے جس کی کھپت ہو۔ اب موبائل فون، الیکٹرونک گیجٹس اور کمپیوٹر گیمز سافٹ وئیرز کی خرید و فروخت کا دور ہے۔

مباحثوں کے امین سستے چائے خانوں کے بجائے برگر و پیزا شاپس، سجی ہاؤسز، جوس اور چکن تکے کا زمانہ ہے۔ وہاں آپ بیٹھتے ہیں، کھاتے ہیں اور کھانا ختم ہوتے ہی بل ادا کر کے نکل لیتے ہیں۔

بیرے اور جگہ کے منتظر اگلے غول کی گھورتی چھیدتی نگاہیں آپ کو منٹ بھر بھی فالتو نہیں بیٹھنے دیتیں۔

ایسے میں فکری بحث کے نام پر گھنٹوں بیٹھنے کی روایت کو رونے سے کیا حاصل؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب روایتی چائے خانوں کی جگہ کوئٹہ پیشن ہوٹل ٹائپ انڈے پراٹھے چائے کے شبینہ ڈھابے پائے جاتے ہیں۔

وہاں ڈی پولیٹسائز نوجوان کیرم کھیلتے ہیں، باس کی برائیاں کرتے ہیں، اگنور کرنے والی لڑکیوں کے کردار کا باآوازِ بلند ایکسرے سمجھاتے ہیں، گلیارا مذاق چلتا ہے اور رات کے پچھلے پہر تھک ہار کے موٹر سائیکل کو ایڑ لگا یہ جا وہ جا۔ کیونکہ اگلے دن پھر ضروری ہجوم کا حصہ بننا ہے۔

غریب و نیم متوسط طبقے کی دسترس سے سینما کب کا نکل چکا۔ پاؤنڈ اور ڈالر کے بھاؤ نئی انگریزی کتاب کی خریداری کی لگژری بھی اشرافیہ کی گود میں جا بیٹھی۔

کیا باقی 21 کروڑ 50 لاکھ جیو جنتوؤں کو سیاسی تہذیبی شعور دینے کے لیے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس، فواد چوہدری کے ٹویٹ، فرشی سلام میں جٹے نیوز چینلز، پارلیمانی دھما چوکڑ، اندھیرے میں تیر چلانے والے خارجہ پالیسی باز ریٹائرڈ و حاضر مبصرین اور جغرافیہ و تاریخ سے نابلد اینکرز وغیرہ کافی نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب ہدف قوم کے بجائے ہجوم یا ریوڑ تیار کرنا ہو تو پھر کتاب کی گنجائش نہیں بچتی۔

کتاب سوال کو جنم دیتی ہے، کتاب ذہن کھولتی ہے۔ ہمیں اب دونوں کی ہی ضرورت نہیں۔ دونوں ہی کب کے آؤٹ سورس ہو چکے۔

شہر میں کس کی خبر رکھیے، کدھر کو چلیے

اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے، گھر کو چلیے (نصیر ترابی)

اسی بارے میں